بھارت میں رواں سلوک کا موازنہ پاکستان سے نہیں کیا جاسکتا: وزیراعظم

بھارت میں رواں سلوک کا موازنہ پاکستان سے نہیں کیا جاسکتا: وزیراعظم

  



ڈیووس،اسلام آباد(نیوزایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریق پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں اور نہ ہی یہ پاکستانی حکومت کی پالیسی میں شامل ہے،بھارت میں لوگ خوفزدہ ہیں،اگر بات کسی اقلیت یا خاص طور پر مسلمانوں کی کریں تو جو انڈیا میں ہو رہا ہے اس کا موازنہ پاکستان سے نہیں کیا جا سکتا، پاکستان میں معیشت اب سنبھل چکی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہوگئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں اعتماد آنے کے بعد اوپر جا رہی ہے، سرمایہ کاری 100 فیصد تک اوپر گئی ہے،2020ترقی کا سال ہے،کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے اور یہ براہ راست ہماری تشویش کا باعث ہے،اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ بات چیت نہیں ہوتی تو اس مسئلے کا حل کس طرح نکلے گا، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا،سیاست میں کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں آیا،یہ ہمیشہ سے ایک مشن تھا۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں رکھا ہوگا، لیکن جب بھی کسی نے (ایسا کیا ہے تو) حکومت نے لوگوں کے خلاف اقدامات کیے ہیں،مثال کے طور پر پنجاب میں ایک واقعہ ہوا تھا جس میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا، ہم نے اس کے ردعمل میں کارروائی کی اور وہ شخص اب قید میں ہے تاہم ایسا انڈیا میں نہیں ہو رہا،وہاں قانون اپنے ہاتھ میں لینے والے گروہ موجود ہیں۔ گائے کا گوشت کھانے پر سب کے سامنے قتل کیا جاتا ہے،(انڈیا اور پاکستان میں) ’فرق یہ ہے کہ انڈیا نے ایسا قانون منظور کر لیا ہے جو انڈیا میں مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے،اس سے مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بھارت میں لوگ خوفزدہ ہیں،اگر بات کسی اقلیت یا خاص طور پر مسلمانوں کی کریں تو جو انڈیا میں ہو رہا ہے اس کا موازنہ پاکستان سے نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان میں معاشی بحران، روپے کی قدر میں کمی اور صنعتی سست رفتاری سے نکلنے کے لیے حکومتی منصوبے پر پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک مشکل صورتحال میں حکومت سنبھالی اور اس وقت پاکستان کو ’تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے‘ کا سامنا تھا،درآمدات 60 ارب ڈالر تھیں اور برآمدات کم ہو کر20 ارب ڈالر تھیں،یہ بڑا فاصلہ تھا،ہمیں آغاز میں ہی بڑے فیصلے کرنے تھے۔ افسوس کے ساتھ اس سے لوگ متاثر ہوئے تاہم پھر ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 فیصد تک کم ہواانھوں نے دعویٰ کیا کہ معیشت اب سنبھل چکی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہوگئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں اعتماد آنے کے بعد یہ اوپر جا رہی ہے، سرمایہ کاری 100 فیصد تک اوپر گئی ہے۔ اس سال ہم پاکستان میں ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ نوکریاں حاصل کر سکیں۔ گذشتہ سال لوگوں کے لیے استحکام نہ ہونے کی وجہ سے مشکل تھا۔ ہر ایسی معیشت جس میں بڑا خسارہ اور قرضے ہوں اسے مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے۔برآمدات میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پہلے ہونے والی ترقی درآمدات اور کھپت پر منحصر تھی اس مشکل وقت کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جہاں ہم برآمدات سے ترقی کرنے جا رہے ہیں۔اعمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں چین کی ساتھ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرنا ہوگا تو وہ یہ کام پس پردہ ہی کریں گے کیونکہ چینی ایسے ہی کام کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ چین سے اپنے اقتصادی تعلقات کی وجہ سے سنکیانگ کے حوالے سے دانستہ طور پر جاننا چاہ نہیں رہے، تو انھوں نے اس تاثر کی تردید کی۔انھوں نے کہا کہ اس طرح تو مجھے ہر اس جگہ کی بات کرنی چاہیے جہاں مسلمان ہیں، جیسے لیبیا، شام، صومالیہ، یمن۔ ہر جگہ ہی مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، تو مجھے ہر ایک کے لیے بات کرنی چاہیے۔ بات یہ ہے کہ فی الحال جو انڈیا میں ہو رہا ہے یہ تشویش کا باعث ہے۔انھوں نے کہا کہ یاد رکھیں یہ صرف کشمیر کی بات نہیں، ابھی انڈیا میں شہریت اور رجسٹریشن ایکٹ کے دو قوانین کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ مسلمان غیر قانونی قرار دیے جانے کے خطرے میں ہیں۔ ان کی شہریت چھینی جا سکتی ہے۔ اور یہ پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ تو یہ مجھے پریشان کرتا ہے۔عمران خان سے جب سوال کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو کشمیر کے معاملے پر تجارتی مفادات سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لیے کہتے ہیں مگر خود بظاہر چین کے معاملے میں تجارت سے آگے دیکھنے پر قائل نظر نہیں آتے، تو انھوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اگر کچھ ہو رہا ہے اس سے تناؤ کے ایسے خدشات جنم نہیں لیتے جیسا کشمیر کے مسئلے کی وجہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو برصغیر سے کہیں دور تک اس کے اثرات ہوں گے۔ انڈیا غلط راستے پر جا رہا ہے اور یہ میرا فرض ہے کہ ایک ایسے فورم کو اس بارے میں آگاہ کروں جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ کہیں بھی جنگ ہونے سے اسے روکا جائے۔ کسی اور جگہ ایسے جنگ کے خطرات نہیں جیسے کشمیر میں ہیں۔اس معاملے کے ممکنہ حل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال اور صدر ٹرمپ کی پیشکشوں کے حوالے سے کہا کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ بات چیت نہیں ہوتی تو اس مسئلے کا حل کس طرح نکلے گا، سوائے اس صورت میں کہ اقوام متحدہ یا امریکہ جیسی طاقت مداخلت کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انڈین حکومت سے بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جیسے میں دیکھ رہا ہوں یہ مزید بدتر ہوسکتا ہے۔ اگر یورپی یونین، اقوام متحدہ یا امریکہ مداخلت نہیں کرتا تو چیزیں برے سے مزید گمبھیر ہوجائیں گی۔عمران خان سے جب پوچھا گیا کہ وہ پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد انڈین حکومت کا موازنہ نازیوں سے کرنے والے اپنے بیان میں واقعی یہ موازنہ کرنا چاہتے تھے تو انھوں نے پْرزور اثبات میں جواب دیا۔انھوں نے کہا کہ اس وقت انڈیا میں آر ایس ایس نامی ایک انتہا پسند نظریہ حکومت چلا رہا ہے۔آر ایس ایس کا نظریہ 1925 میں اپنے قیام کے وقت نازی پارٹی سے متاثر تھا، وہ نازی پارٹی کی تعریف کرتے تھے اور وہ نسلی برتری کی حمایت کرتے تھے اور انڈیا سے مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ جیسے نازی پارٹی نے یہودیوں کا ختم کیا۔انھوں نے کہا کہ آپ کو صرف آر ایس ایس کے بانیوں کی تحریر پڑھنے کی ضرورت ہے، اور آپ جان جائیں گے کہ یہ انتہا پسند اور نسلی امتیاز پر مبنی نظریہ ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا۔عمران خان نے کہا کہ مہاتما گاندھی کو آر ایس ایس نے قتل کیا جس پر تین مرتبہ پابندی لگائی گئی اور افسوس یہ ہے کہ اس نظریے نے ایک ارب کی آبادی والے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگوں کے نزدیک نازیوں سے موازنہ دور کی کوڑی یا اشتعال انگیز ہو سکتا ہے، تو عمران خان نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے بانیان ہندوؤں کی نسلی برتری پر یقین رکھتے تھے،وہ مسلمانوں اور مسیحیوں سے نفرت کرتے ہیں اور انھیں گھس بیٹھیے کہتے ہیں،جب بھی تاریخ میں ایسے قوم پرست اور نسل پرست عناصر دیگر انسانی برادریوں کے خلاف نفرت کے ساتھ آتے ہیں تو خون ریزی ہوتی ہے۔ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ 80 لاکھ لوگ گذشتہ پانچ ماہ سے ایک کھلے قید خانے میں ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا کیونکہ پاکستان پہلے ہی افغانستان میں جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نائن الیون میں کوئی ہاتھ نہ ہونے کے باوجود پاکستان پر اس کے اثرات پڑے۔انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ (امریکی) جنگ پاکستان کو (افغان جنگ سے) مختلف انداز میں متاثر کرے گی لیکن ہمارے لیے سب سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہم نے حال ہی میں اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ ہم کافی مشکل وقت سے گزرے ہیں۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا اور نہ صرف پاکستان بلکہ کئی ترقی پذیر ممالک اس سے متاثر ہوں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے صدر ٹرمپ کو اور بھی مشورے ملے ہوں گے۔ لیکن میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور میں کسی فوجی حل کے سخت خلاف ہوں۔اس سوال پر کہ کیا انھوں نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کی ہے، عمران خان نے کہا کہ بالکل نہیں،اس وقت میرے لیے میرا ملک سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ یہ 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور یہ میرا بنیادی فرض ہے کہ میں اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دوں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ہمیں ورثے میں بدترین اقتصادی صورتحال ملی، اس لیے میری ذمہ داری پاکستان کو درست راستے پر لانا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ بیرونِ ملک رہنماؤں سے بات کرتے ہیں تو ان کے لیے یہی اہم ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ انڈیا اور کشمیر پر صرف اس لیے بات کرتے ہیں کیونکہ کشمیر کشیدگی کی بنیاد بنتا ہے،دو جوہری ممالک (مسلح) تنازعے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے میں امریکہ اور اقوامِ متحدہ سے بات کرتا ہوں کہ یہ وقت ہے کہ وہ مداخلت کریں اور ایک ممکنہ تنازعے کو جنم لینے سے روکیں۔عمران خان کی طویل سیاسی جدوجہد کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیرِ اعظم بننے سے پہلے کے تصورات اور حقیقت میں کیا موازنہ ہے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ 23 سال کی جدوجہد میں ایک منٹ کے لیے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان میں وزیر اعظم بننا آسان کام ہوگا۔دوسری طرف جمعہ کو اپنے ٹوئٹر پیغام وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ5 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں محصور 80 لاکھ کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے گھروں سے باہر نکلیں،نسل پرست مودی سرکار 6 ماہ سے کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے و مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے قوم سے اپیل کر دی۔

وزیراعظم

مزید : صفحہ اول