گندم کاریکارڈ طلب، کتنی گندم درآمد، بر آمد اور سمگل ہوئی، دستیابی کی صورت حال کیا ہے؟ تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، حکومت بیان حلفی بھی دے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

  گندم کاریکارڈ طلب، کتنی گندم درآمد، بر آمد اور سمگل ہوئی، دستیابی کی صورت ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے آٹے کے بحران اور گندم کی درآمدکے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پرگندم کی دستیابی، امپورٹ، ایکسپورٹ اورسمگلنگ کامکمل ریکارڈ طلب کرلیا،چیف جسٹس مسٹر جسٹس مامون رشیدشیخ نے ہدایت کی ہے کہ 2019 ء سے آج تک گندم کی درآمد اور برآمد، گندم کی افغانستان اور ایران کو سمگلنگ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے حکومت اپنے جواب کے ساتھ بیان حلفی بھی داخل کروائے،فاضل جج نے قراردیا کہ غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ آٹے کے کم وزن تھیلوں کی شکایات عام ہے،لوگوں کو ہوا بیچی جارہی ہے حکومت اس طرف بھی دھیان دے۔عدالتی حکم پرایڈیشنل چیف سیکرٹری شوکت علی اور سیکرٹری فوڈ وقاص علی محمود پیش ہوئے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے کہاکہ پنجاب میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے، گندم وافر مقدار میں موجود ہے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق آٹے کی قیمت 40روپے فی کلو ہے 70روپے فی کلو نہیں اور اس وقت 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 805روپے مقرر ہے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے مزید بتایا کہ جو دکاندار 805سے زائد 20کلو تھیلے کی قیمت وصول کررہے ہیں،ان کے خلاف کارروائی ہوگی، چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے کہاکہ60فیصد آٹا میں ملاوٹ کی شکایات کے علاوہ آٹے کے تھیلے کے وزن میں کمی کی شکایات بھی ہیں،جوآٹافراہم کیاجارہا ہے،اس کی غذائیت کیا ہے،کیاکسی نے مانیٹرکیاہے کہ قوم کوکیاکھلایاجارہا ہے؟وزن اور غذائیت کے معاملات کو کس نے دیکھنا ہے، اگرگندم دستیاب ہے تو یہ تاثرکیوں ہے کہ گندم دستیاب نہیں،آٹا کیوں مہنگا ہوا،چکیوں والے حکومت کی دائرہ اختیار سے باہر کیوں ہیں،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جو آٹا دیاجارہا ہے اس سے توسوجی، میدہ اور چوکرنکل جاتا ہے،باقی بچنے والی ہوا شہریوں کو فروخت کردی جاتی ہے، آٹا میں کتنے فیصد اجزاء ہیں، الزام ہے کہ اس میں ملاوٹ بھی ہوتی ہے، کیا آٹے کے معیار اور وزن کو کسی لیبارٹری سے چیک کرواتے ہیں کیا آپ کے محکمہ نے کبھی چیک کیاہے؟ فاضل جج نے کہا اگرسارا کچھ موجود ہے تو عوام میں خوف کیوں ہے؟ گندم کا پرائیویٹ سٹاک ختم ہوا یا کم ہوا؟کس وجہ سے عوام کو بحران نظر آیا، سیکرٹری خوراک نے عدالت کو بتایا 100کلو گرام گندم 1375روپے کے حساب سے فلور ملزکوفراہم کی جارہی ہے،20 کلو آٹے کے لئے 805روپے کا ریٹ مقرر ہے، گندم کی وافر مقدار موجود ہے،23لاکھ ٹن گندم سرکار کے پاس موجود ہے،چکیوں والے اوپن مارکیٹ سے گندم خریدتے ہیں،انہیں اوپن مارکیٹ سے گندم مہنگی ملی توانہوں نے ریٹ بڑھادیا، عدالت نے استفسار کیا ہے کہ بتایا جائے گندم سمگل ہوئی،افغان مہاجروں کودی گئی یاکسی دوسرے کودے دی گئی، تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ چار لاکھ میٹرک ٹن گندم ایکسپورٹ اوردولاکھ میٹرک ٹن گندم فیڈکے طورپر لائیو سٹاک کو بیچی گئی،ان معاملات سے مصنوعی بحران پیدا ہوا،عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 29 جنوری کی تاریخ مقررکی ہے۔

ریکارڈ طلب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے آٹا بحران کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کیلئے تحقیقات شروع کر دیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی جانب سے آٹا بحران کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے نے چاروں صوبائی زونز کو مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی، طلب و رسد اور قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار پر مبنی رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، جس پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ مارکیٹ سے جمع ہونے والی معلومات کے مطابق حکومتی دعوؤں کے برعکس مارکیٹس میں آٹے کی طلب پوری نہیں ہو رہی، سٹورز مالکان اور دکانداروں کو آٹے کے 100 تھیلے کی ڈیمانڈ پر 15 تھیلے دستیاب ہیں۔دوسری جانب آٹا چکیوں پر گندم دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی

مزید : صفحہ اول