عوام اچھے دِنوں کا مزید سو سال انتظار کریں

عوام اچھے دِنوں کا مزید سو سال انتظار کریں
عوام اچھے دِنوں کا مزید سو سال انتظار کریں

  



مجھے تو لگتا ہے پاکستان کے غریبوں کو ابھی اچھے دِنوں کے انتظار میں سو سال اور درکار ہوں گے۔72 سال تو گزر گئے ہیں، اس نعرے کو سنتے ہوئے کہ غریبوں کے دن پھرنے والے ہیں۔ یہ کروڑوں لوگ ہیں تو بہت بڑی حقیقت، ان کے بغیر کام بھی نہیں بنتا، ان کے ووٹوں ہی سے اقتدار ملتا ہے،اِس لئے ان کا ذکر تو کرنا پڑتا ہے،زبانی جمع خرچ میں خیال تو رکھنا پڑتا ہے،مگر حقیقت میں ان کے لئے کچھ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا ہے۔عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت میں اگر شیطان و لٹیرے ہیں تو دوسری میں فرشتے اور محافظ موجود ہیں۔یہ اُن کی اتنی بڑی غلط فہمی ہے کہ سامنے کی حقیقتوں کو دیکھتے ہوئے بھی وہ ہر بار اُلٹ پھیر کے چکر میں آ جاتے ہیں۔ایک طرف مالدار مافیا ہے، جو متحد و یکجان ہے اور دوسری طرف بکھرے اور تقسیم در تقسیم عوام میں ……جن کے ہاتھوں میں سب کچھ ہے، وہ اقتدار پر بھی قابض ہو جاتے ہیں۔آٹا مہنگا ہو،مارکیٹ سے غائب ہو گیا، لوگ پیٹ بھرنے کے لئے دربدر پھرتے رہے،کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ یہ کاریگری کس نے دکھائی،اس کا فائدہ کس نے اٹھایا؟ جو حکومت میں ہیں،وہ اپنی معصومیت اور بے بسی کا واویلا کر رہے ہیں اور جو اپوزیشن میں ہیں، وہ طنز و تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں،حالانکہ اس بحران سے فائدہ دونوں طرف ہوا ہے،فلور ملیں دونوں طرف کے افراد کی ہیں اور سمگلنگ دونوں جانب کے شرکاء نے کی ہے۔

چینی مہنگی کرنے والوں نے تو بالکل ہی اس شرمناک حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ عوام کے مقابل اشرافیہ پوری طرح متحد ہے،کیونکہ چینی کے کارخانے کس کس کے نہیں ہیں؟یہاں سیاست میں لوگ آتے ہی اِس لئے ہیں کہ کارخانے لگائیں، مال بنائیں، بلیک مارکیٹنگ کریں، عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹیں، چونکہ اس حمام میں سب ننگے ہوتے ہیں، اِس لئے کوئی کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ اب بھلا چینی کی قیمت میں یکدم پندرہ روپے تک اضافے کی انکوائری کون کرائے گا؟ کارخانہ مالکان میں تو حکومتی پارٹی یا اُس کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ہاں اُس وقت یہ بات مانتے جب حکومتی و اتحادی جماعتوں کے کارخانہ دار یہ اعلان کرتے کہ وہ چینی مہنگی نہیں بیچیں گے، پرانے نرخوں پر ہی فروخت کریں گے، لیکن انہوں نے تو ایسا نہیں کیا۔اس کا مطلب ہے عوام کے خلاف سب کا ایکا ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن یا حزبِ اقتدار کی کوئی تقسیم موجود نہیں۔

آٹے کی کمیابی یا مہنگائی کا کھرا نکالا جائے تو یہاں بھی حکومت و اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے باہم شیرو شکر نظر آئیں گے۔وزیراعظم نے آٹے کے بحران کا جائزہ لینے کے لئے ایف آئی اے کے سربراہ کی نگرانی میں ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے۔ یہ کمیٹی آخر کیا کرے گی، کس پر ہاتھ ڈالے گی، آٹا برآمد کیسے ہوا تھا اور اب درآمد کیسے ہو گا،اس کا جائزہ کیسے لے گی؟ اس میں تو وزیراعظم سے لے کر وزراء تک سب کا ہاتھ ہے۔ اچانک بحران کیسے پیدا ہوا؟اس کا کھوج لگانا بھی اُس کے بس میں نہیں، کیونکہ سبھی کو خبرہے کہ یہ کام کس کا ہے؟…… وہ جو گندم اور آٹے کے اسٹاک سے باخبر تھے اور جنہیں معلوم تھا کہ کب لوہا گرم ہو گا اور چوٹ لگانی ہے۔بے چارے عوام صرف پسنے کے لئے رہ گئے ہیں۔اُن کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں۔سب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو رو ہے ہیں کہ کرپشن ایک پوائنٹ اوپر چلی گئی ہے، کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ عوام کی حالت کتنی نیچے جا چکی ہے۔ کرپشن کے تو اب کئی رنگ آ گئے ہیں، شاید ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل والوں کو بھی اس کی خبر نہیں۔یہاں راتوں رات قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوا لئے جاتے ہیں، اسے کاروبار کا نام دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ سیدھی سادی لوٹ مار ہوتی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل والے تو کرپشن اُسے کہتے ہیں کہ سرکار کا کتنا پیسہ لوٹا گیا ہے، انہیں عوام کی جیبوں پر ڈاکے سے کوئی غرض نہیں ہوتی، جبکہ پاکستان میں سب سے بڑا ڈاکہ اور سب سے بڑی کرپشن عوام پر مہنگائی کا بم گرا کر ہی کی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان بھی یا تو بہت بھولے ہیں یا پھر سچ بولنے سے کتراتے ہیں۔اُن کا یہ کہنا کہ2020ء پاکستان کی خوشحالی کا سال ہے، لطیفہ ہے یا سنگین مذاق…… ارے بھائی2020ء تو چل رہا ہے، اس کا ایک مہینہ اختتام کو پہنچ رہا ہے،ابھی تک تو اس ایک ماہ نے عوام کا رگڑا نکال دیا ہے، اُن کے منہ سے واقعتا آخری نوالہ تک چھیننے کی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ کون سی خوشحالی، کون سی ترقی؟ معاملہ نو نیچے جا رہا ہے اور ایسے کوئی آثار بھی نظر نہیں آ رہے کہ پاکستان اوپر اُٹھے گا۔کوئی معجزہ، کوئی منتر،کوئی جادو یہ کام کر دکھائے تو اور بات ہے، وگرنہ زمینی حقائق تو سوائے مایوسی، ناامیدی، غربت و بے روزگاری کے اور کچھ نہیں دکھا رہے۔ ڈیووس میں جب وزیراعظم خطاب کر رہے تھے، تو بھولپن میں ہی یہ کہہ گئے کہ2020ء پاکستان کی ترقی کا سال ہے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ ترقی تو دور دور تک نظر نہیں آ رہی، تب انہوں نے کہا 2020ء معاشی استحکام کا سال ہے،جس کے بعد ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہو گا۔

.

شاید انہوں نے یہ وضاحت اِس لئے کی کہ وہ عالمی فورم پر خطاب کر رہے تھے، جہاں جھوٹ بولنا یا مفروضوں پر بات کرنا پکڑا جاتا ہے۔ یہ باتیں صرف پاکستانی عوام سے کی جا سکتی ہیں،جو روئے ارض پر سب سے بھولے بادشاہ ہیں، جنہیں سبز باغ دکھائے جائیں تو خوش ہوتے ہیں، جو نہ دکھائے اُسے ووٹ تک نہیں دیتے۔ وزیراعظم 2020ء کو ترقی کا سال قرار دے کر بڑی کامیابی سے اُسے گزار دیں گے، باقی اُن کے اڑھائی سال رہ جائیں گے، انہیں گزارنے کے لئے بھی یقینا اُن کے پاس کوئی ایسا ہی فارمولا ہو گا۔انہوں نے ڈیووس میں مہاتیر محمد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات میں عوام کو صبر کرنے کی تلقین کرتے تھے، مَیں کہتا ہوں گھبرانا نہیں،جس طرح ڈاکٹر مہاتیر محمد ملائشیا کو اوپر لے گئے، اُسی طرح مَیں بھی پاکستان کو اوپر لے جاؤں گا۔کیا مہاتیر محمد جیسے بولڈ اقدامات اٹھانے کا عمران خان میں حوصلہ ہے،کیا ابھی تک وہ مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنے بنیادی ایجنڈے کو چھوڑ نہیں چکے، کیا انہوں نے اپنے احتساب کے سب سے بڑے نعرے پر سمجھوتے نہیں کئے، کیا اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں ایسے فیصلوں کے مرتکب نہیں ہوئے، جو اُن کی بائیس سالہ جدوجہد سے لگا نہیں کھاتے؟

ذوالفقار علی بھٹو نے جب زرعی اصلاحات کیں تو ساتھ ہی اُن کے اردگرد موجود مافیا نے انہیں ناکام بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ بھٹو بھی مصلحتوں کا شکار ہو کر اصلاحات سے دور ہو گئے، عملدرآمد کی نوبت ہی نہ آئی،پھر سوشلزم اور نیشلائزیشن کے نام پر ایسے بُرے فیصلے اُن سے کرائے گئے کہ معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ وہ قائد عوام جو غریبوں کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آیا تھا، بالآخر ایک ایسی تحریک کا شکار ہو کر اقتدار سے معزول ہو گیا،جو عوام دشمن فیصلوں کو بنیاد بنا کر چلائی گئی تھی۔ذوالفقار علی بھٹو کے بعد گویا غریبوں کو بھلا دیا گیا۔ ضیاء الحق نے گیارہ برس حکومت کی، غریبوں کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔اُس دور میں نئے سیاسی گروہ وجود میں آئے،جن کا مقصد صرف اپنے مفادات کا تحفظ تھا۔ان گروہوں کی وجہ سے پاکستانی سیاست مزید گدلی اور خراب ہو گئی۔اُس میں جھوٹ، منافقت، ملمع کاری، لوٹ مار اور نفرت انگیزی زیادہ آ گئی۔جو آج کے جمہوری چیمپئن ہیں، وہ اُس دور کی پیداوار تھے۔اس عرصے میں نہ تو سیاست نے ترقی کی اور نہ عوام نے…… ترقی کی تو بس ایک محدود سیاسی شرافیہ نے۔عوام اور خوشحالی کے درمیان فاصلہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گیا۔

نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوار بھی عوام کے لئے کوئی خوشخبری نہ لائے،بلکہ حالات پہلے سے زیادہ دگرگوں ہوتے چلے گئے۔پھر وہ نعرہ آیا جس نے عوام کے دِلوں میں امید کو پھر زندہ کر دیا،یعنی نئے پاکستان اور ریاست ِ مدینہ کا نعرہ، عوام نے جوق در جوق پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر تبدیلی کو ووٹ دیئے۔خواب یہی تھا کہ وہ صبح طلوع ہو، جس کا وعدہ کیا گیا تھا، پھر وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن مہم کے دوران جس طرح بلند و بانگ دعوے کئے تھے،سبز باغ دکھائے تھے،مہنگائی اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کی تھیں،اُن سب کی وجہ سے خواب تو بہت اونچے دیکھے تھے عوام نے، مگر اس ڈیڑھ برس کے عرصے میں عوام کو جس طرح آسمان سے زمین پر پٹخا گیا ہے، اُس نے اُن کے چودہ طبق روشن کر دیئے ہیں۔اب کپتان یہ مثالیں دیتے نہیں تھکتے کہ جب جسم پر پھوڑا نکل آئے تو جراحی ضروری ہو جاتی ہے اور اُس سے تکلیف بھی ہوتی ہے، تاہم صحت یاب ہونے کے لئے یہ کرنا پڑتا ہے۔ اب کپتان کو دست بستہ کون سمجھائے کہ جراحی کی ضرورت کیا صرف غریب عوام کو ہے۔ کیا بڑے بڑے مافیاز،جو دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں،اُن کا آپریشن ضروری نہیں، کیا انہیں کھلی چھوٹ دے دی جائے؟ اصل پھوڑا تو وہ ہیں،جس پر چیرہ لگانے کی ضرورت ہے، مگر وہ تو خود ان کے اردگرد کھڑے ہو کر خود کو محفوظ و مامون سمجھ رہے ہیں،ایسے تو پانچ سو سال میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، چہ جائیکہ پانچ برسوں میں اُس کی آس لگائی جائے۔

مزید : رائے /کالم