پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا

پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا
پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا

  



سرینگر (ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فورسز نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا،جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے قصبے ترال میں سکیورٹی فورسز نے ہفتے کی صبح ایک سرچ آپریشن شروع کیا جو کہ رات تک جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کی صبح ترال کے گاوں ہاری پاری گام میں اونتی پورہ پولیس اور بھارتی فوج کے 3 آر آر دستے(راشٹریہ رائفلز) نے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی کے نام پر ظلم کا بازار گرم رکھا  ،بھارتی فورسز کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں جہادی تنظیم  جیش محمد کے تین حریت پسند موجود تھے۔کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی اہلکار پون کمار، رنجیت سنگھ، منڈل بورے بھی زخمی ہوئے۔آپریشن کے دوران مقامی علاقے کے نوجوان سڑکوں پر نکلے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراوکرنا شروع کیا۔پتھراوکے جواب میں فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ پولیس کے مطابق تین مجاہدین میں سے ایک قاضی یاسر ہیں جو جیش کے اعلیٰ ترین کمانڈر ہیں،دوسرے مجاہد برہان شیخ جبکہ تیسرے کی شناخت موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی فورسز نےسرچ آپریشن اور گھر گھر تلاشی کے نام پر مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی زندگی عذاب کی ہوئی ہے اور ہر دوسرے روز’مجاہدین‘کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنا بھارتی فورسز کامعمول ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ مقبوضہ وادی میں پانچ اگست 2019 کے بعد بھارتی فوج کی جانب سے آپریشن نہیں ہوئے تھے تاہم مسلسل کرفیو  کی وجہ سے کشمیری عوام کا جینا محال ہوا ہے،اب  گزشتہ کچھ دنوں سے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر گھر گھر تلاشی کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ تحریک آزادی کی جدوجہد میں کوئی کمی نہیں لارہے۔

مزید : قومی