عدالتیں تحقیقات میں مداخلت نہ کریں تو بہتر ہے، جسٹس یحیی ٰ آفریدی

    عدالتیں تحقیقات میں مداخلت نہ کریں تو بہتر ہے، جسٹس یحیی ٰ آفریدی

  



اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں نیب افسران کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر تحقیقات کیلئے دائر درخواست کی سماعت،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔معاملے کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت درخواستگزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے والد نے ریٹائرڈ ایس ایس پی نیاز کھوسو کے خلاف زمینوں کے قبضے سمیت مختلف ایشوز پر نیب میں شکایت کی،درخواست پر نیب نے تحقیقات شروع کی تو درخواست گزار کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا،قتل کے مقدمہ میں بھی نیاز کھوسو کو ہی نامزد کیا گیا ہے،درخواست گزار کے والد کے رانا ارشاد کے قتل کے بعد نیب افسران نے ملی بھگت کرکے کیس دوسرے صوبے میں منتقل کردیا،جس پر نیب افسران کے خلاف تحقیقات کیلئے کیس دائر کیا ہے،ملزم نیاز کھوسو سندھ کی بااثر شخصیت ہے،معاملے میں نیب کے ڈائریکٹر ڈائریکٹر الطاف بھوانی اور تفتیشی فیاض اکبر کی ساری بد نیتی اور ملی بھگت تھی،نیب ڈائیریکٹر الطاف بھوانی اور تفتیشی فیاض اکبر کے تحقیقات ہونی چاہیے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں تحقیقات میں مداخلت نہ کریں تو بہتر ہے،اگر سپریم کورٹ نے تحقیقات کا کہہ دیا تو پھر کونسی عدالت ہاتھ لگائے گی،ہائیکورٹ نے بھی آ پکو نیب میں درخواست دینے کا کہا ہے،بہتر ہے کہ کیس واپس لیکر نیب میں درخواست دیں۔عدالتی آبزرویشنز کے بعد درخواست گزار کی اپیل واپس لینے کی استدعا پر عدالت نے معاملہ نمٹا دیا ہے۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے ڈائریکٹر ایلمنٹری ایجوکیشن کے پی کے کی سروس میٹر زمیں درخواستیں زائد المیاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیں ہیں۔درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکموں کے درمیان رابطوں کے فقدان کے باعث تاخیر کی وضاحت عدالت کے لیے قابل قبول نہیں ہے،عدالتی معاملوں میں سارے آفسران اور بابو دانستہ تاخیر کرتے ہیں،خیبر پختون خواہ والے کیسے حکومت کا نظام چلا رہے ہیں،کے پی کے حکومت کا کیا علاج کروں،یہ عمل جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ اراضی کے مقدمات میں التوا جان بوجھ کر ہوتی ہے،اس سروس میٹر میں محکموں کے درمیان رابطوں کے فقدان کے باعث تاخیر ہوئی۔جسٹس اعجاز الحسن نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختون خواہ حکومت کی روش ہے کہ ان کی اکثر درخوستیں زائد المیاد ہوتی ہیں۔جسٹس سجاد علی شاہ بولے کے یہاں پانچ پانچ لاکھ کے جرمانے کے پی کے حکومت کو ہو رہے ہیں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف کارووائی عمل میں لانے اور ذمہ داروں سے رقم ریکور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے دائر درخواستیں زائد المیاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیں ہیں۔

سپریم کورٹ

مزید : پشاورصفحہ آخر