تاجروں کے ساتھ مضبوط روابط کیلئے کمیٹی تشکیل دینگے: پی آر اے

تاجروں کے ساتھ مضبوط روابط کیلئے کمیٹی تشکیل دینگے: پی آر اے

  



لاہور(پ ر) پنجاب ریوینیو اتھارٹی، لاہور چیمبر اور دیگر سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینا چاہتی ہے تاکہ باہمی روابط مزید مضبوط ہوں جن سے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ یہ بات اتھارٹی کے چیئرمین زین العابدین ساہی نے لاہور چیمبر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر،نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد سابق صدر میاں مظفر علی اور سابق نائب صدر کاشف انور نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ پی آر اے کے کمشنر انفورسمنٹ شہزاد محمود گوندل، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران فیاض حیدر، واصف یوسف، شیخ سجاد افضل بھی اجلاس میں شریک تھے۔بھی موجود تھے۔ چیئرمین پی آر اے نے کہا کہ مجوزہ کمیٹی مستقل بنیادوں پر میٹنگز کرے گی تاکہ پالیسی فیصلے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے جاسکیں، ٹیکس دہندگان سے باقاعدہ روابط رکھنے کے لیے ایک ایپلیکشن بھی متعارف کروائی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے درمیان ٹیکس ہم آہنگی کے سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، چاروں صوبوں کے نمائندے ماہانہ ملاقاتیں کررہے ہیں اور کچھ معاملات پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے، ایک ایسا سسٹم ڈیزائن کیا جارہا ہے جس کے ذریعے ٹیکس دہندگان ایک ہی ریٹرن فائل کریں گے چاہے وہ ایک سے زائد صوبوں میں کام کررہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ صوبوں کو تحفظات ہیں کہ اس سے کاروباری آسانیوں کے حوالے سے مشکلات پیش آئیں گی، انہیں دور کرنے کے لیے یہ سسٹم سیکٹر وائز نافذ کیا جائے گا، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سسٹم جلد ہی کام شروع کر دے گا۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی آر اے نے کہا کہ صوبائی ٹیکسوں کی وصولی کے لیے آن لائن بینکنگ کی سہولت پہلے ہی سے موجود ہے جبکہ جلد ہی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت بھی دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے درمیان سیلز ٹیکس کا ایک ہی ریٹ مقرر ہونا مشکل ہے، پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ختم نہیں ہوسکتا مگر باہمی مشاورت سے کوئی درمیانی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ سروسز سیکٹرمعیشت کا اہم ترین حصہ ہے،اس کا ملکی جی ڈی پی میں 61فیصدحصہ ہے۔ سروسز فراہم کرنے والی جن صنعتوں کا جی ڈی پی میں خاطرخواہ حصہ ہے انہیں ٹیکس کی شرح میں مراعات فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی ٹیکس اکٹھا کرنے والی ایجنسیوں میں ہم آہنگی اشد ضروری ہے، اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا پنجاب سے ہو اور سروس سندھ میں فراہم کرتا ہو تو اس کو پی آر اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا اور ٹیکس جمع کرانا ہو گا، البتہ جس کو سندھ میں سروس فراہم کی جا رہی ہے اس کو سندھ ریوینو بورڈ کے تحت ٹیکس جمع کرانا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی سطح پر قائم ریوینواتھارٹیز کو اختیارات اور مشترکہ قوانین کا مل کر تعین کرنا چاہیے۔

تاکہ اوریجن اور کھپت کے مسائل کو بھی واضح کیا جا سکے۔اس وقت صوبہ پنجاب سے پنجاب ریوینیو اتھارٹی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور پنجاب بورڈ آف ریونیو ٹیکسز اکٹھا کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ٹیکسز اکٹھا کرنے کی تمام تر ذمہ داری پنجاب ریونیو اتھارٹی کو دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں سروسز پر سیلز ٹیکس کے ریٹ مختلف ہیں، جس سے صوبائی سطح پر مسابقتی ماحول پیدا ہو جاتا ہے،تاہم ہر صوبے میں سروسز پر سیلز ٹیکس یکساں ہونے چاہیے۔ صوبہ پنجاب میں زائد سیلز ٹیکس کے باعث سروسز فراہم کرنے والی کئی صنعتیں دیگر صوبوں میں منتقل ہو گئی ہیں۔پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (پی آئی ڈی سی) کے نفاذ نے ٹیکس نیٹ کووسعت کی بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا گیاہے۔ پی آئی ڈی سی ایک بالواسطہ ٹیکس ہے کیونکہ یہ خام مال سمیت سامان کی نقل و حمل پر عائد کیا جاتا ہے اور یہ صوبے کی معاشی نمو میں رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ کاروباری افراد نے اس ٹیکس سے بچنے کے دوسرے صوبوں میں اپنا سامان بھجوانا شروع کر دیاہے جس سے بالآخر کلیئرنگ ایجنٹوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے کاروباروں کو نقصان پہنچے گا، جو ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور قومی خزانے میں قابل قدر رقم ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی ڈی سی یقینا صوبے کیلئے ریوینیو میں کمی کا سبب بن رہا ہے،اور تجویز پیش کی کہ صوباے کی تاجر برادری کو ریلیف دینے کیلئے مذکورہ سیس کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کی تعداد کو کم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سروسز پر سیلز ٹیکس ادا کرنے کی تین یا چھ ماہ بعد اجازت ہونی چاہیے۔پنجاب ریوینیو اتھارٹی سے منسلک تمام ادائیگیاں کریڈٹ کارڈ / ڈیبٹ کارڈ، ڈائریکٹ ڈیبٹ اورانٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مزید : کامرس