ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور حکومتی تنقید،معروف صحافی نے رپورٹ کی مخالفت کرنے والوں کو کھلا چیلنج دے کر تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور حکومتی تنقید،معروف صحافی نے رپورٹ کی ...
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور حکومتی تنقید،معروف صحافی نے رپورٹ کی مخالفت کرنے والوں کو کھلا چیلنج دے کر تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ کر دیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے ملکی سیاست کا ماحول مزید گرما دیا ہے جبکہ حکومت  رپورٹ کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت کے لتے لینے میں  مصروف ہیں ،معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے  ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر کئی سوالات اٹھائے  جس کے بعد سوشل میڈیا میں اس رپورٹ کے حق اور مخالفت میں ایک نئی بحث شروع  ہو چکی ہے ،ایسے میں نجی اخبار سے وابستہ معروف تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے ایسا کھلا  چیلنج دے دیا ہے کہ حکومتی وزرا پریشان ہو جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق معروف تحقیقاتی صحافی فخر درانی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ صحافی بغیر تحقیقات کیےحکومت کی طرف سےغلط معلومات فیڈکیےجانےکی وجہ سےحکومتی پراپیگنڈاکاشکارہوگئےہیں۔انہوں نےکہاکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں شامل کیےگئے8ایجنسز کےسروے میں سے کوئی بھی ڈیٹا سیٹ فروری 2015 سے جنوری 2017 تک کا نہیں،ان تمام لوگوں کو کھلاچیلنج ہے جو یہ ثابت کردیں۔

اس سے قبل فخر درانی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ عالمی کرپشن انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد سات اشاریوں پر ہے،اُن کے بغیر اعدادوشمار نامکمل سمجھے جاتے ہیں،اِنہیں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اختیار کیا گیا ہے،جبکہ رپورٹ کی تیاری میں مزید تین طریقہ کار بھی اختیار کیے گئے ہیں لہٰذا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر حکومت کے اعتراضات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد