آٹا چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے: شاہد رشید بٹ

  آٹا چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے: شاہد رشید بٹ

  



اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے اورچینی کے مصنوعی بحران پیدا کر کے اربوں روپے کمانے والی مافیا کو کٹہرے میں لایا جائے۔منافع خور مہنگائی سے پریشان عوام کو لوٹ کر غربت اور بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ذخیرہ اندوز معاشرے کے بنیادی ڈھانچے پر حملے آور ہو گئے ہیں۔منافع خوروں کے گوداموں میں پڑی گندم اور چینی کی قیمت راتوں رات دگنی کیسے ہو گئی۔احتساب کے بغیر معاشی اور معاشرتی استحکام ناممکن ہے۔ شاہد رشید بٹ نے کہا کہ گنے اور گندم کی پیداوارملکی ضروریات سے زیادہ ہونے کے باوجود مصنوعی بحران پیدا کر کے اربوں روپے کمائے گئے۔ملکی تاریخ میں مارے جانے والے اس سب سے بڑے ڈاکے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جس تیزی سے غربت بڑھ رہی ہے اسی تیزی سے اشرافیہ کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عدم مساوات کے خاتمہ کے لئے بالواسطہ ٹیکسوں کا نظام ختم کر کے براہ راست ٹیکس عائد کئے جائیں تاکہ غریب پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ اہم فصلیں کاشت کرنے والوں کو بھی استحصال سے بچایا جائے۔ایک مافیا سالہا سال سے کاشتکاروں کو مختلف طریقوں سے لوٹ رہی ہے اور انکے بقایا جات بھی ادا نہیں کئے جاتے جس کا نوٹس لیا جائے۔ چھوٹے کسانوں کو امدادی قیمت سے کم پر اپنی فصل بیچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے کٹوتیاں بھی کی جاتی ہیں جو زیادتی ہے۔فلور ملوں کی لوٹ مار کچھ کم ہے جبکہ شوگر ملیں اکثر سیزن کے باوجود کرشنگ شروع نہیں کرتیں تاکہ کاشتکاروں کو کم قیمت پر گنا بیچنے پر مجبور کیا جا سکے۔

جبکہ گنے سے لدے ہوئے ٹرکوں اور ٹرالیوں کو کئی کئی دن تک کھڑا رکھا جاتا ہے جس سے گنے کا وزن کم ہو جاتا ہے۔سوکھا ہوا گنا مزید کم قیمت پر خریدا جاتا ہے جو ظلم ہے۔اسکے علاوہ شوگر ملوں میں ٹیکس بچانے کے لئے بھی مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں جنھیں روکنا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ منافع خور مافیا اب کھاد کا بحران پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جسے روکا جائے ورنہ زرعی شعبہ کی شرح نمو جو منفی ہو جائے گی۔

مزید : کامرس