پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے امریکا اور چین متفق، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے امریکا اور چین متفق، بھارت میں صف ماتم ...
پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے امریکا اور چین متفق، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے امریکا اور چین متفق نظر آتے ہیں جبکہ بھارتی میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔امریکا اور چین کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے کے حوالے سے ی خبریں گزشتہ کچھ دنوں سے سامنے آرہی ہیں تاہم اب بھارتی اخبارات نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹس شائع کی ہیں کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیاجائے گا۔بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا یہ فیصلہ بھارت کیلئے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ نیوز18پر شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑے اتحادی چین کی جانب سے پاکستان کورا مید افزا اشارے مل گئے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کیخلاف کارروائی کیلئے اس کی جانب سے کی گئی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے انداز سے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ ماہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر آسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے میں ایک مرتبہ پھر چین نے اس کا ساتھ دیا ہے۔ چین اور کچھ مغربی ممالک کی سفارش کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے کے اقدامات میں تیزی آئی ہے۔

بھارتی ویب سائٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنڈنگ روکنے کیلئے پاکستان کو 27 نکات کا ایکشن پلان دیا تھا۔ ان نکات پر21 سے 23 جنوری کو بیجنگ میں اہم اجلاس ہوا ۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس میٹنگ میں چین، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان جیسے ممالک نے پاکستان کے ایکشن پلان کے خلاف کوئی منفی رائے نہیں دی ہے۔

بھارتی میڈیاکے مطابق امریکہ ان دنوں افغانستان میں طالبان سے امن کی بات چیت میں لگا ہوا ہے اور اس موقع پر اسے پاکستان کے ساتھ کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ سے ایران کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی کم کرنے میں بھی پاکستان اپنا اہم کردار نبھا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس مرتبہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان اور ایف اے ٹی ایف حکام کے درمیان بیجنگ میں چند روز قبل اہم اجلاس ہوا تھا جس میں اسلام آباد نے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی۔پاکستانی وفد نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں اور ٹیرر فنانسنگ کے کیسز میں ملک بھر میں 1104 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے کیس رجسٹریشن میں 451 فیصد اضافہ ہوا اور اس ضمن میں گرفتاریوں کی شرح بھی 677 فیصد بڑھ گئی ہے۔ایف اے ٹی ایف حکام کو بتایا کہ ان کیسز میں سزائیں دینے کے عمل میں 403 فیصد اضافہ ہوا اور 31 کروڑ 42 لاکھ کی برآمدگی ہوئی ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ دسمبر 2019 تک ٹیرر فنانسنگ کے 827 کیس رجسٹرڈ ہوئے۔ان کیسز کے نتیجے میں ملک بھر سے 1104 گرفتاریاں ہوئیں اور 196 افراد کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ پاکستان کی جوابی رپورٹ پر ایف اے ٹی ایف حکام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس فروری میں پیرس میں ہوگا جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

گزشتہ روز وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایف اے ٹی ایف یعنی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور امریکی شہریوں کے پاکستان کے سفر سے متعلق ہدایت نامے میں تبدیلی لانے جیسے اہم معاملات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے ’اردو نیوز‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں ہونے والی ملاقات میں امریکی صدرنے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو ٹھوس قرار دیتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

شاہ محمود کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزیر خزانہ اور باقی 20 افراد کی موجودگی میں کہا’پاکستان کی موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے اور امریکا کو پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے۔‘

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مال معاونت کے نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کو امید ہے کہ امریکا، پاکستان کی آئندہ ماہ بیجنگ میں اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف کی فہرست سے نکلنے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

دوسری جانب سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق چین نے کہاہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق مقامی سسٹم کو مستحکم کرنے میں بڑی کاوشیں اور پیش رفت کی ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری کو پاکستان کی فعال سرگرمیوں کو تسلیم اور حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔

جمعرات کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاایف اے ٹی ایف ایک اہم بین الاقوامی فورم ہے، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ سے انٹرنیشنل فنانسنگ سسٹم کا غلط استعمال روکنے میں مدد ملے گی۔ ترجمان نے کہاپاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق مقامی سسٹم کو مستحکم کرنے میں بڑی کاوشیں اور پیشرفت کی ہے۔عالمی برادری کو اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو تسلیم اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاہم توقع رکھتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق سسٹم کی بہتری اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف موثر جنگ میں پاکستان کی تعمیراتی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ایشیاءپیسفک جوائنٹ گروپ کے صدر کی حیثیت سے چین بامقصد اور منصفانہ تعمیراتی رویہ برقرار رکھے گا اور متعلقہ بحث میں حصہ لے گا۔

مزید : اہم خبریں /قومی