استعفیٰ نہیں ’’ اصلاحات ‘‘ پلیز

استعفیٰ نہیں ’’ اصلاحات ‘‘ پلیز
استعفیٰ نہیں ’’ اصلاحات ‘‘ پلیز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

معروف شاعر وسیم بریلوی کا ایک شعر یاد آگیا ، وہ کہتے ہیں کہ :
لگا ہوا ہے پروں کی وہی نمائش میں
جو کہہ رہا تھا کہ اُڑنا مجھے پسند نہیں
موجودہ وزیر اعظم عمران خان جب تک اپوزیشن میں رہے تب تک وہ حکومتی اداروں اور نمائندوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ،مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں پاکستان کے اندر کوئی بھی واقعہ رونما ہوا تو عمران خان نے مائیک پکڑا اور فوراً تقاریر جھاڑنی شروع کر دیں ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تو عمران خان نے کہا کہ پہلے وزیر اعظم ، پھر وزیر اعلیٰ اور اُن کے ساتھ ساتھ وزیر قانون پنجاب ، آئی جی پنجاب اور اُن تمام آفیسرز کو استعفیٰ دینا چاہیئے جو اِس سانحہ کے ذمہ دار ہیں ،مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن آپریشن میں حصہ لینے والے آ ر پی او لاہور سمیت تمام پولیس آفیسرز کو معطل جبکہ وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا استعفیٰ لے لیا گیاتھا ۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں جو تقریر کی وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ساہیوال کے گرد گھومتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جناب اسپیکر میں نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی غلط بیانی پر ایک وضاحت پیش کرنی ہے آپ کی اجازت کے ساتھ ، وہ یہ ہے جناب اسپیکر کہ سانحہ ساہیوال کے اُوپر کل پنجاب حکومت کے وزراء نے اور وفاق نے بھی یہ کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ 72گھنٹے میں کل شام جو گزر گیا سامنے لائی جائے گی لیکن وہ سامنے نہیں لائی گئی ،

دوسری بات یہ کہی گئی کہ اس اندوناک سانحہ کے نتیجے میں بعض افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور بقول پی ٹی آئی حکومت پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہواہے ایک وعدے کو پورا کیا گیا اور افسران کو 72گھنٹے میں علیحدہ کر دیا گیا ،اور پھر حکومتی نمائندوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مثال دی ،شہباز شریف نے کہا کہ میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن یقیناً ایک دلخراش واقعہ تھا اس میں کوئی شک نہیں ،ہماری حکومت نے اُسی رات آر پی او لاہور لے کر تمام پولیس افسران کو فی الفور معطل کر دیا تھا ،ہم نے جے آئی ٹی نہیں بنائی تھی بلکہ ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا تھا ،جناب اسپیکر ’’ سلیکٹڈ ‘‘ وزیر اعظم بیٹھے ہیں جو آج ساڑھے تین ماہ بعد اسمبلی میں تشریف لائے ہیں انہیں یاد آ گیا کہ اجلاس میں جانا ہے ،

انہی کی زبان میں میں وہ الفاظ دہرا دیتا ہوں ، انہوں نے کہا تھا کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر شہباز شریف کواستعفیٰ دینا چاہیئے اور رانا ثنا اللہ کو گرفتار ہونا چاہیئے ، جناب اسپیکر رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر توقیر نے 48گھنٹے کے اندر انسانیت کی خاطر از خود اپنے استعفے پیش کر دیئے تھے ،پنجاب میں آج جو نظام ہے اور پنجاب کے جو وزیر اعلیٰ ہیں وہ وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر کوئی کام کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ،وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر وزیر اعلیٰ پنجاب ایک کاغذ تک نہیں ہلا سکتے ،وٹس ایپ پر ہر کام کی اجازت لی جاتی ہے ،جناب اسپیکر میں آج یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان کی جو منطق تھی اُس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو پہلے استعفیٰ دینا چاہیئے اور اُس کے بعد عثمان بزدار کو استعفیٰ دینا چاہیئے ۔

شہباز شریف ان خیالات کا اظہار کرکے بیٹھ گئے اور اجلاس میں شیم شیم کی آوازیں سنائی دینے لگ پڑیں ۔ شہباز شریف کو ان خیالات کا اظہار کئے ہوئے آج کتنے دن ہو گئے موجودہ حکومت کے کسی نمائندے نے کوئی استعفیٰ نہیں دیا ۔موجودہ حکومتی نمائندوں کی ایک بات جو سب کو حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کام یا وعدے کے حوالے سے بات کی جائے تو جواب میں موجودہ حکومتی نمائندے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے کیا کچھ نہیں کیا تھا ؟ ارے بھائی اگر موجودہ حکومت نے بھی وہی کچھ کرنا ہے جو سابقہ حکومت نے کیا تھا تو اُن سے اقتدار لینے کی کیا ضرورت تھی ، نیا پاکستان بنانے کا بہانہ کیوں بنایا گیا ؟ ڈھیروں وعدوں کے انبار عوام کے سامنے کیوں لگائے گئے ؟

اگر وہی کرنا تھا جو سابقہ حکومت نے کیا تھا تو اتنا جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اب کوئی کہتا ہے کہ آپ نے توکہا کہ نئے پاکستان میں یہ نہیں ہوگا ، ایسا نہیں ہونے دیں گے ، ہم یہ کریں گے ہم وہ کریں گے تو جواب ملتا ہے کہ مایوس نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ، غریب عوام کب تک انتظار کرے گی ؟ میرا خیال ہے کہ کہ غریب کو اپنی موت تک تو ضرور انتظار کرنا پڑے گا ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی یقین دہانی کے مطابق سانحہ ساہیوال کے حقائق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ کی شکل میں تین دن میں قوم کے سامنے لائے جانے تھے لیکن گزشتہ روز جے آئی ٹی کے سربراہ محض ایک ابتدائی رپورٹ پیش کرسکے جس سے اس ناقابل فہم کارروائی کے تضادات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں جے آئی ٹی کے سربراہ نے یہ ابتدائی رپورٹ اس وضاحت کے ساتھ پیش کی کہ اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے کم از کم تیس دن کی مدت درکار ہے لیکن صوبائی وزیر قانون نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسی نامکمل رپورٹ کی بنیاد پر سی ٹی ڈی کے آپریشن کو سو فی صد درست قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ مظلوم خاندان کے سربراہ خلیل اور اس کی بیوی اور بچی کا قتل جرم تھا، خلیل بے گناہ تھا اور سی ٹی ڈی کے متعلقہ اہلکار قتل کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی بنا پر پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت کارروائی ہوگی جبکہ دو متعلقہ ایڈیشنل آئی جی، ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی کو فارغ اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کو معطل کردیا گیا ہے۔

وزیر قانون کی جانب سے آپریشن کے سوفی صد درست ہونے کے دعوے کی بنیاد ڈرائیور ذیشان کا دہشت گرد باور کیا جانا ہے لیکن ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ وزیر موصوف ایک طرف ذیشان کو مجرم بتاتے اور دوسری طرف یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مزید تحقیقات کرے گی۔حالانکہ جتنے پْرزور انداز میں وہ آپریشن کو مکمل طور پر درست ٹھہرارہے ہیں اس کا تقاضا تھا کہ ذیشان کے دہشت گرد ہونے کے یقینی ثبوت بھی اس دعوے کے ساتھ ہی قوم کے سامنے پیش کردیتے لیکن کم از کم تادم تحریر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت پولیس اور حکام سامنے نہیں لاسکے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن اورساہیوال میں جانے والے واپس نہیں آئیں گے ، لیکن ن سانحات میں اگر پولیس افسران کو علیحدہ کرنے یا معطل کرنے کی بجائے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اور پولیس میں اصلاحات کی جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ علیحدہ اور معطل کئے گئے افسران کچھ عرصہ بعد واپس اپنی اپنی جگہوں پر دوبارہ سے تعینات ہوں گے اور اُس دن میں بھی دوبارہ سے ایک کالم لکھوں گا اور سب کو بتاؤں گا کہ یہ وہ افسران جو بغیر سزا کے دوبارہ اپنی سیٹوں پر آن براجمان ہوئے ہیں ۔

مزید :

رائے -کالم -