کرپشن میں اضافہ

کرپشن میں اضافہ

  



ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دُنیا کے 180 ممالک میں کرپشن کی صورتِ حال سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا، کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی)میں 2018ء میں پاکستان کا سکور 33تھا جبکہ 2019ء میں یہ کم ہو کر 32 ہو گیا، جس کی بدولت پاکستان کارینک جو 2018ء میں 180 میں سے 117 تھااب 120ہو گیا ہے۔مشکل تو یہ ہے کہ گزشتہ دس سال میں پہلی مرتبہ پاکستان کا رینک کرپشن انڈیکس میں اوپر جانے کی بجائے نیچے آگیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کے قیام کا بنیادی مقصد ہی دُنیا کے مختلف ممالک میں کرپشن کی نشاندہی کرنا اور اس کے خاتمے کے لئے سفارشات پیش کرنا ہے۔ یہ تنظیم 1993ء میں جرمنی کے شہر برلن میں قائم ہوئی تھی اور اب سو سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن سے متعلق اپنی پہلی رپورٹ 1995ء میں شائع کی تھی، اس وقت فہرست میں 41 ممالک شامل تھے اور پاکستان کا نمبر39 تھا، اس زمانے میں کرپشن ماپنے کا پیمانہ تھوڑا مختلف تھا، کرپشن انڈیکس دس پوائنٹ پر مشتمل تھا اور پاکستان کا سکور 2.25 تھا،1996ء میں حالات بد تر ہو گئے۔1997ء سے 1999ء تک قدرے بہتری آئی لیکن جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعدپھر معاملہ تنزلی کی طرف چلا گیا۔وہ بھی کرپشن کے خاتمے کے بخار اور احتساب کے شوق میں مبتلا تھے،لہٰذا انہوں نے 1999ء میں نیب آرڈیننس نافذ کر دیا،جس میں اب ترامیم کی جا رہی ہیں،اس کی کارکردگی کیا رہی اور کیسی رہی، اس پر وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہتی ہے۔2012ء میں کرپشن پرسیپشن کا طریقہ کار بدل گیا اور کرپشن انڈیکس 10کی بجائے 100 پوائنٹس پر پھیل گیا، اس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی بر سر اقتدار تھی اورپاکستان کا سکور 27 تھا۔2013ء میں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالا تو سکور ایک پوائنٹ اضافے کے ساتھ28 ہو گیا اور 2017ء کے خاتمے تک سکور میں 5نمبروں کی بہتری آ چکی تھی۔یہ وہی دور حکومت تھا جب عمران خان اُٹھتے بیٹھتے کرپشن کارڈ کھیل رہے تھے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بین الاقوامی سطح پر مستند مانی جاتی ہے، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی اس رپورٹ کو وزن دیتے ہیں،اور تو اور وزیراعظم عمران خان بھی پچھلے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی کرپشن ثابت کرنے کے لئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس ہی کا سہارا لیتے رہے ہیں۔یہ رپورٹ بہت اہمیت کی حامل اس لئے بھی ہے کہ اس کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کاکسی بھی ملک پر اعتماد کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کسی ایک سروے یا رائے کی بنیاد پر مرتب نہیں کی جاتی،بلکہ تیرہ اہم بین الاقوامی اداروں کی آراء کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد جاری کی جاتی ہے،پاکستان کے معاملے میں آٹھ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ زیادہ معنی رکھتی ہے جن میں ورلڈ بینک کنٹری پالیسی اینڈ انسٹیٹیوشنل اسیسمنٹ، ورلڈ اکنامک فورم کا ایگزیکٹو اوپینئن سروے، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کا رول آف لاء انڈیکس ایکسپرٹ سروے،اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کنٹری رسک ریٹنگ، ویرائٹیز آف ڈیموکریسی (وی ڈیم)، برٹیلسمن فاؤنڈیشن ٹرانسفارمیشن انڈیکس، پولیٹیکل رسک سروسز انٹرنیشنل اور گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگز شامل ہیں۔اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کی اکتوبر 2019ء میں کرپشن سے متعلق شائع ہو نے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان 99 ویں پوزیشن سے 101 پر چلا گیاتھااورورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لاء انڈیکس2019ء کے مطابق بھی پاکستان ایک پوزیشن نیچے آیا تھا۔

اس موقع پرٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل،پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے یہ تبرہ کرنا ضروری سمجھا کہ2019ء میں توکئی ممالک نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیااورکئی ترقی یافتہ ممالک نے بھی کم اسکور حاصل کیا، جن میں کینیڈا، فرانس، برطانیہ اورڈنماک شامل ہیں۔ساتھ ہی ان کی طرف سے نیب کی شان میں پڑھے جانے والے قصیدے کی بھی سمجھ نہیں آئی، کیونکہ رپورٹ میں تو نیب کا کوئی ایساذکرسرے سے موجود ہی نہیں ہے۔نیب کی کارکردگی جو بھی ہو، کوئی اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے، یہ بہر حال حقیقت ہے کہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں اس کا تذکرہ موجود ہی نہیں ہے۔ پاکستان چیپٹر کے سر براہ کے یہ ”فٹ نوٹس“ دلچسپی کا باعث بنے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں جاری ہوئی جب وزیر اعظم عمران خان ڈیووس میں بیٹھ کر تحریک انصاف کی حکومت کو شفاف ترین قرار دے رہے تھے۔ویسے بھی ہمارے وزیر اعظم نے ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر پاکستان میں بڑھتی کرپشن ہی کا ڈھول پیٹا ہے۔ ہر جلسے، ہر جلوس،ہر میٹنگ، ہرتقریر میں،بر سر اقتدار آنے سے پہلے اور بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ کبھی بھی، کہیں بھی پاکستان میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا تذکرہ کرنا نہیں بھولے، اس بات سے قطع نظر کہ موقع محل کی نزاکت کیا تقاضا کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے نظریے کے مطابق کرپشن ”اُم الامراض“ ہے، ان کا موقف یہی رہاکہ جب لیڈرٹھیک ہو تو نچلی سطح پر کرپشن اپنے آپ دم توڑ جاتی ہے تو پھر اب ایسا کیا ہوا؟دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما اس کے الٹ راگ الاپ رہے ہیں کہ کم از کم حکومت اور وزراء کے لیول پر تو کرپشن نہیں ہے، یہ تو نچلی سطح پر ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تو اطمینان کا اظہار بھی کیا کہ اس حکومت کا ڈیڑھ سال میں کوئی بڑاکرپشن سکینڈل سامنے نہیں ا ٓیا، اب سکینڈل سامنے نہیں آیا یاجو کیس سامنے آئے ان پر آنکھیں اور کان بند کر لئے گئے۔

ہمارے ملک کا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ یہاں کرپشن کا خاتمہ محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے،حزبِ اختلاف اہل ِ اقتدارکی اور ہر نئی آنے والی حکومت پچھلی حکومت کی کرپشن کی دہائیاں دیتی رہی ہے۔عمران خان نے توپاکستان میں کرپشن کا نعرہ اس حد تک بلند کیا کہ بہت سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اس ملک میں جس کے پاس بھی پیسہ ہے وہ یقینا ناجائز ذرائع ہی سے کمایا گیا ہے، جس نے عمران خان کے بیانیہ کی حمایت کی وہ تو شفاف اور ایماندار انسان ٹھہرا، لیکن اگر کسی نے ان سے اختلاف کی ”جرأت“ کی تو وہ لفافہ لینے والا،بد عنوان قرار پایا۔ جب سے عمران خان اقتدار میں آئے ہیں اپوزیشن اراکین نیب کی چھری کے نیچے ہیں، البتہ حکومتی حواریوں کا معاملہ مختلف رہا ہے۔اس وقت ہر کسی کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ جس کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا آخر اسی میں اضافہ کیسے ہو گیا؟ مطلب تو صاف ہے کہ حکومتی دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے، بدانتظامی و بد نظمی ان کو لے بیٹھی۔ کرپشن ایک بیماری تو ہو سکتی ہے لیکن واحد بیماری ہرگز نہیں ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کرپشن کو ختم کرنے کے لئے چنداہم سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں،جن میں سر فہرست مفادات کا ٹکراؤ ہے، عمران خان صاحب ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ اہل ِ اقتدار کو کسی قسم کی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہو نا چاہئے تاکہ مفادات کا ٹکراؤ پیدانہ ہو لیکن وہ خود ایسے لوگوں میں گھرے بیٹھے ہیں جو اپنے ذاتی کاروبارچمکانے میں مصروف ہیں۔اس کے علاوہ ان سفارشات میں سیاست میں پیسے کے استعمال کی روک تھام، مضبوط اور شفاف انتخابی عمل،لابنگ کی سرگرمیوں کوباقاعدہ نظام کے تحت چلانا، عام شہری کو با اختیار بنانا،ترجیحی نظام کا خاتمہ اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیاہے۔اگر ان تمام نکتوں پرایک حد تک بھی عمل کر لیا جائے تو اگلے سال تک معاملات میں بسا اوقات بہتری آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ یہ مت سوچیں کہ صرف ایک ہی نمبرتو کم ہوا ہے،کامیابی یا ناکامی کا تعین کرنے کے لئے ایک نمبر کافی ہوتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ