پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص ناممکن، عالمی لیبارٹریو ں سے برابطہ

  پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص ناممکن، عالمی لیبارٹریو ں سے برابطہ

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان نے کرونا وائرس کی ممکنہ خطرے کے پیش نظر عالمی لیبارٹریوں سے رابطہ کرلیا ہے، ظفرمرزا کا کہنا ہے کہ وائرس کی پاکستان میں تشخیص کی سہولت نہیں،رپورٹ ہونیوالے مشتبہ کیسز کے سیمپلزبین الاقوامی لیبارٹریز بھیجے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت صحت نے کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے چین، ہانگ کانگ،ہالینڈ کی لیبارٹریوں سے رابطہ کرلیا ہے، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر نے کہا ہے کہ چین سے پھیلنے کرونا وائرس کی پاکستان میں تشخیص کی سہولت نہیں، رپورٹ ہونیوالے مشتبہ کیسز کے سیمپلز عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے چین، ہانگ کانگ اور ہالینڈ میں قائم لیبارٹریوں میں بھیجے جائیں گے۔۔دوسری طرف کورونا وائرس کے چین سے پاکستان میں منتقل ہونے کے خدشے کے پیش نظر چائنہ سدرن ائیر لائن کی پروازیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے چیف آپریٹنگ آفیسر لاہور ائیر پورٹ چوہدری نذیر کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں میو اسپتال کے ایک ڈاکٹر کو فوکل پرسن نامزد کیا گیا۔اجلاس میں طے پایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ائیرپورٹ پر قائم کاؤنٹرز پر ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف موجود رہے گا، ان کاؤنٹرز پر تھرمل گن اور تھرمل سکینرز کے ذریعے چین سے آنیوالے تمام مسافروں کا چیک اَپ کیا جائے گا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دیگر ممالک کی چین سے ہو کر آنے والی پروازوں کے مسافروں کا بھی ائیرپورٹ پر معائنہ ہوگا۔کورونا وائرس کے پاکستان منتقل ہونے کے خدشے کے پیش نظر چائنا سدرن کی سروس 30 جنوری تک بند کر دی گئی ہے۔

کرونا وائرس

مزید : صفحہ اول