وسیم اکرم مائنس!

وسیم اکرم مائنس!
 وسیم اکرم مائنس!

  



پنجاب کی بیوروکریسی نے جو قدم اٹھالیا ہے، واپس نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی یتیمی نہیں جائے گی، ان کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے Disownکردیا گیا ہے، یہاں کے وسیم اکرم پلس مائنس ہونے والے ہیں، عمران خان بضد رہے تو پی ٹی آئی کو برابر بھی کیا جا سکتا ہے۔ قاف لیگ جائزہ لے رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی ڈوبتی نیا میں سامان رہنے دے یا پھر اگلے بحری بیڑے کا رخ کیا جائے، نون لیگ نہ صرف پنجاب بلکہ مرکز میں بھی بڑی حد تک بھی فعال ہوگئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی تب سے بیک فٹ پر چلی گئی ہے جب سے بلاول بھٹو عمرہ کرکے آئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ناراض اراکین ابھی تو بیوروکریسی کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں، کچھ عرصے بعد پارٹی قیادت کے خلاف بھی اٹھاتے نظر آئیں گے اور ملکی حالات میں تبدیلی نہ آنے کا سارا الزام عمران خان کے سر پر تھوپیں گے۔ پی ٹی آئی کے قریبی صحافتی حلقوں نے بھی پینترے بدلنا شروع کردیئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یا تو انہیں کوئی نئی لائن مل گئی ہے یا پھر انہوں نے ہواؤں کا رخ دیکھ لیا ہے۔ اس لئے ملکی حالات میں نظر آئے نہ آئے، ان کی گفتگو میں تبدیلی ضرور نظر آنے لگی ہے۔

یہ سب کچھ آناً فاناً نہیں ہوا، اس کے باوجود کہ گزشتہ ایک برس میں لئے جانے والے اقدامات سے بڑے معاشی اشاریے مستحکم ہوگئے ہیں مگر سرمایہ کاروں کا، کاروباری حلقوں کا اور بیوروکریسی کا حکومت پر اعتماد نہیں جما ہے، آجا کر اسٹیبلشمنٹ اس کو گود میں لئے پھر رہی تھی، اب وہ بھی گریز کی راہ اختیار کئے نظر آتی ہے۔ پیپلز پارٹی سے پی ٹی آئی میں آنے والے ایک اہم رہنمانے آرمی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد نجی محفلوں میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اپوزیشن کو حکومتی سیٹ اپ بدلنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہو یا نہ کروائی گئی ہو لیکن ایک بات کی یقین دہانی ضرور کروادی گئی ہے کہ ان کے خلاف کرپشن اور دیگر جرائم کے مقدمات ضرور واپس ہو جائیں گے۔ عمران خان کے کرپشن کے خلاف بیانئے کا جنازہ نکلنے کے لئے یہ ایک یقین دہانی ہی کافی ہے۔ اپوزیشن اس امر سے آگاہ ہے کہ گورننس اتنا پیچیدہ عمل ہے کہ پی ٹی آئی جیسی نوآموز پارٹی اس پر کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے گی، چنانچہ عمران خان کے پاس عوام کے سامنے سوائے کرپشن کے خلاف اقدامات کا چورن بیچنے کے اور کچھ نہیں ہے، اب جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کرپشن کے الزامات پر اپوزیشن کو ہری جھنڈی دکھادی گئی ہے اس لئے جب تک عمران خان اقتدار میں ہیں تب تک ان کا ہر فیصلہ عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالے گا اور عوام ان سے نالاں ہوتی چلی جائے گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ ڈیووس میں وزیر اعظم عمران خان نے جن عالمی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کی ہیں اس کے نتیجے میں ملک کے اندر بیرونی سرمایہ کاری میں کچھ پیش رفت ہوگی یا نہیں، سی پیک پر امریکہ نے علیحدہ سے پاکستان کو چین کے خلاف میدان کارزار میں تبدیل کردیاہوا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی درجے کوختم کرکے عمران حکومت کیلئے کھلا چیلنج کھڑا کردیاہوا ہے، کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرکے وزیر اعظم نے اپنی بین الاقوامی کمٹمنٹ کو پس پشت ڈال دیاہے اور سعوی عرب نے اپنی بات منوائی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف دور میں پاکستان امریکی کیمپ سے نکل کر چین اور دیگر علاقائی ممالک کے قریب ہورہا تھا، مگر عمران دورکے ایک سال میں وہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے شکنجے میں جا پھنسا ہے اور امریکی استعمار کا غلام بن گیا ہے۔ عمران خان کہتے تو ہیں پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گا لیکن کوئی ان سے یہ پوچھے کہ امریکہ نے کون سی جنگ شروع کی ہے کہ جس میں پاکستان حصہ نہیں بنے گا، اور اگر بالفرض امریکہ نے جنگ شروع کردی تو کیا پاکستان کے پاس اتنی معاشی خودمختاری ہے کہ اس کو انکار کرسکے، خاص طور پر جب ابھی حال ہی میں معاشی مجبوریوں کی بنا پر سعودی عرب کو انکار نہیں کرسکا اور کوآلہ لمپور کانفرنس سے منہ موڑ لیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا تبدیلی کا تجربہ بری طرح فیل ہوگیا ہے اور ایک سیاسی جماعت کے ذریعے مقبول عام سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کی آخری کوشش بھی رائیگاں گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جس طرح حکومت اور اس کے حمائتیوں کی گت بنتی ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ میں ٹھیک ہی لکھا تھاکہ پاکستان میں چوتھا مارشل لاء نہیں لگے گا!

مزید : رائے /کالم