بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کے پس پردہ حقائق

بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کے پس پردہ حقائق
بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کے پس پردہ حقائق
سورس:   File

  

        بھارتی قوم 26جنوری کو ہر سال 1951سے یوم جمہوریہ کے طور پر مناتی ہے کیونکہ 26جنوری 1950ء کو بھارت کا آئین بنایا گیا جس کی رو سے بھارت کو جمہوریہ بھارت کا درجہ دیا گیا تھا۔اس دن کی مناسبت سے جہاں ایک طرف سارے بھارت میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ثابت کرنے کے لئے مختلف تقاریب کاا نعقاد کرتے ہوئے جمہوریت کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے تو وہاں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ کے لگ بھگ فوجی اور نیم فوجی دستوں کی بندوقوں اور ٹینکوں کے سائے تلے خطہ کشمیر کو متحدہ بھارت کا حصہ قرار دینے کے لئے تقریب منعقد کی جاتی ہے جب کہ اس موقع پر آل پارٹیز حریت کانفر نس مقبوضہ کشمیر کی کال پر مقبوضہ و آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ کو "یوم سیاہ"کے طورمناتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال جنم لیتا ہو گا کہ کشمیری عوام بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کیوں مناتے ہیں اور انہیں بھارتی جمہوریت پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔

        قارئین محترم! کشمیر ی عوام کو بھارت کے جمہوری ملک ہونے پر اعتراض ہے اور نہ ہی کوئی خاص دلچسپی لیکن بھارتی جمہوریت اور سیکولر ازم کے تمام تر دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ کیونکہ

         1۔      بھارت میں سرعام جمہوری اقدار کی پامالی کرتے ہوئے سکھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے حقوق کو سرعام غصب کیا جاتا ہے بلکہ نیچ ذات کے ہندو بھی استحصالی طبقہ کی چیرہ دستیوں سے کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہیں۔

        2۔       انتہا پسند بھارتی حکومت کی ایماء پر اقلیتوں پر بدترین مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔

        3۔       آج بھی خود کو سیکولر کہنے والے بھارت میں کسی بھی اعتبار سے مذہبی آزادی کا نام و نشان تک نہیں۔ مسجدوں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانامعمول ہے۔ مسلمانوں پر آج بھی وہاں طر ح طر ح کی پابندیاں عائد ہیں۔گائے کے گوشت کو ایکسپورٹ تو کیا جاتا ہے مگر مسلمان ہرگز ذبح نہیں کر سکتے۔

        4۔       بھارت میں بنائے جانے والے قوانین میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کا بالکل ہی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے قوانین کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے Black lawسے موسوم کیا ہے جس کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

        5۔       27اکتوبر 1947ء کی صبح 9بجے مہاراجہ کشمیر کی طرف سے الحاق کی دستاویز پر دستخط سے قبل بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصہ پر فوجی قبضہ جما کر جبری تسلط قائم کر کہ کشمیری عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

        تما م تر اختلافات اور حقائق اپنی جگہ مگر بھارتی سیاستدانوں کو داد دینا پڑتی ہے کہ انہوں نے  بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جمہوری سفر کو کامیابی اورکامرانی سے جاری وساری رکھا ہوا ہے۔ بھارت میں بسنے والی اقلیتی قومیتوں کے ساتھ تما م تر زیادتیوں اور نا انصافیوں اور زیر قبضہ دیگر ریاستی عوام کے ساتھ ظلم و جبر اور قتل عام جیسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے کے باوجود قومی وسائل کے استعمال میں کسی قسم کی بد دیانتی کے مرتکب نہیں ہوئے اور نہ ہی قومی مفاد کے خلاف کوئی کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی جر نیلوں اور دیگر سیکورٹی کے اداروں کو ملکی نظام کو ہاتھ میں لینے کی کبھی جرات نہ ہو سکی۔ اس طرح تما م ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کے لئے دل و جان سے کوشاں ہیں۔حالانکہ رقبہ کے اعتبار سے کشمیر کے بر ابر کسی بھی خطے میں آٹھ لاکھ کے لگ بھگ فوجی دستوں کی موجودگی کے کسی کونے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔کسی خطے میں اگر اتنی تعداد میں فوج موجود ہو بھی اور بھارتی دعوے کے مطابق فر ض کیا یہ مان لیا جائے کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو بھارتی فوج اس اعتبار سے دنیا کی واحد فوج ہے جو سرحدوں  کے بجائے اپنے ہی ملک کے عوام کو بندوق اور ٹینکوں کی گولیوں سے فتح کرنے میں مصروف ہے۔

        کشمیر پر بھارتی قبضہ کے ضمن میں بھارتی حکمرانوں کے دعوے اور قصے کہانیاں اپنی جگہ مگر تاریخی اور زمینی حقائق ان دعوؤں کے بر عکس اور بھارتی جھوٹ کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کرنے کے بعد کشمیریوں کی طرف سے سخت ترین مزاحمت اورپاکستان کی طرف سے مدد کے خطرات کے پیش نظر از خود بھارت سیاسی حکمت عملی کے تحت کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا؟ کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اور اقوام متحدہ کے کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان کی طر ف سے منظور ہونے والی قراردادوں کو بھارت نے تسلیم نہیں کر رکھا ہے؟ کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو"حق رائے دہی "حاصل نہیں ہے؟ کیا بھارت نے کشمیری عوام،پاکستان اور ساری دنیا سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر،کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا؟

        تاریخی حقیقت یہ ہے کہ بالا تمام سوالوں کے جوابات ہاں میں ہیں اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت تمام تر باتوں،وعدوں اور قراردادیں تسلیم کرنے کے باوجود خود اپنے ہی وعدوں سے مکر گیا ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کو غیر اہم اور پرانی تصور کرتا ہے۔کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف اور کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔لیکن  زمینی حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق "حق خودارادیت"کے حصول تک جد وجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔کشمیری عوام آزاد ی کیلئے سیاسی و نظریاتی جدوجہد کو تیز سے تیز کرنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔بھارت کا یوم آزادی ہو یا یوم جمہوریت یا پھر کوئی اور خوشی کا دن.کشمیری عوام کے لیے بھارت کا ہر ایک خوشی و شادمانی کا قومی دن یوم سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اور کیوں نہ ہوکہ جب کوئی قوم یا کوئی ملک نا جائز تسلط جما کر دوسری قوم یا ریاست کے عوام کو محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دے تو محکوم قوم کے مظلوم افراد ظالم کے خلاف سینہ سپر نہ ہوں،احتجاج نہ کریں تو پھر کیا کریں۔

         دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارتی حکومت نے کشمیر پر اپنا غیر قانونی اور نا جائز تسلط قائم کر رکھا ہے۔غیر قانونی طور پر کشمیریوں کی سر زمین میں اپنی فوجیں داخل کر کے مارشل لاء نافذ کر کے بندوق کے زور پر جمہوریت کو پروان چڑھانے کی لاحاصل کو شش کی جا رہی ہے۔بھارت اپنے غیر آئینی قبضے کو قانونی تحفظات مہیا کر نے کے لئے اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے جد وجہد آزادی کے لئے کوشاں کشمیری عوام پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔

        26جنوری کو ہر سال نام نہاد جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار بھارتی حکومت  جمہوریت کے بلند و بانگ بھر پور دعوے کرتی ہے اور دنیا بھر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ بھارت سیکولر ازم اور جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے لیکن صد افسوس کہ جمہوریت کے فروغ کے لئے تقریریں جھاڑنے والے بھارتی حکمرانوں اور سیاستدانوں کی اکثریت جمہوری اقدارکی پامالی اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔حکومتی ایماء پر ہی مختلف علاقوں میں ایمر جنسی نافذ کی جاتی ہے اور شہری آبادی کے علاقوں پر فوج کشی کی جاتی ہے۔ ایک طرف جمہوریت کے دعوے کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف عوام کی مرضی اور خواہشات کے بر عکس عمل کیا جاتا ہے۔مذہبی آزادی کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور مذہبی سرگرمیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔بھارت کو سیکولرازم کا نشان قراردیا جاتا ہے مگر عملی طور پر گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے۔پنجاب میں سکھوں کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ہندو ازم کے فروغ کے لئے باقی ماندہ تمام مذاہب پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔بھارتی حکمران کشمیر کو بھی سیکولر ازم کی نشانی قرار دیتے ہیں جو سورج کے سامنے انگلی رکھ کر سورج کو غائب کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیری عوام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ زبردستی بھارت کے ساتھ رہنے پرمجبور ہیں۔وہ اپنے بنیادی جمہوری حق  "حق خودارادیت"کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

        یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طر ف حکومتی سطح پر یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے وہاں دوسری طرف کشمیری عوام دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی آباد ہیں  "یوم سیاہ"مناکر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر یہ واضح کرتے ہیں کہ کشمیر پر نا جائز تسلط جماکر بھارت نہ صرف غاصبانہ قبضہ کا مرتکب ہو ا ہے بلکہ حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جد وجہد میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر جمہوری اقدار کی پامالی اور اصول شکنی کا مظاہرہ کر کے بین الاقوامی قوانین ا ور یو این چارٹرکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

        اس ضمن میں بھارتی قبضہ کے خلاف اور حق خود ارادیت کے حصول کے لئے مقبوضہ و آزاد جموں و کشمیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری مظاہرے کرتے ہیں۔بھارت کے خلاف احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم،جمہوری اقدار کے فروغ اور اپنے حق آزادی کے حصول کے لئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی کاوشوں کی طرف اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔اقوام متحدہ کے مبصر دفتروں میں یاداشتیں پیش کی جاتی ہیں،اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے بھر پور مطالبہ اور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لئے بھارت کو مجبور کریں تاکہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہو سکے۔حق و انصاف کے تقاضے اداہو سکیں۔صرف وسط ایشاء ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں امن قائم ہو سکے کیونکہ دنیا کا امن ایشیا سے اور ایشیا کے امن کا کشمیر سے براہ راست تعلق ہے۔لیکن سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس جدوجہد اور بے پنا ہ قربانیوں کے باوجود اقوام عالم بالخصوص عالمی طاقتوں کی آنکھوں پر مفادات کی پٹی بندھی نظر آتی ہے۔اقوام متحدہ کے پاس ایسی کوئی فورس نہیں اور جن کے پاس فورس ہے انہیں ظالم اور مظلوم میں پہچان کر نا مشکل ہے۔مظلوم اگر ظلم کا مقابلہ کرے تو وہ دہشت گرد اور ظالم کا ظلم انکے نزدیک کسی بھی طرح دہشت گردی نظر نہیں آتا۔یہی نہیں بلکہ جمہوری اصولوں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی قراردادوں کی کھلے عام خلاف ورزی اور عملدر آمد نہ کرنے کے باوجود بھارت کو جمہوریت کے علمبردار ہونے کے سر  ٹیفکیٹ جاری کئے جاتے ہیں۔یہ سراسر زیادتی،نا انصافی، غیر جمہوری طر ز عمل اور جمہوری اقدار کی پامالی  اور دہرے معیار کے مترادف ہے جو کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اقوام متحدہ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے سراپا احتجاج کشمیری بچوں،ماؤں،بہنوں،بوڑھوں اور نوجوانوں کی آواز کو محسوس کرے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری قیادت کی طرف سے پیش کی جانے والی یاداشتوں اور اپیلوں کو ردی کی ٹوکریوں میں نہ پھینکا جائے بلکہ کشمیری عوام پر ہونے والے جبر و تشدد  اور قتل و غارت گری کا نوٹس لیا جائے۔

        یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری قوم کا احتجاج اس امر کا مظہر ہے کہ بھارت میں نہ تو حقیقی جمہوریت رائج ہے اور نہ ہی وہاں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں۔جب تک بھارت کشمیری عوام کو حق خودارایت نہیں دیتا اور مقبوضہ جموں وکشمیر سے جارح افواج کے انخلاء کے بعد رائے شماری کے انعقاد کا اہتما م نہیں کرلیتا، بھارت کو جمہوری ملک کہلانے کا حق ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ حق خوداردیت کے لیے کوشاں نہتے عوام پر ظلم و تشدد،ٹارچر سیلوں کا قیام اورکمزور اقلیتوں کے حقوق اور آزادی کو سلب کر نا اور بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ،پر امن مظاہرین پر لاٹھی چارج،آنسو گیس، پیلٹ گن کا بے دریض استعمال، مرچی گرنیڈ جیسے مہلک ہتھیاروں کا استعمال اور اندھا دھند گولیاں چلانا کہا ں کی جمہوریت ہے؟مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منانے کی پاداش میں حریت رہنماؤں کی گرفتاری و تشدد بھارتی جمہوریت کا ہی وطیرہ ہو سکتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اغواء،عصمت ریزی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، کیا یہ سب کچھ جمہوریت کے اصولوں کے عین مطابق ہے؟

        کیا کشمیریوں کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے کئے ہوئے وعدوں کی مسلسل خلا ف ورزی کا نام جمہوریت            ہے؟

        کیا شہری آزادیوں کو انسانیت سوز قوانین کی زنجیروں میں قید کر نے کا نام جمہوریت ہے؟

        کیا معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کر نے کا نام جمہوریت ہے؟

        کیا کشمیر کی عفت مآب ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کی اجتماعی آبرو ریزی اور عصمت دری کا نام جمہوریت ہے؟

         کیا بین الاقوامی طور پر مسلمہ حق " حق خودارادیت" کا مطالبہ کر نے والے نہتے افراد پر آٹھ لاکھ کے لگ بھگ مسلح فورسز مسلط کرنے کا نام جمہوریت ہے؟

        ۶۔کیا کسی ایسی ریاست کو ایک مہذب اور جمہوری ریاست قرار دیا جا سکتا ہے جس کے زیر کنٹرول علاقہ میں آئے روز اجتماعی اور گمنام قبروں کا انکشاف ہو رہا ہو؟اور پلٹ گن کے بے دریغ استعمال سے نوجوان نسل کو بینائی جیسی نعمت سے محروم کیا جا رہا ہے۔

        بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کا مقصد دراصل جہاں ایک طرف نام نہاد بھارتی جمہوریت کی اصل تصویر کو دنیا کے سامنے پیش کر نا ہے وہاں دوسری طرف جمہوریت کی حقیقی روح اور تقدس کو پا مالی سے بچانا بھی ہے۔ جہاں بھارتی ظلم و جبر کی داستانوں کو منظر عام پر لانا ہے وہاں اپنے بنیادی حق آزادی و خودارادیت کے حصول کے لئے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجوڑنا بھی ہے کہ وہ ظالم اور مظلوم میں فرق روا رکھتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عالمی برادری سے کئے گئے وعدے کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت کا موقع مہیا کرے۔ 

        آج بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری قوم اپنے اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ وہ حق خود ارادیت کے حصول تک اپنی پر امن جدو جہد کو جاری رکھے گی اور ا س وقت تک بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کی حیثیت سے مناتی رہے گی جب تک کہ عالمی برادری،یو این او اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کو بھارت کے جبر و تشدد سے نجات دلوا کر انہیں ان کا پیدائشی حق " حق خودارادیت" دلوانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتیں۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -