کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دے؟

کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دے؟
کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دے؟

  



جب ہم چھوٹے اور سکول میں پڑھتے تھے تو ہمارے بزرگ ہمیں اچھائی کی نصیحت کرتے اور بُرے کاموں سے روکتے تھے، حتیٰ کہ محلے کے بڑے بھی یہ حق رکھتے کہ کسی بھی لڑکے یا نوجوان کو روک ٹوک سکیں۔بہت اچھی طرح یاد ہے کہ ان دِنوں کہتے ”چودھویں صدی ہے، قیامت کی نشانیاں ہیں“،حتیٰ کہ اگر غیر معمولی سردی، گرمی یا بارش ہو جاتی تب بھی قیامت کی نشانیاں اور چودھویں صدی ہی یاد آتی تھی،لیکن آج ایسا دور ہے جب ایک سے ایک غیر معمولی واقعات، حادثات ہوتے اور موسم کی نیرنگیاں سامنے آتی ہیں، عجیب و غریب قسم کے جرائم ہوتے اور ظلم بڑھ گیا ہے،لیکن کوئی بھی چودھویں صدی اور قیامت کو یاد کرنے والا نہیں، حتیٰ کہ جرائم تو جرائم موسم بھی اپنے نئے نئے رنگ دکھا رہے اور انسان بھی غیر معمولی باتیں کرتے ہیں لیکن یہاں کسی کو بھی چودھویں صدی یاد نہیں آ رہی، ہم پرانے لوگ ہیں ا لئے ماضی کو بھی یاد کر لیتے ہیں،لیکن آج کا دور تو بالکل نرالا ہے، یہاں بڑے دلچسپ واقعات ہوتے اور دورِ جدید کے ”ارسطو“ نہ صرف اپنے اپنے نئے فارمولے نکال لیتے ہیں،بلکہ ان پر عمل بھی کرا لیتے ہیں، باقی چھوڑیئے،ہمارے خیبرپختونخوا کے بھائی یوسف زئی جو وزیر اطلاعات ہیں، وہ ماضی میں ہمارے اس پیشہ ئ صحافت سے وابستہ رہے ہیں، بڑی جدت والے ہیں اور ان کے فارمولے پر خوبصورتی سے عمل بھی ہو گیا اور ہم جیسے لوگ ان کی تجویز پر طنز و مزاح کا ماحول پیدا کرتے رہ گئے ہیں۔

پشاور اور پھر خیبرپختونخوا میں آٹے کا بحران پیدا ہوا اور نانبائی حضرات نے ہڑتال کی دھمکی دے کر روٹی کی قیمت پندرہ روپے کرا لی تو ان کے حوصلے بھی بلند ہو گئے اور اس مرتبہ جب پھر سے آٹے کا بحران پیدا کر دیا گیا تو وہ سب پھر ہڑتال پر چلے گئے اور مطالبہ کیا کہ روٹی کے نرخوں میں پانچ روپے اضافہ کیا جائے، اسی موقع پر یوسف زئی نے تجویز کیا کہ روٹی کی قیمت نہ بڑھائی جائے اس کا وزن کم کر دیا جائے۔ اس تجویز پر بڑی لے دے ہوئی اور ہم جیسے لکھاریوں نے بھی بہت مذاق اڑایا،لیکن وہ تو سنجیدہ تھے۔ ان کی اس بات کو مزاح بنانے کے لئے ان کی سابقہ تجویز کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو سالن میں دہی ڈالیں، کے باعث بھی نئی تجویز پر لطف لیا جاتا رہا،لیکن اس بار تو کمال ہی ہو گیا۔پشاور اور خیبرپختونخوا میں تو باقاعدہ معاہدہ ہو گیا۔ روٹی کا وزن15گرام کم کر دیا گیا اور قیمت سابقہ ہی برقرار رکھی گئی، ہڑتال ختم اور روٹی دستیاب ہو گئی، اب صارفین چیختے رہیں کہ روٹی پتلی ہو گئی، سوکھ جاتی ہے، کسی کو پرواہ نہیں، نانبائیوں کو وزن میں کمی کر کے منافع مل گیا، حکومت روٹی کی قیمت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ گزشتہ روز جب کوئٹہ اور بلوچستان کے دوسرے شہروں کی خبر دیکھی تو اور حیرت ہوئی کہ وہاں بھی یوسف زئی فارمولا اپنا لیا گیا اور روٹی کا وزن 50 گرام تک کم کر کے قیمت جوں کی توں برقرار رہی،لو جی! ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آ گیا،

ہمیں تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ محترم یوسف زئی اور بھی فارمولے وضع کر رہے ہوں گے اور اب وہ گوشت،دالوں اور سبزیوں کے نرخ کنٹرول کریں گے اور یقینا فارمولا یہ ہو گا کہ قیمت نہ بڑھائیں وزن کم کر دیں، یعنی پرانی قیمت پر ایک ایک ہزار گرام دال ملتی تھی، تو اب قیمت کم نہ کریں وزن کم کر کے ایک ہزار گرام کو800گرام کے برابر کر دیں، جیسا کہ دودھ والے کرتے ہیں، وہ 85سے 110روپے تک جو دودھ فروخت کرتے ہیں، سرکاری طور پر یا اعشاری نظام کے تحت اسے ایک لیٹر مانا جاتا ہے،لیکن حقیقت میں یہ جو ایک کلو کہہ کر دودھ دیا جاتا ہے اصل میں 800 یا 850 ملی لیٹر ہوتا ہے اور یوسف زئی والا فارمولا پہلے ہی کامیابی سے چل رہا ہے، لیٹر والے پیک دودھ کی قیمت تو134روپے فی لیٹر تک ہے۔ اللہ آپ کا بھلا کرے اس پر کسی نے نہیں کہا کہ قیامت کی نشانیاں ہیں کہ قیمت پوری اور وزن کم ہو تو اسے تول میں کمی کہیں گے، جو حدیث مبارک کے مطابق حرام اور دوزخ کی طرف پیش قدمی کا ذریعہ ہے۔ یہ تو حقیقی صورت حال ہے، اس میں مزاح کی بات نہیں کم تولنے والے کے لئے جو کچھ حقیقی ریاست مدینہ والے، آپ ؐ نے فرمایا اور بعدازاں اس پر عمل ہوا وہ ریاست مدینہ کا نام لینے والے کیا جانیں۔ اب یہ تو علماء کرام کی طرف سے غور اور پھر وضاحت ہونا چاہئے کہ اس طرح وزن کم کرنا کار ثواب ہے، یا قیامت کی نشانی؟ بات یہیں چھوڑتے اور ذرا آگے بڑھتے ہیں۔

آج نمازِ جمعہ کے دوران محترم خطیب نے جو تقریر کی اس کا موضوع ”تبدیلی“ تھا، ان کا استدلال تھا کہ تبدیلی انسان کے اندر سے ہو تو معاشرہ تبدیل ہوتا ہے، مدینہ والوں نے ایسا ہی کیا۔ سب اندر سے تبدیلی لائے، فرمانِ رسولؐ پر عمل ہوا تو قیصر و کسریٰ بھی ڈھے گئے، شکست کھا گئے۔ آج ہم ہیں کہ ٹرمپ کو طاقت اور امریکہ کو طاقتور ترین مان رہے ہیں، خیر چھوڑیئے اس کو یہیں تک رہنے دیں، خطیب محترم نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کا وہ عظیم واقع بھی دہرایا کہ ریاست مدینہ میں مساوات کیا تھی کہ حضرت عمرؓ جب بیت المقدس تشریف لے گئے تو غلام اور حضرت عمرؓ نے باری باری اونٹ کی سواری کی اور جب منزل پر پہنچے تو غلام اونٹ پر اور حضرت عمرؓ مہار تھامے ہوئے تھے اور یہ مخالفین کے لئے بہت ہی حیرت کی بات تھی، پھر انہی فاروق اعظمؓ نے فرمایا:”اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا ذمہ دار مَیں ہوں گا“۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ مرکزی امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اعتراض کیا اور کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ان کا تنخواہ گذارہ نہیں ہوتا، امیر جماعت کو اعتراض ہے کہ اگر ان کا گذارہ نہیں تو عام آدمی کی کیا کیفیت ہو گی،

ویسے ہم حزبِ اختلاف والوں کے اس سوال سے متفق ہیں کہ وزیراعظم جو بنی گالا میں 300 کنال کے ذاتی گھر میں رہتے ہیں، قوم کو بتائیں کہ ان کی تنخواہ، آمدنی اور اخراجات کیا ہیں تاکہ اندازہ ہو کہ ان کا گذارہ کیوں نہیں ہوتا؟ ویسے وزیراعظم سے یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر ان کا گذارہ لاکھوں میں نہیں ہوتا کہ وہ بنی گالہ میں خود اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے،دونوں صاحبزادے لندن میں اپنی والدہ کے پاس ہیں تو کیا ان کو یہ حساب آتا ہے کہ جو مزدور 700،800روپے روز کی دیہاڑی لیتا اور کبھی کام ملتا اور کبھی نہیں ملتا، اس کا گذارہ کیسے ہوتا ہو گا، جبکہ اس کے چار پانچ بچے بھی ہوں اور وہ مزدور، چپڑاسی، ہیلپر اور بیرا گھر کیسے چلائے گا، جس کی تنخواہ آٹھ سے دس ہزار روپے ماہانہ ہے اور حکومت کم از کم پندرہ ہزار تنخواہ کی پابندی بھی نہیں کرا پاتی، کیا وہ یہ بتائیں گے کہ دو تین ماہ تک جس صحافی کی تنخواہ 40ہزار تھی اور اب25ہزار رہ گئی ہے وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ کیسے اپنی سفید پوشی برقرار رکھتا ہو گا؟ یہ تو معمولی بات ہے۔ آج ہی ہمارے صاحبزادے نے ملز والوں کا پیک دیسی آٹا خریدا جو پانچ کلو کی پیکنگ میں ہے یہ اسے380روپے میں ملا۔ یوں 76 روپے فی کلو ہوا، جو دو ہفتے قبل250روپے کا تھا، 6روپے فی کلو اس کے نرخ بھی بڑھے۔ سوال صاحبزادے کا یہ ہے کہ ہم کم کھانے والے اور کل چار افراد ہیں ہمارا گذارہ بھی مشکل ہو گیا، جو مزدور مزدوری کرتا اور اس کا کنبہ بھی سات افراد پر مشتمل ہے،وہ کتنا آٹا کھاتا ہو گا اور اسے کتنا نقصان ہوا ہے؟ بس اتنی سی بات ہے، ذرا سوچیں تو ہمارے بزرگوں کا قول ہی سامنے آتا ہے”چودھویں صدی ہے کہ قیامت قریب ہے“۔

بات ختم کرنے سے قبل ہم جنرل عمر کے صاحبزادے اسد عمر صاحب سے گذارش کریں گے کہ وہ اپنے الفاظ پر غور کر لیں لاہور پاکستان کا دِل تھا اور ہے،خود ان کی جماعت کی اٹھان مینارِ پاکستان کے جلسے سے شروع ہوئی، ویسے تھوڑا صبر کر لیں جلدی ہی مان جائیں گے کہ لاہور ہی پاکستان کا دِل ہے۔

مزید : رائے /کالم