پنجاب اسمبلی، آٹا، چینی بحران کی گونج،حکومت اور اپوزیشن میں تلخ کلامی، ایوان مچھلی منڈی بنا رہا

    پنجاب اسمبلی، آٹا، چینی بحران کی گونج،حکومت اور اپوزیشن میں تلخ کلامی، ...

  



لاہور(آئی این پی)پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ کے ایم پی اے سردار اویس لغاری نے بھی وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کوبااختیار کر نے کا مطالبہ کر دیا‘صوبے کے اختیارات چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو دینے کی شدید مخالفت کر دی‘ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان اور (ن) لیگ کے ملک ارشد کے در میان مختلف جملوں کا تبادلہ‘پنجاب اسمبلی کے ایوان میں چینی اور آٹا بحران کی گونج کیساتھ ساتھ حر یم شاہ اور گلوکارہ طاہرہ سید کے بھی چرچے‘حکومت اور اپوزیشن کے آمنے سامنے آنے سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر تا رہا ’حکومتی یقین دہانی اور (ن) لیگ کے رانا اقبال کی مداخلت پر پیپلزپارٹی کے پار لیمانی لیڈر سید حسن مر تضی شاہ نے پنجاب اسمبلی کی سیڑ ھیوں پر جاری تادم مر گ بھوک ہڑ تال ختم کر دی‘اپوزیشن کا حکومت سے آٹے اور چینی کے بحران کے فوری خاتمے اور قیمتوں میں اضافہ ختم کر نے کا مطالبہ جبکہ ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری نے ایوان کی کاروائی مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس (سوموار) سہ پہر3بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ سکولز ایجوکیشن کے متعلق سوالوں کے جواب پارلیمانی سیکرٹری ساجد احمد خان بھٹی کی جانب سے دیئے گئے۔وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری ساجد احمد بھٹی نے مخدوم عثمان کے سوال پر کہا کہ ملازمتوں پر پابندی کی وجہ سے ٹیچرز کی خالی اسامیاں پر نہیں کی جارہی جیسے ہی پابندی ختم ہوتی ہے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ کی خالی اسامیاں جلد پر کرلی جائیں گی۔بعدازراں ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات ملتوی کرتے ہوئے کشمیر،پرائس کنٹرول اور امن و امان پر عام بحث شروع کرادی۔مسلم لیگ ن کے رکن اویس لغاری نے ایوان میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے سے شروع ہوئی بات قبر میں سکون تک پہنچ گئی ہے۔وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب قبر میں سکون چاہتے ہیں تو عوام کو سکون دے دیں۔جب مقالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔جمہوریت میں جو عوام آپ کو سنانا چاہتی ہے اس کو برداشت کریں۔عوام کی آواز پر ان کے مسائل کا حل کریں۔کشمیر کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔وہاں پر زندگی سسک رہی ہے۔ہم کچھ نہیں کر رہے۔وزیراعظم کی تقریر کو ورلڈ کپ کی طرح پیش کی گئی مگر حاصل کیا ہوا کچھ نہیں۔ خارجہ امور میں ناکامیوں نے اقوام عالم میں ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ملائیشیا،ترکی اور ایران نے کشمیر کے معاملے پر ہمارا کھل کے ساتھ دیا،ہم نے کوالالمپور سمٹ میں وعدہ کرنے کے باوجود نہیں گے۔جس سے ہماری خارجہ پالیسی کو۔شدید۔نقصان پہنچایا گیا۔وزیراعظم عمران خاں کشمیر کے مسلے پر بھارت کے سامنے لیٹ گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی حکمرانی کے دوران حکومت انٹرنیشنل کمیونٹی کو کشمیر پر ساتھ نہیں ملا سکے۔ن لیگ کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔گورنر خود کہہ رہا ہے کہ سارا اختیار آئی جی اور چیف سیکرٹری کے پاس ہیوزیراعظم کون ہوتا ہے کہ وہ وزیراعلی کی بجائے بیوروکریسی کو بااختیار بنائے یہ ایوان وزیراعلیٰ کومنتخب کرتا ہے اور اس کے پاس اختیار ہونا چاہیے۔اسی دوران جب صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان بات کر نے لئے کھڑے ہوئے تو ّ(ن) لیگ کے بعض اراکین نے ایوان میں ”حر یم زادے“کے نعرے لگائے جس پر فیاض الحسن چوہان نے کہاارشد ملک نے جو فقرے کسے ہیں ابھی ریکارڈ پر ہے سنائیں ان کو نکال کر۔میں نے جواب دیا ہے اورہمیشہ میں نے بعد میں جواب دیا چیخ کر میری آواز کو نہیں دبایا جا سکتا پہلے بھی بحران اتا رہا ہے اب کوئی آٹے کا بحران نہیں اپوزیشن کے بولنے پر میں جواب دیتا ہوں فیاض الحسن چوہان بھی اپوزیشن کی تنقید پر خاموش نہ بیٹھے اور جوابی وار کرتے ہوئے اپوزیشن کو ماضی کے قصے یاد کرا دیئے صوبائی وزیر نے اپوزیشن کو دلشاد بیگم اور طاہرہ سید کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا لیڈر نواز شریف ان کو گانے سنایا کرتا تھا، کسی کو یاد ہے کہ میں یاد کراں؟ملک ندیم کامران نے مزید کہا کہ فیاض الحسن چوہان الفاظ کا چنا بہتر کریں آٹے کے بحران پر اظہار خیال کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پہلے بھی بحران آٹا رہا ہے لیکن اب کوئی آٹے کا بحران نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اندر بے شمار اسکینڈل سامنے آ رہے ہیں، فیاض الحسن چوہان ہمیشہ الفاظ کا بہتر چنا نہیں کرتے لیگی رہنما نے کہا کہ ہمارے گریبان کی بجائے یہ خود اپنے گریبان میں جھانکیں، فیاض الحسن چوہان کی وجہ سے ایوان کا ماحول خراب ہوتا ہے۔سابق صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے ایوان میں وزرا کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر کہتا ہے نومبر دسمبر میں گندم زیادہ کھائی جاتی ہے۔ملک میں گندم کا بحران ہے اگر بحران نہیں ہے تو وزیر اعظم نے کمیٹی کیوں بنائی ہے۔پانچ سال میں خدمت کی ہے صورتحال دیکھ کر دل تڑپتا ہے۔صورحال کو کنٹرول کس نے کرنا ہے یہاں صرف گلے کی رفتار بڑھائی جا رہی ہے۔ہمارے دور میں بھی گندم ایکسپورٹ ہوئی لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا تین مہینے بعد امپورٹ شروع کر دی جائے۔اگر اس مسئلے کو جواب نہیں نکالتے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔تین لاکھ ٹن امپورٹ ہونے والی گندم کو روکنا ہوگا۔تین لاکھ ٹن گندم ایک ماہ میں شپنگ امپورٹ ہی نہیں کر سکتے تو اسکو روکنا چاہیے۔گزشتہ تین ماہ سے پچیس سے ستائیس روپے چینی کی قیمت بڑھی۔جو کہ چینی استعمال کرنے والوں کو ٹیکہ ہے۔چینی کی اضافی قیمت پر کتنی میٹنگز ہوئی ہیں؟کیا وزرا نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے عہدیدران کی شکل دیکھی ہے؟شوگر ایسوسی ایشن بہت مضبوط ہے وہ کسی وزیر کو اہمیت نہیں دیتے ہم شوگر مل والوں کو رات کو اٹھا کر میٹنگ کرتے تھے اگر انہوں نے ایک میٹنگ بھی کی ہے تو اسکی کوئی تصویر ہی دکھا دیں کتنی ملز کے وزٹ کیے گے؟ہم گلی محلوں کی سیاست پر بات کرتے ہیں عوامی مسائل پر زکر نہیں کرتے۔عمران خان سویزرلینڈ جاتے ہیں اور کہتے ہیں دوست کی خرچے پر گیا ہوں ہم سے پیسے لیے لیں لیکن عوام کو ریلیف۔بعدازراں اجلاس کا وقت ختم ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر دوپہر تین بجے تک ملتوی کردیاجبکہ اس قبل ڈپٹی سپیکرکی ہدایت پر صوبائی وزراء فیاض الحسن چوہان‘چوہدری ظہیر الدین اور وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے پنجاب اسمبلی سیڑھیوں پر آٹے بحران اور دیگر حکومتی پالیسوں کے خلاف تادم مر گ بھوک ہڑ تال کر نیوالے پیپلزپارٹی کے ایم پی اے سید حسن مر تضی شاہ سے ملاقات کی اور انکو مسائل کے حوالے کی یقین دہانی کروائی اور سابق سپیکر رانا محمد اقبال خان نے بھی سید مر تضی سے ملاقات کی جسکے بعد حسن مر تضی نے ہڑ تال اور ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ ختم کر دیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر