"ایران کیساتھ گیس پائپ لائن پر کام رک گیا" حکومت نے پریشان کن اعلان کردیا

"ایران کیساتھ گیس پائپ لائن پر کام رک گیا" حکومت نے پریشان کن اعلان کردیا

  



اسلام آباد(آئی این پی)حکومت نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ پر کام ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث رک گیا ہے، پاکستان نے منصوبے کی تیاری کی اہم سرگرمیوں کو مکمل کر لیا ہے،حالیہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے ساتھ ایران اور پاکستان نے آئی پی، جی ایس پی اے کیلئے ایک ترمیمی معاہدہ پر دستخط کیا ہے تاکہ منصوبے کی تکمیل کیلئے دونوں اطراف کو مزید 5سال کا عرصہ دیا جا سکے تاہم مزید کوئی بھی پیش رفت امریکی پابندیوں کے اٹھ جانے سے وابستہ ہے، ملک میں تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبوں میں 50کمپنیاں کام کر رہی ہیں،جن میں 15مقامی اور 35غیر ملکی ہیں۔ْ

کیکڑا ون انڈس جی بلاک میں واقع ہے اس کی 5693 میٹر گہرائی تک کھدائی کی گئی بدقسمتی سے کنواں خشک تھا،8جنوری 2020تک سیکرٹری قانون کے سیٹیزن پورٹل پر 417قابل کارروائی شکایات موصول ہوئیں،جن میں سے395کو نمٹا دیا گیا۔ خیبرپختونخوا پولیس کے 8اہلکاروں کو حج مشن 2019کیلئے منتخب کیا گیا، ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان اور اعظم خان سواتی سمیت دیگر نے ارکان کے سوالوں کے جواب میں کیا۔اجلاس کے دوران سابقہ حکومتوں پر تنقید کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر پرویز رشید وفاقی وزیر عمر ایوب خان پر برس پڑے،پرویز رشید نے کہا کہ جب سابقہ حکومت کام کر رہی تھی تو یہ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے،ان کو کہیں سوالوں کے جواب دیں ورنہ پھر موجودہ حکومت کی بات بھی ہو گی اور ان سے تین سو ڈیموں کا پوچھا جائے گا۔اجلاس میں ادارہ برائے خالص خوراک کے قیام کے بل پر قائمہ کمیٹی داخلہ کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بل کے ذریعے ملاوٹ کرنے والے کی سزا بڑھا کر تین سال اور جرمانہ دس لاکھ کردیا گیا۔اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم سے پارلیمنٹ آکر جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے پہلی ترجیح کشمیر کو نہیں افغانستان کو دی،کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی آئی ہے،تبدیلی سرکار نے کشمیر پر یو ٹرن لے لیا ہے، اگر حکومت نے کشمیر پالیسی میں تبدیلی لائی ہے تو ایوان بالا میں بتایا جائے۔

اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے وزیرقانون فروغ نسیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر دھمکی دینے کا الزام لگایا ہے، مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے مجھے دھمکی دی کہ یاد رکھیئے گا، ان سے وضاحت طلب کی جائے، کراچی میں بوری بند لاشیں بھی آتی رہیں،وکیلوں کو جلایا گیا، بلدیہ فیکٹری میں لوگوں کو جلایا گیا، یہ بلدیہ فیکٹری کے قاتلوں کے بھی وکیل تھے اور وہ دھمکیاں دیتا پھر رہا ہے، میں دھمکی نہیں دیتا اور دھمکی وصول بھی نہیں کرتا،ڈگری تو ان کی چیک ہوئی نہیں۔سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کی شدید تنقید کے بعد حکومت" ملکیتی حقوق برائے خواتین(ترمیمی) آرڈیننس " واپس لینے پر رضامند ہو گئی جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ آرڈیننس میں پیش کی گئی ترمیم قائمہ کمیٹی کے اندر بل میں پیش کر دیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد