زرعی شعبہ بحالی کے اقدامات کی بھر پور حمایت کرتے ہیں: فریدہ راشد

زرعی شعبہ بحالی کے اقدامات کی بھر پور حمایت کرتے ہیں: فریدہ راشد

  



اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر فریدہ راشدنے کہا ہے کہ ملک بھر کی کاروباری برادری وزیر اعظم کی جانب سے زرعی شعبہ کی بحالی کے اقدامات کی بھرپور تائید کرتی ہے۔کسانوں کو کھاد کی مد میں چالیس ارب روپے کا ریلیف دینا خوش آئند ہے۔حکومت نے گیس کی قیمت میں اضافہ نہ کر کے عوام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔فریدہ راشد نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ زرعی شعبہ کو بہتر بنانے کے لئے زمینی حقائق کے مطابق نئی زرعی پالیسی،سیڈ ایکٹ میں ترمیم، آڑھتیوں اور سود خوروں کا کردار کم کرنے اور منافع خوروں و ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کی فوری ضرورت ہے۔ سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے زرعی شعبہ کی گرتی ہوئی کارکردگی ملکی معیشت اور برامدات کے لئے بڑا خطرہ بن گئی ہے اس لئے اس کلیدی شعبہ کو فوری بیل آوٹ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔گزشتہ سال زرعی شعبہ کی شرح نمو ایک فیصد سے کم رہی جبکہ بڑی فصلوں کی پیداوار میں مجموعی طور پر پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔سال رواں میں بھی زرعی شعبہ حکومت کی بھرپور مداخلت کے بغیر قابل ذکر ترقی نہیں کر سکے گا۔انھوں نے کہا کہ کپاس کی برامد میں نمایاں مقام رکھنے والے پاکستان امسال ٹیکسٹائل کی صنعت کو رواں رکھنے کے لئے چار ارب ڈالر تک کی کپاس درامد کرے گا۔کپاس کی پیداوار میں بیس فیصد کمی سے جی ڈی پی کا نصف فیصد کم ہو جائے گاجو تشویشناک ہے۔گنے کی پیداوار بھی اطمینان بخش نہیں ہے جبکہ دیگر فصلوں کا حال بھی اطمینان بخش نہیں۔انھوں نے کہا کہ سیڈ ایکٹ میں ترمیم سے ملک میں غیر معیاری بیج کی فروخت بند کی جا سکتی ہے جس سے پیداواراور کسانوں کی آمدنی بڑھے گی جبکہ قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ زرعی اجناس کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے مگر اس سے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے کیونکہ صورتحال سے سارا فائدہ مڈل مین اٹھا رہے ہیں۔ زرعی معیشت میں مڈل مین اور آڑھتیوں کا کردار کم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ کسان سود خوروں کے چنگل سے اسی وقت نکل سکیں گے جب بینک انھیں بروقت اور سستے قرضے دیں۔ زرعی قرضوں کی حجم تو بڑھ رہا ہے مگر اس سے زیادہ فائدہ بڑے زمیندار اٹھا رہے ہیں۔اس معاملہ میں بینکوں کا فوکس صرف ایک صوبے پر ہے جبکہ باقی صوبوں کو محروم رکھا جا رہا ہے۔ جو یکساں ترقی کے اصولوں کی خلاف وزری ہے جس کو درست کئے بغیر زراعت ترقی نہیں کر سکتی۔

مزید : کامرس