پاکستان میں کرونا وائرس پہنچنے کی خبروں پر وزارت صحت کا موقف بھی آگیا

پاکستان میں کرونا وائرس پہنچنے کی خبروں پر وزارت صحت کا موقف بھی آگیا
پاکستان میں کرونا وائرس پہنچنے کی خبروں پر وزارت صحت کا موقف بھی آگیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین سے دنیا کے کئی ممالک میں پھیلنے والے خطرناک ترین کرونا وائرس کی پاکستان میں موجود گی کی اطلاعات پر محکمہ صحت کا باضابطہ موقف سامنے آگیا۔وزارت صحت نے پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کی تردید کردی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اس حوالے سے غلط رپورٹنگ کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاپاکستان بھر میں کرونا وائرس کا کوئی مریض اب تک سامنے نہیں آیاہے۔ اس حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں درست نہیں۔انہوں نے کہا امید ہے میڈیا اس معاملے پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے گا ،انہوں نے اپیل کی ہے کہ ایسی خبریں بنا تصدیق کے ہر گزنہ چلائی جائیں اور قوم کی تشویش نہ بڑھائی جائے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے گزشتہ روز کہا تھاکہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کی سہولیات موجود نہیں، مشتبہ مریض کا سیمپل چین، ہانگ کانگ اور ہالینڈ کی لیبارٹریز کو بھیجا جائے گا۔

اس سے قبل نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز نے اپنی انگریزی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائر س کا پہلا مریض سامنے آگیا ہے اور وہ ملتان کے نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی انتہائی خطرناک وبا پھیل گئی ہے جس کی وجہ سے ا ب تک پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاو¿ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب لاکھوں افراد نئے چینی سال کی تقریبات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھیلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاو¿ کا خدشہ ہے۔

ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

جمعے کو چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 25 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 830 افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ان مریضوں میں سے 177 کی حلات تشویشناک ہے جوکہ 34 علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ایسے مریض ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ انھیں بھی کورونا وائرس نے متاثر کیا ہے۔

ہوبائی صوبے میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں مگر چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں اب تک صرف 13 تصدیق شدہ کیسز ملے ہیں۔اس کم تعداد کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک وائرس کو بین الاقوامی ایمرجنسی قرار نہیں دیا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /تعلیم و صحت