جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کیلئے سرعام پھانسی کابل منظور کیا جائے، نشترخان

جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کیلئے سرعام پھانسی کابل منظور کیا جائے، نشترخان

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) راہ امن پاکستان کے مرکزی چیئر مین نشتر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کئی سالوں سے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت اور قابل افسوس ہے ان گناونی وارداتوں کے خلاف حکومت فوری طور پر قانون سازی کرکے ایسے ملوث ملزمان کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا قانون منظور کریں کیونکہ جو قانون سازی کی گئی ہے اس میں درندوں کیلئے 14سال کی قید جو کہ مظلوموں کے ساتھ کھلا مذاق ہے اس لئے 14سال قید کے ساتھ ساتھ سرعام پھانسی کی سزا کا بل بھی منظور کیا جائے بصورت دیگر راہ امن پاکستان پشاور سے اسلام آباد تک پیدل مارج کا اعلان کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر راہ امن پاکستان کے مرکزی وائس چیئر مین عامر خان، مردان ڈویژن کے صدر حافظ اعجاز، ضلع صوابی کے صدر حاجی قریش،ضلع مردان کے صدر بہادر خان اور دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ زیارت کاکا صاحب میں 8سالہ معصوم بچی کے ساتھ جو ہوا وہ پاکستان کو بدنام کرنے کے خلاف سازش ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ پاکستان میں جنسی درندگی کی دھشت گردی تو نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ پولیس بچوں کو بدفعلی کے ملزمان تو گرفتار کرلیتی ہیں لیکن زینب اور آسیہ کیسز کے علاوہ دوسرے کیسز کے ملزمان گرفتار ہوئے یا نہیں انہوں نے مزید کہا کہ کاکا صاحب واقعہ ملزم نے اقبال جرم کرلیا تو پھر ان کو تو سرعام پھانسی کی سزا ملنی چاہیئے انہوں نے کہا کہ 27جنوری کو خیبر پختونخواہ اسمبلی کے منعقدہ اجلاس کے موقع پر ارکین اسمبلی کو بچوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کرنے والوں کو سزا موت دینے کے قانون کے حق میں ووٹ دینے کا درخواست کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر