برطانیہ نے سفر، سیر و سیاحت کیلئے پاکستان کو محفوظ ملک قرار دے دیا

برطانیہ نے سفر، سیر و سیاحت کیلئے پاکستان کو محفوظ ملک قرار دے دیا

  



اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) برطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے باعث برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کیلئے سفری ہدایات میں ترمیم کردی،ترامیم میں دیگر ہدایات کے علاوہ اب برطانوی شہریوں کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بموریت جیسی دلفریب وادیوں کے بذریعہ سڑک سفر کو بھی محفوظ قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر نے کہا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران امن و امان کی بہتر فراہمی حکومت پاکستان کی ان تھک کاوشوں کا نتیجہ ہے،مجھے خوشی ہے کہ برطانوی شہری اب پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے۔ جمعہ کوبرطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے باعث برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات میں ترمیم کردی،پاکستان میں امن و امان کی بہتری کی جانب گامزن صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے برطانیہ نے پاکستان کے لیے اپنی سفری ہدایات (یوکے ٹریول ایڈوائس) میں تبدیلیاں جاری کی ہیں،مذکورہ جاری کردہ ترامیم برطانیہ کی جانب سے پاکستان کی امن و امان کی صورتحال کے وسیع پیمانے پر کیے جانے والے تجزیے کے بعد جاری کی گئی ہیں،واضح رہے کہ 2015 کے بعد سفری ہدایات میں واضح طور پر کی جانے والی یہ پہلی ترامیم ہیں،پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال کے باعث جون 2019 میں برٹش ایئرویز نے پاکستان کے لیے اپنی پروازوں کا دوبارہ سے آغاز کردیا ہے، امن وامان کے بہتر حالات کے باعث اکتوبر 2019 میں ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج کا پاکستان کا دورہ ممکن ہوا،ترامیم میں دیگر ہدایات کے علاوہ اب برطانوی شہریوں کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات بشمول کیلاش اور بموریت جیسی دلفریب وادیوں کے بذریعہ سڑک سفر کو بھی محفوظ قرار دیا گیا ہے،پاکستان کے لیے برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچین ٹرنر نے کہادسمبر 2019 میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سفری ہدایات کے تجزیے کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا،گذشتہ پانچ سالوں کے دوران امن و امان کی بہتر فراہمی حکومت پاکستان کی ان تھک کاوشوں کا نتیجہ ہے،مجھے خوشی ہے کہ برطانوی شہری اب پاکستان میں خوبصورت سیاحتی مقامات سے زیادہ لطف اندوز ہوسکیں گے، واضح رہے کہ پرانی سفری ہدایات میں ایف سی او کی جانب سے اسلام آباد سے گلگت تک کے بذریعہ سڑک سفر کی حوصلہ شکنی کی گئی تھی،نئے ہدایت نامے میں یہ حصہ قراقرم ہائی وے پر مانسہرہ سے چلاس کے درمیان مختصر علاقے تک محدود کر دیا گیا ہے،سیاح وادی کاغان سے بابو سر پاس کا متبادل راستہ اختیار کر کے اس حصے پر سفر کرنے سے پرہیز کر سکتے ہیں،اب ایف سی او کی جانب سے کیلاش اور بموریت کی وادیوں تک صرف انتہائی ضرورت پیش آنے کے علاوہ سفر اختیار کرنے کے خلاف ہدایت بھی نہیں دی جا رہی،ایف سی او کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے بیشتر علاقے بشمول کوئٹہ کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے،ان علاقوں میں صوبہ بلوچستان کی ساحلی پٹی اور گوادر شامل نہیں جہاں صرف ضروری نوعیت کے سفر اختیار کرنے کے حق میں مشورہ دیا گیا ہے،ایف سی او کی جاری کردہ مکمل ٹریول ایڈوائس کی طرح یہ ترامیم امن و امان سے متعلق تجزیوں پر مبنی ہیں اور ان پر مستقل بنیادوں پر نظر ثانی کا جاتی ہے،ایک اندازے کے مطابق سال 2018 کے دوران 484,000برطانوی شہریوں نے پاکستان کا سفر اختیار کیاپاکستان سے ہفتہ وار 22 پروازیں لندن جاتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کیلئے برطانیہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشی مسائل کے حل میں مدد ملے گے گی۔وزیراعظم کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ برطانوی ٹریول ایڈوائزری سے سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئے گی جبکہ سیاحت کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ بلاشبہ یہ ایک بڑی خوشخبری ہے جس سے پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور پاکستان کو درپیش دو اہم ترین معاشی مسائل یعنی روزگار کی فراہمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حل میں مدد ملے گی۔اس سے قبل ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے ٹریول ایڈوائزری میں مثبت تبدیلی کا خیر مقدم کیا تھا۔اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ نہایت خوش آئند ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا بیرونی دنیا میں امیج تبدیل ہو رہا ہے۔دوسری طرف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مثبت ٹریول ایڈوائزی سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان روابط مزید مضبوط ہونگے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انتہائی خوبصورت فطری مناظر سے نواز رکھا ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پرتپاک مہمان نوازی پاکستانی سرزمین کا خاصہ ہے، مثبت ٹریول ایڈوائزی سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان روابط مزید مضبوط ہونگے۔ 2015ء کے بعد برطانیہ ٹریول ایڈوائزی کے حوالے سے پہلی بڑی پیشرفت ہے، سب کو خوش ا?مدید کہتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان برطانوی شہریوں کے لئے سفری ایڈوائزری میں مثبت تبدیلی کا خیر مقدم کرتا ہے۔

برطانوی حکومت

مزید : صفحہ اول