پاکستان میں میڈیا بحران کی خبریں لیکن دراصل میڈیا کو کس طرح کنٹرول کیا جاتا رہا ؟ معروف کالم نویس نے سارا نقشہ کھینچ دیا

پاکستان میں میڈیا بحران کی خبریں لیکن دراصل میڈیا کو کس طرح کنٹرول کیا جاتا ...
پاکستان میں میڈیا بحران کی خبریں لیکن دراصل میڈیا کو کس طرح کنٹرول کیا جاتا رہا ؟ معروف کالم نویس نے سارا نقشہ کھینچ دیا

  



لاہور(کالم: نوید چودھری) پاکستان کے بہت سے اہم معاملات سے متعلق بڑے بڑے فیصلو ں اور واقعات کا علم ہمیں میڈیا ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔آج کا موضوع اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستانی میڈیا پر کبھی اس طرح کا بحران نہیں آیا تھا،

جیسا اب آیا ہے۔ اس کے پیچھے حکمران اشرافیہ اور شریک اشرافیہ کی وہ ذہنیت کام کر رہی ہے جو ہر کسی پر غلبہ چاہتی ہے تاکہ ملک میں اس کی مرضی چلے اور معاملات اس کے ہاتھ سے باہر نہ جائیں۔ موجودہ بحران ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ تمام اداروں کو رام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میڈیا کے معاملات پر بھی بہت غورو فکر کیا گیا ہے۔ یہ احساس سب کو ہے کہ میڈیا بڑے بڑوں کو نگل جاتا ہے…… کسی زمانے میں امریکہ کے ایک دانشورنے میڈیا کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔

اسی تصور کے پیش نظر پرویز مشرف کی آمریت کے دوران ملک میں ان گنت ٹیلی وژن چینلوں اور ایف ایم ریڈیو کے لائسنس دیئے گئے۔ اس کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کی تحریک میں میڈیا نے حکومت مخالفت میں مؤثر کردار ادا کیا تو ملکی پاور سٹیک ہولڈر میڈیا کو کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔یہ کام دو تین طریقوں سے کیا جا سکتا تھا۔کارکن صحافیوں کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے سے یا مالکان کو لالچ دے کریا ان پردباؤ ڈال کر……

لیکن جب ان طریقوں سے میڈیا کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو پھر حکومتی ہم خیال لوگوں کو صحافت میں آگے لانے اور نئے صحافتی ادارے قائم کرنے پر کام کیا گیا۔ان اداروں نے کارکن صحافیوں کو اچھا معاوضہ دینا اور ان سے مرضی کاکام لینا شروع کیا۔اس طرح 2002ء کے دھرنوں پر میڈیا نے اپنا زور رکھا۔ اس دوران حکومت کے جانے کی خبریں بھی چلیں، ”ڈان“ جیسے چینل نے بھی یہ خبر دی۔ اسی دوران ٹیلی وژن کیبلز کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف حربے برتنے اور ٹیلی وژن چینلوں پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 2018ء کے انتخابات کے بعد تو نئی حکومت کے وزیراطلاعات فواد چودھری نے صاف کہہ دیا کہ نیوز چینلوں کی گنجائش نہیں، انہیں پیچھے لے جائیں گے اور انٹر ٹینمنٹ کو آگے لایا جائے گا۔

یہ بھی سوچا گیا کہ پاکستان میں چین، شمالی کوریا اور ایران جیسا میڈیا نظام ہونا چاہئے……جو اس لائن پر نہیں آتا تھا، اس کے خلاف فوری کارروائی ہوتی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ میڈیا کو ایک”وٹس ایپ“ گروپ کے ذریعے چلایا جائے۔ میڈیا کو ہدایات دی جانے لگیں۔ معاملات میں جب سختی آئی تو نئے طریقے بھی ڈھونڈ لیے گئے۔ یہ منصوبہ بنایا گیا کہ نامی گرامی صحافیوں کو نشانہ بنایا جائے اور انہیں بدنام کیا جائے۔

یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا، اس سلسلے میں انہیں پیچھے ہٹنا پڑا، ہتک عزت جیسے معاملات میں تو میڈیا کے خلا ف مقدمات بننے چاہئیں، لیکن جب ایک سیاسی حکومت میڈیا پر پابندی عائد کرتی ہے تو اس کے خلاف بین الاقوامی دباؤ آتا ہے۔ ملک میں میڈیا کا گھیرا ؤ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کارکنوں اور مالکان کی سطح پر گرو پنگ کرائی گئی، ہدایات اوپر سے آتی ہیں۔ میڈیا اداروں کو ایسے ایسے نوٹس آتے ہیں جو شرمناک ہیں۔ ایک گھیراؤ کی سی کیفیت ہے۔ فنانس روکنے کے انتظامات بھی کیے گئے۔ اشتہاری کمپنیوں کو مخصوص اداروں کو ادائیگی کرنے سے روک دیا گیا۔

اس طرح کے حربوں میں آئے روز اضافہ ہوتا چلاگیا۔ ایک مربوط ایکشن کے ذریعے میڈیا کا گھیراؤ کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کے آنے سے ہر طرح کے کاروبار اور صنعتی پیداوار میں بہت کمی آگئی ہے۔

آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے ذریعے ہماری اقتصادی مشکیں کس دی گئی ہیں۔ بلیک منی بھی کاروبار کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس سے کاروبار چلتا رہتاہے، لیکن اب معیشت سے بلیک منی نکل گئی ہے۔ اب اشتہارات کی آمدنی میں بھی بہت کمی آ گئی ہے۔ ڈالر اوپر جانے سے بھی میڈیاکے حالات بگڑ گئے ہیں۔ معیشت کی کمزوری کے اثرات بھی میڈیا پر آگئے ہیں۔

ہم خود سوچ سکتے ہیں کہ اگر میڈیا ملازمین کو چھ چھ ماہ تک تنخواہ نہیں ملے گی تو ان پر کیا بیتے گی؟ حکومت نے دیئے گئے سرکاری اشتہارات کی ادائیگی بھی روک رکھی ہے۔ بار بار کے وعدوں کے بعد بھی ادائیگیاں نہیں ہو سکیں۔ ایسے میڈیا ہاؤسز بھی ہیں، جن کی آمدنی کے ذرائع کا کچھ علم نہیں۔ یہ میڈیا ہاؤسز ایک خاص انداز میں پر و پیگنڈا کررہے ہیں۔ حکومتیں میڈیا اور عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اس ساری صورتِ حال میں میڈیا کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ تو نکلے ہی گا،لیکن بہت مشکل ہے۔ صحافت میں خبروں پر گہری نظر رکھنے اور خبری تکنیکس کے علاوہ انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کرنے کی مہارت اور وسیع معلومات عامہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں زبان کی کمزوریوں کی وجہ اس کی طرف سے ریٹنگ کے مسئلے کو اولیت دینا ہے۔ اب تو مختلف سیمینار ز میں اوپر والوں کی طرف سے بعض لوگ گھسا دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ ایک مخصوص نقطہ نظر کا پر چار کریں۔ ایسے افراد کے لئے پیرا شوٹرز کی اصطلاح رائج ہے۔

اعلیٰ صحافی روایات اور اقدار کی دھجیاں اُڑائی گئی ہیں۔مختلف صحافتی اداروں میں اپنے بندے رکھو انے کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے۔ ائیر ٹائم جنہوں نے خریدا ہوتا ہے، اس دوران انہی کی بات چلتی ہے۔ غیر جانبدار افراد کو آف ائیر کردیا گیا ہے۔ بہت سے کالم شائع کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے،جنہیں لوگ فیس بک پر ڈال دیتے ہیں۔ پیر اشوٹرز نے الیکٹرانک میڈیا میں بہت گند ڈالا ہے۔

میڈیا والوں کو موضوعات دیئے جاتے ہیں۔ جہاں تک کشمیر کے مسئلے کا معاملہ ہے، اسے انسانی حقوق کے لحاظ سے تو اچھا لا جا رہا ہے، لیکن ہم استصواب رائے کی بات نہیں کررہے۔ اگر کوئی یہ بتائے کہ ہمیں عالمی سطح پر ڈپلومیسی میں کیا ناکامی ہوئی ہے؟ تو ایسا بتانا کسی طرح ملک دشمنی تو نہیں ہے۔ اپنے لوگوں کو تو ایسی باتیں واضح طور پر بتانی چاہئیں۔ ایسے حقائق سامنے نہ لانے کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ موجودہ صورت حال کی مثال ہم ایوب خان کے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈ نینس سے بھی نہیں دے سکتے،جنہیں سیاہ قوانین کہا جاتا تھا۔

حاکموں کے لئے مشکل یہ ہے کہ اگر یہ سوشل میڈیا کو بند کرنے کی کوشش کریں گے تو اس سے بین لاقوامی پریشر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت حکومت مختلف بلا گرز کے خلا ف کیس بنا رہی ہے، جبکہ یہ لوگ آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور سچے کھرے پاکستانی ہیں۔ میڈیا ریاست کا ستون ہے،اسے کمزور نہیں کیا جانا چاہیے، اس طرح پاکستان کمزور ہوگا۔ اگر کوئی خود کو مضبوط کرنے کے لئے چاہتا ہے کہ تین ستون کمزور کر دیئے جائیں تو اس طرح وہ خود بھی کمزور ہوگا۔ ہمیں حماقتوں سے بچنا بھی ہے اورآگے بھی بڑھنا ہے۔

اسلام اور پاکستان کے ساتھ ہماری وفاداری کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ایک ادارے ہی کا مفاد قوم کا مفاد نہیں ہو سکتا۔سب اداروں کو آزاد اور مؤثر ہونا چاہئے اوراپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔ معاشرے کے مختلف طبقات میں تقسیم پید ا کی گئی ہے، تقسیم سے قوم کمزور ہوتی ہے۔ صحافیوں کی سوچ وہی پہلے والی ہے، کیونکہ ہمارے مسائل بھی وہی پرانے ہیں۔

بہتر یہی ہے کہ اس سلسلے میں فریقین آئینی راستہ اختیار کریں۔ ہر کوئی آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرے۔ اسی طرح بہتر ی کی صورت نکلے گی۔ ہم نے صحافتی اداروں کو بھی بچانا ہے اور ملکی مفاد کو بھی دیکھنا ہے۔ اس وقت جوکچھ مسلم ممالک کے ساتھ کیا جارہا ہے، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ وائس آف امریکہ پرامریکی وزیر خارجہ پومپیو کا بیان تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کے لئے خطرناک ہے۔ سی پیک کے سلسلے میں بھی امریکہ نے اپنا غصہ کبھی نہیں چھپایا۔ یہ درست ہے کہ جب تک ہم متحد ہو کر ان خطرات سے نہیں نمٹیں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔

پورے ملک کا مفاد ہی سب کا مفاد ہے۔ یہاں یکساں انصاف نہیں، مقدس گائے کا تصور بالا ہے۔ بڑے بڑے مجرم ”محترم“ اور”معزز“ ہیں۔ جو آئین توڑتا ہے، وہ محترم بنا پھرتا ہے۔ اربوں کی کرپشن کرنے والے مزے میں رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو بھی جیل میں ڈالیں تو سب درست ہو جائے گا۔ بظاہر ایسے اشارے موجود ہیں کہ پچھلے چند سالوں کے دوران کی جانے والی فاش غلطیوں کے ازالے کے لئے کچھ اقدامات کیے جارہے ہیں، لیکن شائد صورت حال کچھ زیادہ ہی بگڑ چکی ہے۔ معاملات کو مکمل طور پر درست سمت میں ڈال دیا جائے، تب بھی مثبت اثرات سامنے آنے میں کافی وقت لگے گا۔ کسی کو اچھا لگے یا برا لیکن اصل حقیقت یہی ہے۔

(مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے زیراہتمام نشست میں گفتگو)

۔

نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور