یونین بازی کے بجائے طلبہ کو صرف تعلیم پر فوکس کرنا چاہیے‘ ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی

یونین بازی کے بجائے طلبہ کو صرف تعلیم پر فوکس کرنا چاہیے‘ ڈاکٹر منصور اکبر ...

  



ملتان (سٹاف رپورٹر)بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے کہاہے کہ میں یونیورسٹی میں یونینز کے حق میں نہیں ہوں‘اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ اساتذہ کی یونینز بننی چاہئیے تو میں کہوں گا نہیں‘ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ طلبہ کی یونین بننی چاہئیے تو میرا جواب ہوگا کہ نہیں‘ کیونکہ اساتذہ ہویاں طلبہ‘سب کو صرف تعلیم پر ہی فوکس کرنا چاہئیے‘اب تو یونیورسٹی کے(بقیہ نمبر33صفحہ12پر)

افسران نے بھی تنظیم بنا رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اساتذہ کے کسی ایک گروپ کو نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلوں گا‘ میرے لئے سب برابر ہیں‘ جو زیادہ بہترین کارکردگی دکھائے گا‘ وہ اتنا ہی میرے لئے اہم ہوگا اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی‘انہو ں نے کہا کہ سرگودھا یونیورسٹی میں اگر اے ایس اے چاہے تو وائس چانسلر کو اپنے دفتر میں داخل ہی نہ ہونے دے‘مگر یہ وی سی پر منحصر ہے کہ وہ کتنا تگڑا ہے‘مجھے اپنے انتخاب میں میرٹ پر اعتماد ہے اس لئے میں نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ میں تمام فیصلے میرٹ پر ہی کروں گا.زکریا یونیورسٹی کے کمیٹی روم میں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ مجھے سینیٹر بنانے کی آفر ہوئی تھی مگر میں نے انکار کردیا کیونکہ میں خود کو رب ذوالجلال کے روبرو جواب دہ سمجھتا ہوں اس لئے میں نے اپنے انتظامی فیصلوں کو شفاف بنانے کی ہدایت کررکھی ہے اور اپنے اختیارات ڈینزکومنتقل کئے ہیں.انہوں نے کہا کہ اے ایس کے کی مثبت کاوشوں و سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور خیر مقدم کیاجائے گا‘انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے وی سی مقامی نہیں لگانے چائیں بلکہ دوسرے علاقوں سے تعینات ہونے چاہئیں۔ ڈائریکٹر تعلقات عامہ پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق زین، رجسٹرار صہیب راشد خان، ڈائریکٹر فنانس صفدر عباس خان لنگاہ اورایڈیشنل کنٹرولر امتحانات محمد زبیر خان بھی اس موقع پر موجودتھے. وائس چانسلر نے کہاکہ جن اداروں کی میٹنگ میں تاخیر ہوتی تھی میں نے تواتر سے ان کااجلاس بلانا شروع کیا.انہو ں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاسٹل ماضی کی حکومتوں کے بعض فیصلوں کے نتیجے میں یونیورسٹیوں کے وسائل پر بوجھ ہے اور انہیں انتظامی مسائل کا بھی سامنا ہے تب یہ فیصلے مناسب تھے جب بلوچستان، خیبرپختونخواہ، فاٹا میں اعلی تعلیم کی سہولتیں نہ تھیں..انہوں نے کہاکہ باصلاحیت طلباء طالبات کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے. وائس چانسلر نے کہاکہ درسگاہیں امن کا گہوارہ اور علم کا مرکز ہیں. انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے نظام کی بہتری اور تحقیق کے فروغ کو ترجیح بنائیں گے. انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے بے شمار چیلنجز درپیش ہیں. انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے ویژن سادگی، شفافیت اور میرٹ کے مطابق کام کریں گے. اصلاح معاشرہ اور مثبت رجحان کو غالب لانے کے لئے زکریایونیورسٹی بھرپور کردار ادا کررہی ہے. حالیہ ہونے والی سنڈیکیٹ کا ایجنڈا بہت بڑا تھا. انہوں نے کہاکہ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کی ڈکٹیٹیشن نہیں لیتا. یہاں بہت گروپ بندی ہے مجھے صرف پرفارمنس چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کا بھی حق ہے لیکن اب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں‘ یہ بات ہمارے لئے مسئلہ ہے کہ اخراجات کیسے پورے کریں‘. انہوں نے کہاکہ طلبامیں یہاں سیاست ہے ان کو پارٹی لیڈر کی طرف سے ہدایات مل رہی ہیں اور چند اساتذہ بھی ملوث ہیں‘انہوں نے کہا کہ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر ملک رفیق ہمڑ کو مسلسل شکایات پر میں نے ہٹایا‘اب انہیں نئی اسائنمنٹ دی جائے گی۔ میں نے کنٹرولر امتحانات کو بھی تبدیل کیا ہے اور ڈاکٹر محمد فاروق کو کہا ہے کہ وہ کوالٹی کنٹرول کریں.انہوں نے کہاکہ وائس چانسلر کو رول ماڈل ہونا چاہیے وائس چانسلر باپ کی طرح ہوتا ہے اس نے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے. انہوں نے کہاکہ اگر صحافی حق بات لکھتا ہے تو اس کی تعریف کرنی چاہیے اور اس کے ہاتھ چومنے چاہئیں. صحافی بننامشکل ہے اور حق بات کہنا بہت مشکل ہے. انہوں نے کہاکہ میرا وژن بہاء الدین زکریایونیورسٹی کو نمبر ون بنانا ہے. ایک سوال جواب میں انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیوں میں زیادہ سے زیادہ گرلز ہاسٹل ہونے چاہئیں‘طالبات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینی چاہئیں۔زکریا یونیورسٹی کے ہاسٹلز اوورلوڈ ہیں‘ ہاسٹل بہت بڑی لائبلیٹی ہے ہاسٹل کو منیج کرنا بڑا مشکل کام ہے. یونیورسٹی میں پہلے بھی ہاسٹلز کے پرابلم تھے. ان پرابلم کا حل ہماری اولین ترجیح ہے.انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مقرب کے بارے میں عدالتی فیصلہ واضح نہیں ہے‘ واضح فیصلہ آیا تو فوری طور پر عملدرآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں 24گھنٹے پڑھانے کے لاکھوں روپے وصول کرنا بے ایمانی ہے‘ مجھ سے پہلے جو کچھ بھی ہوا سو ہوا مگر اب میں کوئی بھی بے ضابطگی برداشت نہیں کروں گا‘ انہوں نے کہا کہ مجھے انگلش‘ اردو‘ پشتو اور سرائیکی سمیت 5زبانوں پر عبور حاصل ہے۔انہوں نے پریس بریفنگ سرائیکی زبان میں کی جبکہ انگلش اور اردو میں بھی بات کی۔رجسٹرار صہیب راشد خان نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے سنڈیکیٹ کے الیکشن کرائے، اکیڈمک کونسل کا اجلاس اور دو سلیکشن بورڈ ہوچکے ہیں.. بائیوٹیکنالوجی کا پراجیکٹ دوبارہ شروع ہورہا ہے تمام اقدامات قابل تحسین ہیں. ایسوسی ایشنز کا ہونا ایکٹ میں شامل ہے۔ بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے ہائی کورٹ کی ہدایت پر تمام ڈینز، صدور شعبہ اور تمام انتظامی افسروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کے حکم کی تعمیل میں 30 جنوری تک یونیورسٹی میں زیرتعلیم تمام طالبعلموں کی ہیلتھ پروفائل کو پیش کیا جائے. وائس چانسلر نے کہا کہ صحت مند انہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے، شجر کاری بھرپور انداز میں کی جائے طلباء طالبات ایک ایک پودا لگائیں. سٹوڈنٹ کی ہیلتھ پروفائل کی فوکل پرسن ڈاکٹر ثروت سلطان تھیں. اس موقعہ پر یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کی انچارج ڈاکٹر ثمینہ رفیق بھی موجود تھیں۔

اکبر کنڈی

مزید : ملتان صفحہ آخر