پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے دعوے بھی ٹھس، پی ٹی آئی رہنما تشدد کاشکار لیکن انصاف کی راہ میں گورنر ہاﺅس آڑے آگیا، ایسی خبر کہ تحریک انصاف کے کارکنان کے ہاتھوں کے بھی طوطے اڑ جائیں

پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے دعوے بھی ٹھس، پی ٹی آئی رہنما تشدد ...
پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے دعوے بھی ٹھس، پی ٹی آئی رہنما تشدد کاشکار لیکن انصاف کی راہ میں گورنر ہاﺅس آڑے آگیا، ایسی خبر کہ تحریک انصاف کے کارکنان کے ہاتھوں کے بھی طوطے اڑ جائیں

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے دعوے کرتی رہی لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے، شاہدرہ میں تحریک انصاف کے ایک دھڑے

نے دوسرے دھڑے کی حمایت کرنے پر پی ٹی آئی رہنماءکو ہی معصوم بچوں کے سامنے تشدد کانشانہ بنادیاگیا، جب پولیس سے رابطہ کیاگیا تو میڈیکل رپورٹ ہونے کے باوجود حکام اندراج مقدمہ سے قاصر ہیں اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گورنر ہاﺅس سے 2مرتبہ فون آچکا، اس تشدد کے وقت موقع پرموجود گورنر کے کوارڈینیٹر کا نام درخواست سے خارج کریں، مقدمہ درج ہوسکتا ہے ۔

ڈیلی پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے تشددکاشکار ہونیوالے شاہدرہ کے علاقے جیاموسیٰ کے رہائشی شیخ ندیم نے بتایا کہ 20جنوری کو انہیں تشدد کانشانہ بنایاگیا جس کی میڈیکل رپورٹ بھی آچکی ہے لیکن تاحال پولیس اندراج مقدمہ سے قاصر ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ سیاسی مخالفت کی وجہ سے انہیں تحریک انصاف کے ہی دوسرے دھڑے نے تشدد کا نشانہ بنایا، وہ بچوں کو سکول سے لینے جارہے تھے کہ انہیں راستے میں ٹیلی فون آیاکہ اپنے دھڑے کا ساتھ چھوڑ دیں، ورنہ تمہارا گھر ہی باقی نہیں بچے گا اور گالم گلوچ کیاگیا، 6سالہ بیٹا اور 9سالہ بیٹی کو لے کر سکول سے واپس گھر آرہاتھا کہ راستے میں بیٹھے ان لوگوں نے مارا ، میرے دونوں ہاتھوں میں بچوں کے بیگ تھے اور منتیں کرتا رہا کہ بچوں کے سامنے نہ ماریں، بچوں کو گھر چھوڑ کر واپس آجاتاہوں، بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں لیکن انہوں نے کوئی بات نہ سنی ، یہاں کئی لوگ دیکھنے والے بھی تھے۔

ابھی گھر پہنچا کہ تھوڑی دیر میں پانچ افراد آئے اورگھر سے پکڑ کر مبینہ طورپر گورنر پنجاب کے کواڈینیٹر میاں وحید احمد کے چھوٹے بھائی کی فیکٹری میں لے آئے جہاں تشدد کا نشانہ بنایا، ناک کی ہڈی بھی توڑدی، بعد میں میاں وحید موقع پر پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائی سے ہی کہا کہ یہ کیا کردیا؟ شیخ ندیم نے انکشاف کیا کہ تین مرتبہ پولیس ہیلپ لائن 15پر کال کی جاچکی تھی جس کا ریکارڈ موجود ہے لیکن پھر ملزم کے نمبر پر ہی متعلقہ ایس ایچ او تھانہ شاہدرہ کا ٹیلی فون آیا تو میری بات کروائی گئی ،تھانیدار کو بتایاکہ زبردستی اٹھا کر لائے ہیں وغیرہ تو تھانیدار نے جواباً اتنا کہا کہ آپ میرے پاس آجائیں ، دیکھ لیتے ہیں ، بعد میں کچھ اہلکاروں نے برآمد کیا اور ہسپتال سے میڈیکل کے بعد اندراج مقدمہ کی درخواست دیدی۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ ندیم نے بتایاکہ پولیس کے ہائی رینکس نے اس واقعے کو پارٹی کااندرونی معاملہ قراردیا اور کہاکہ گورنر ہاﺅس سے دومرتبہ کال آچکی ہے ، معاملے کو سیاسی نہ بنائیں،میاں وحید کا نام نکال دیں تو مقدمہ درج ہوجائے گا۔ شیخ ندیم کاکہناتھاکہ 8787پر بھی شکایت کی جس پر حکام نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ میرٹ پر کام کریں لیکن تاحال مقدمہ ہی درج نہیں ہوسکا، گرفتاری یا انصاف کی فراہمی تو کوسوں دور کی بات ہے۔ ان کاکہناتھاکہ ایک آدمی کو سیاسی طور پر ملوث نہیں کررہے، اس کا صرف ذکر کیا، تشدد ہی صرف سیاسی وجہ سے ہوا۔

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /لاہور