چینی کی قیمتیں کم کرنے سے کسانوں کو گنے کی اچھی قیمت نہیں ملے گی، حنیف گجر

  چینی کی قیمتیں کم کرنے سے کسانوں کو گنے کی اچھی قیمت نہیں ملے گی، حنیف گجر

  



لاہور(کامرس ڈیسک) پاکستان کسان موومنٹ کے صدرحنیف گجر گذشتہ روز سرگودھا ڈویژن کے دورہ سے واپس آئے جہاں انہوں نے کسانوں اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے متعدد ملاقاتیں کیں۔استقبال کے لیے آنے والے کسانوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سرگودھا ڈویژن کے کسان پنجاب حکومت کی مقرر کردہ گنے کی قیمت190روپے فی من پر خوش نہیں تھے۔جس کی وجہ سے انہوں نے گنے کی سپلائی بند کردی۔اور وسطی پنجاب کی شوگر ملوں نے گنے کی عدم دستیابی کے باعث کرشنگ بند کر دی تھی۔ جبکہ کسانوں نے گنے کی قیمت 220سے 250روپے فی من پر دوبارہ گنے کی کٹائی کر کے گنا ملوں کو سپلائی کرنا شروع کردیا ہے۔حنیف گجر نے چینی کی قیمتیں زبردستی کم کرنے کی حکومت کی کوشش پر تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اگر چینی کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں تو کسان گنے کی اچھی قیمت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن میڈیا میں باور کراتی رہی ہے کہ چینی کی پیداواری لاگت 82سے83روپے فی کلو بنتی ہے تو اگر چینی کی قیمت 72سے73روپے فی کلو کی سطح تک ہے توحکومت کے لیے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ قیمتیں ملوں کی پیداواری لاگت سے پھر بھی کم ہیں۔حکومت کو چینی اور گنے کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے پالیسی بنانی چاہیے تاکہ کسان جو گنا شوگر ملوں کو سپلائی کرتے ہیں اس کی انہیں اچھی قیمت حاصل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کئی ماہ سے گندم کے بحران کا خطرہ منڈلا رہا تھالیکن یہ امرسمجھ سے بالا تر ہے کہ اس کے تدارک کے لیے پنجاب حکومت نے ضروری اقدامات کیوں نہیں کئے۔پنجاب کے کئی اضلاع میں قدرتی آفات سے گندم کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی لیکن حکومت نے کسانوں کی فلاح کے لیے امدادی تدابیر اختیار نہیں کیں۔

مزید : کامرس