ڈیمو کریٹک کے استغاثہ کی دوسری دفعہ ثابت کرنے کے حق میں دلائل

  ڈیمو کریٹک کے استغاثہ کی دوسری دفعہ ثابت کرنے کے حق میں دلائل

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) سینیٹ میں صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کے مقدمے میں ڈیموکریٹک منیجرز نے جمعہ کے روز سا ر ا زور استغاثہ کی دو سری دفعہ کو ثابت کرنے کے حق میں دلائل دینے پر صرف کیا۔ انہوں نے بدھ کے روز ان کیلئے مخصوص تین دن کے دوران جب بحث کا آغاز کیا تو انہوں نے پہلی دفعہ کے حق میں دلائل تھے۔ گزشتہ ماہ ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کیلئے دو د فعات کی منظوری دی تھی۔ پہلی دفعہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے اختیارات کا ناجائز اور غیر آئینی استعمال کرتے ہوئے یوکرائن کے صد ر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ان کے مخالف صدارتی امیدوار اور سابق نائب صدر جوبائیڈن کو کرپشن کے مقدمے میں پھنسائیں گے تو انکی معطل شدہ فوجی امداد بحال کر دی جائیگی۔ صدر ٹرمپ کی یہ گفتگو انٹیلی جنس افسروں نے ریکارڈ کر کے شکایت درج کرا دی تھی۔ دوسری دفعہ صدر ٹرمپ کی ان کوششوں کے بارے میں ہے جو انہوں نے ایوان نمائندگان کی اس سلسلے میں تفتیش کی ر ا ہ میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے کی تھیں۔ انہوں نے تمام انتظامیہ کو دستاویزات اور شہادتیں فراہم کرنے سے روک دیا تھا۔ سینیٹ میں منگل کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جہاں طے ہونیوالے ضابطوں کے مطابق دونوں فریقوں کو اپنے دلائل دینے کیلئے تین تین دنوں پر محیط چوبیس چوبیس گھنٹوں کا وقت دیا گیا تھا، جمعہ کے روز ڈیموکریٹک پارٹی کی تین روزہ معیاد ختم ہو گئی ہے۔ جمعرا ت کی شب ڈیموکر یٹک پارٹی کی استغاثہ ٹیم کے سربراہ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے اپنی جذباتی تقریر کے ذریعے تمام سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ پارٹی لائن سے ہٹ کر صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کی تحریک کے حق میں ووٹ دیں۔ انہوں نے سینیٹرز سے مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ صدر ٹر مپ پر اعتماد نہیں کر سکتے کہ وہ ملکی مفاد کے مطابق کام کریں گے۔ انہوں نے کہا حق سچ کی حفاظت کیلئے صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانا ضروری ہے ورنہ ہم سب کچھ کھو دیں گے۔ یاد رہے چیف جسٹس کے حکم کے مطابق دونوں اطراف کی ٹیموں کے ارکان کی تقریروں کے دوران کسی سینیٹر کو بولنے کی اجازت نہیں ہے جو دلائل کے چھ دن مکمل ہونے کے بعد لکھ کر سوال پوچھ سکیں گے اور ایک دن ان کے سوالوں کا جواب دینے کیلئے مخصوص ہو گا۔ ہفتے کے روز ریپبلکن پار ٹی کی دفاعی ٹیم اپنے دلائل شروع کر ے گی جو پیر تک جاری رہے گا۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے ایوان میں 53 ارکان ہیں جبکہ ڈیموکریٹک کے 45 اور ان کے حمایتی دو آ ز ا د ارکان ہیں۔ سینیٹ میں مواخذے کی تحریک کی کامیابی کیلئے 67 ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہے جس کا ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ جمعہ کے روز ڈیموکریٹک پارٹی کے استغاثہ کے ایک منیجر کانگریس مین حکیم جیفریز نے ایوان کو بتایا کسی نامعلوم ہدایت کی بناء پر وائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیو ر ٹی کونسل نے صدر ٹرمپ کی یوکرائن میں اپنے ہم منصب کیساتھ ٹیلی فون گفتگو کو کمپیوٹر میں چھپا لیا ہے تاکہ اس تک کسی کی رسا ئی نہ ہو۔ یہ ریکارڈ کس نے گم کیا امریکی عوام کو معلوم ہونا چاہئے۔

ٹرمپ مواخذہ

مزید : صفحہ اول