مشکل وقت

مشکل وقت
مشکل وقت

  

کبھی کبھی انسان ایسے ایسے امتحان سے گزرتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مگر مومن کی سب سے بڑی جاگیر اور سرمایہ خدا پر بھروسہ و توکل ہے۔ انسان مشکلات میں گِھر جانے کے باوجود اگر اپنے خالق پر اپنے ایمان کو مضبوط رکھے تو وہ خالق بھی اپنے بندے کو کبھی نہ تو تنہا چھوڑتا ہے اور نہ ہی بے یارو مدد گار رہنے دیتا ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ نشیب و فراز، مشکلات و گرداب کے اس سیلاب میں انسان بہت کچھ سیکھتا ہے جو شاید کسی بڑے سے بڑے تجربے سے بھی سیکھنے کو نہیں ملتا۔ سب سے بڑی بات تعلق باللہ کی مضبوطی انسان کو مختلف فکروں کا مسافر بنا دیتی ہے۔ مجھے  اس کا اندازہ تب ہوا جب چشم تصور نے زندگی کی حقیقت اور موت و زندگی کی کشمکش میں اپنے خالق و مالک کو بہت قریب پایا اور اس کی مدد و نصرت کو اپنی پرنم آنکھوں سے کئی بار دیکھا اور محسوس کیا۔

پانچ جنوری کو اچانک گلا خراب ہوا اور پھر  بخار نے آ گھیرا۔ علاج شروع کیا تو صورتِ حال کورونا تک جا پہنچی۔ایک آدھ دن کے بعد نمونیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سانس لینے میں شدید تکلیف محسوس ہونے لگی۔سترہ جنوری کی صبح جب جسم بے آب مچھلی کی طرح تڑپ اْٹھا تو ایمبولنس بلوا کر سینٹ جا رجز ہسپتال لندن جا پہنچا۔ آکسیجن کی شدید کمی تھی، پھیپھڑے خود سے سانس لینے سے قاصر تھے۔ اللہ کے سوا کوئی امید نہیں تھی۔ آکسیجن ماسک، شدید بخار، کو رونا وائرس، نمونیہ اور ٹونسلائیٹس سب کا حملہ ایک ساتھ ہو گیا۔ مَیں اس قدر مشکل سے سانس لے رہا تھا کہ مجھے لگا شاید یہ میری زندگی کے آخری لمحات ہیں۔رب سے دُعاؤں کا سلسلہ تو کئی روز سے جاری تھا، مگر ان لمحات میں اپنے خالق سے توبہ اور اس پر اُمید و توکل نے میری ہمت باندھے رکھی اور چند دن آکسیجن پر رہنے کے بعد خدا نے شفا عطا فرما دی جسے یقینا اللہ رب کعبہ کی طرف سے ایک نئی زندگی سے کسی طور بھی کم تر تصور نہیں کیا جا سکتا۔

آپ سب قارئین کی دُعاؤں کا بے حد شکر  گذار و ممنون ہوں،میرے محسن چودھری خادم حسین صاحب بیماری کے ایام میں مسلسل رابطے میں رہے۔بہت سے دوست احباب،والدین اور عزیز واقارب خاص طور پر دُعا فرماتے اور حو صلہ افزائی کرتے رہے جن کا احسان مند ہوں۔ کورونا پر مسلسل ایک سال سے لکھ رہا ہوں اور ہمیشہ سب کے لئے دُعا گو  رہتا تھا اور ہوں کہ اللہ آپ سب کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے، مگر چونکہ برطانیہ میں اس وقت کو رونا کی نئی لہر جاری ہے، جس نے لندن کو خاص طور پر بڑی بْری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک کے گردونواح میں بھی کو رونا کی نت نئی شکلیں معصوم عوام کو شدید علیل کر رہی ہیں،جو اس وقت کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور سڑکوں پر پولیس کا گشت۔

برطانوی اخبار ڈیلی ”ٹیلی گراف“ کے مطابق اسرائیل 80 فیصد،عرب امارات 60 فیصد اور بحرین30 فیصد عوام کو ویکسین لگا چکا ہے،جبکہ اِسی رپورٹ کے مطابق حکومت برطانیہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی صرف پانچ فیصد عوام کو ہی ویکسین لگا سکی ہے، جن میں ہسپتالوں کا عملہ اور کچھ بزرگ شہری شامل ہیں، جبکہ باقی 95فیصد عوام اللہ کے بھروسہ پہ زندگی گزاررہے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر ہے کہ جس نے فا ئزر کی ویکسین دنیا میں سب سے پہلے ریگولیٹ کرنے کے باوجود عوام تک اس کی رسائی کو ابھی تک ممکن نہیں بنایا۔ اس سے قبل سکولوں کو کھلے رکھنے کے فیصلے، پہلے لاک ڈاؤن کے بعد ریستوران کو عوام کے لئے نہ صرف کھولنے بلکہ ان کو حکومتی لیول پر رعایت دے کر باہر کھانا کھانے کی ترغیب دی گئی اوریونیورسٹیوں و کالجوں کو کھلا رکھا گیا۔

ایسے اقدامات حکومتی ناقص پلاننگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں، مگر کاش کہ حکومت برطانیہ عقلمندانہ فیصلے کرتی تو عوام اس قدر مشکلات و مسائل کا شکار نہ ہوتے۔ اب جبکہ حال ہی میں چین نے پاکستان کو ویکسین کی پہلی کھیپ مفت دینے کا ا علان کیا ہے۔ پاکستان کو 31 جنوری تک ویکسین کی 5 لاکھ، جبکہ فروری کے آخر تک بھی مزید خوراکیں مل جائیں گی۔ یہاں حکومت کی طرف سے کچھ متضاد دعوے بھی کئے جارہے ہیں، جن میں ڈاکٹر فیصل کی طرف سے رواں سال میں دو کروڑ ویکسین لگانے کا بیان سامنے آیا ہے۔ یہ بھی کوئی بہت خوش آئند نہیں ہے اس پر مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔.

پاکستان کو برطانیہ سے سبق سیکھ کر ویکسین کو میڈیکل، پیرا میڈیکل اور بزرگ شہریوں تک سب سے پہلے پہنچانے کے عمل کو یقینی بنانا ہو گا اور برطانوی حکومت کی طرح عوام کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ حکومت پاکستان اس معاملے میں کافی سست روی سے کام لے رہی ہے، جو کہ کسی طور بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ حکومت کو اس بات  کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کورونا کی نئی لہر برطانیہ سے ہوتی ہوئی پوری دنیا میں پھیلنے کو بے تاب ہے۔ اِس لئے پاکستانی حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔ ابھی سے مزید ویکسین کا فوری آرڈر کر دینا چاہئے تاکہ پاکستانی عوام برطانوی عوام کی طرح خود کو بے یارو مددگار محسوس نہ کریں اب دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -