دنیا کے امیر ترین آدمی کا سعودی ولی عہد پر فون ہیک کرنے کا الزام لیکن قصور اپنی ہی گرل فرینڈ کا نکلا، اصل کہانی سامنے آگئی

دنیا کے امیر ترین آدمی کا سعودی ولی عہد پر فون ہیک کرنے کا الزام لیکن قصور ...
دنیا کے امیر ترین آدمی کا سعودی ولی عہد پر فون ہیک کرنے کا الزام لیکن قصور اپنی ہی گرل فرینڈ کا نکلا، اصل کہانی سامنے آگئی

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سال قبل دنیا کے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کا اپنے دوست کی نیوز اینکر بیوی لورین سینشز کے ساتھ معاشقہ منظر عام پر آیا جب نیشنل انکوائرر نامی اخبار نے جیف اور لورین کی قابل اعتراض تصاویر لیک کر دیں۔ جیف بیزوس کی طرف سے اس وقت بھی اس کا الزام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر عائد کیا گیا اور اب تحقیقات میں بھی مبینہ طور پر شہزادہ محمد ہی کا نام لیا گیا کہ انہوں جیف بیزوس کا موبائل فون ہیک کر کے اس سے یہ تصاویر چوری کیں۔ تاہم اب اس کے برعکس حقیقت سامنے آ گئی ہے اور قصور جیف بیزوس کی گرل فرینڈ لورین سینشز ہی کا نکل آیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق وال سٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جیف بیزوس اور لورین کی تصاویر لیک ہونے میں شہزادہ محمد کا نہیں بلکہ خود لورین ہی کا قصور ہے۔ اس نے یہ تصاویر اپنے بھائی مائیکل سینشز کو بھیجی تھیں اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے اسے اپنے اور جیف بیزوس کے معاشقے کے متعلق بتایا تھا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق لورین کے لالچی بھائی مائیکل سینشز نے یہ تصاویر اور دیگر معلومات نیشنل انکوائرر کو 2لاکھ ڈالر (تقریباً 3کروڑ 9لاکھ روپے) میں فروخت کر دیں۔شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ نیشنل انکوائرر اور مائیکل سینشز کے درمیان اکتوبر 2018ءمیں ان معلومات کی خریداری کا معاہدہ ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جیف بیزوس خود کو تحقیقات کروا رہے تھے ان میں گزشتہ دنوں بتایا گیا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے جیف بیزوس کو واٹس ایپ پر ایک ویڈیو بھیجی اور جب انہوں نے یہ ویڈیو کھولنے کی کوشش کی تو ان کا فون ہیک ہو گیا کیونکہ اس ویڈیو میں کوئی وائرس شامل تھا۔

جیف بیزوس کی طرف سے الزام لگایا گیا تھا کہ ترکی میں سعودی سفارتخانے کے اندر واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر واشنگٹن پوسٹ نے جس طرح کی رپورٹنگ کی تھی اس پر شہزادہ محمد کو بہت غصہ تھا۔ چونکہ یہ اخبار جیف بیزوس کی ملکیت تھا چنانچہ شہزادہ محمد نے ان کی یہ تصاویر لیک کرکے بدلہ لیا۔ جیف بیزوس کی اپنی تحقیقاتی ٹیم کی اس رپورٹ کے بعد اقوام متحدہ کے مطالبے پر امریکی تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس معاملے پر تحقیقات شروع کر دیں جن میں یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ تصاویر لیک کرنے والی خود لورین سینشز تھی۔

مزید : بین الاقوامی /بزنس