میٹرو منصوبہ‘ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کی درخواست بریت پر نیب افسر عدالت طلب

میٹرو منصوبہ‘ سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کی درخواست بریت پر نیب افسر عدالت طلب

  



ملتان (خبر نگار خصوصی)نیب عدالت ملتان نے میٹرو بس منصوبہ میں مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کرپشن کرنے کے مقدمہ میں (بقیہ نمبر44صفحہ12پر)

ملوث سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر صابر خان صدوزئی کی بریت کی درخواست پر پراسیکیوشن کی جانب سے جواب و بحث کرنے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب کو طلب کرتے ہوئے سماعت 7 فروری تک ملتوی کر نے کا حکم دیاہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ملزمان کے خلاف ریفرنس کے 50 ہزار سے زائد صفحات ہیں جس کی وجہ سے ملزمان کو ریفرنس کی کاپی سی ڈی میں فراہم کی گئی جس کی سافٹ ویئر فائل کرپٹ نکلی ہے۔ تاہم ملزمان کو کاپی فراہم کرنے اور بریت کی درخواست پر بحث کے لیے سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔نیب حکام کے مطابق ملتان میٹرو بس منصوبہ کے تعمیراتی کام میں مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کرپشن کرنے میں سابق چیف انجینئر ایم ڈی اے اور دیگر سرکاری افسران سمیت 25 ملزمان کو نامزد کرکے 2018 میں ریفرنس دائر کیا گیا اور 5 نومبر 2019 میں فرد جرم بھی عائد ہوچکی ہے،ملزمان کے خلاف ایک ارب 53 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کی کرپشن کا الزام ہے،ملزم سابق چیف انجینئر ایم ڈی اے صابر سدوزئی نے بریت کی درخواست دائر کی تھی جس پر ایڈووکیٹس شیخ جمشید حیات اور حسنین رضا نے دلائل پیش کیے اور موقف اختیار کیا کہ ریفرنس میں ناکافی شواہد موجود ہیں،اس لیے ملزم کو بری کیا جائے،جس پر احتساب عدالت کے جج رانا عبدالرشید نے ڈپٹی ڈائریکٹر نیب کو بھی طلب کرلیا ہے اور آئندہ سماعت 7 فروری کو بریت کی درخواست پر سرکاری وکیل جواب اور بحث کریں گے،دیگر ملزمان میں نذیر احمد چغتائی، خالد پرویز، شاہد نجم امانت علی،منعم سعید، ریاض حسین، منظور احمد، جاوید اقبال، رانا وسیم، فرخ حسن پاشا، فرحان حیدر،محمد سعید،عامر علی وسان، حافظ ساجد رفیق قریشی،محمد مسعود خان، سیف اللّٰہ آبرو، محمد خان، سلیمان خان، ظہیر خان، محمد عبدالقادر، محمد زاہد ندیم، سید مسعود حسین، عامر لطیف اور شاہد سلیم شامل ہیں۔

طلب

مزید : ملتان صفحہ آخر