موت یا حیات 

موت یا حیات 
موت یا حیات 

  

کہتے ہیں کہ حضرت یونس کو رب العزت نے طب کا علم عطا کیا تھا۔ ان کا ایک ساتھی اسقلی بیوس تھا جو کمال کا سرجن تھا۔ کسی شخص کے پیٹ یا پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا تو اسقلی بیوس اسے لٹکا کر اس کی گردن میں سوراخ کرتا اور سارا پانی نکال دیتا اور یوں وہ شخص شفا یاب ہو جاتا۔ اسقلی بیوس کو یونانیوں نے شفا یا طب کا دیوتا قرار دے کر اس کی پرستش کی اور بیماری میں شفا یا صحت میں بہتری کے لئے اسی سے رجوع کیا۔موجودہ طب جو آج ہم تک پہنچی ہے اسی کی بتائی ہوئی طب کی ترقیاتی شکل ہے۔ چار سو قبل مسیح کا حکیم بقراط جو طب کا باوہ آدم مشہور ہے اور جس نے طب کو پہلی دفعہ کتابی شکل دی اسی کی اولاد میں سے ایک اسقلی بیوس ثانی کا شاگرد تھا۔ اسقلی بیوس ثانی کے تین شاگرد تھے۔ دو اس کے بیٹے اور تیسرا بقراط۔ اسقلی بیوس ثانی جب فوت ہوا تو چند دن بعد اس کے دونوں بیٹے بھی فوت ہو گئے۔ بقراط نے سوچا کہ اگر وہ بھی فوت ہو گیاتو یہ نایاب علم ناپید ہو جائے گا اور اس وقت تک کی ساری تحقیق لوگوں سے اوجھل ہو جائے گی۔ یہی سوچ کر بقراط نے پہلی دفعہ اس علم کو عام آدمی کی پہنچ میں دے دیا۔

سقراط کو جب موت کی سزا ہوئی تو زہر کا پیالہ پینے کے دن سقراط بہت ہشاش بشاش تھا جب کہ اس کے سبھی دوست اور رشتہ دار انتہائی مٖغموم۔قید خانے میں اس کے پاس اس کے بہت سے دوست، اس کی بیوی اور بیٹے موجود تھے۔یہ سوچ کر کہ اس کی بیوی اور بیٹوں کی آہ و زاری دوستوں کی گفتگو میں حائل نہ ہو اس نے انہیں واپس بھیج دیا۔اس کے دوست موت کے بارے میں بات  چیت اور بحث کر رہے تھے۔سقراط کا دعویٰ تھا کہ وہ شخص جو سچا فلسفی ہو وہ موت سے نہیں ڈرتا۔اصل چیز انسان کی روح ہے جو لافانی ہے۔اصل میں روح ہی زندگی کا سر چشمہ ہے۔جس طرح  موت اور زندگی دو مختلف حقیقتیں ہیں۔اسی طرح موت اور روح میں بھی کچھ مشترک نہیں،روح ایک ابدی چیز ہے، ہمارا ابدی معاملات کا علم روح کی بدولت ہے۔دوست سقراط کی باتیں سن کر غم سے نڈھال ہوتے جا رہے تھے مگر سقراط مطمن تھا، اس کی مسکراہٹ اور خوش طبعی قائم تھی۔ پھر بوڑھا فلسفی زہر کا پیالہ پیتا ہے، باتیں کرتے ہوئے اس کا بدن سن ہو جاتا ہے اور پھر وہ دم توڑ دیتا ہے۔مرنے سے پہلے اس نے دوستوں کو کہا کہ ایک مرغا، شفا کے دیوتا اسقلی بیوس کی بھینٹ دیا جائے۔ یونانی روایت کے مطابق یہ بھینٹ بیمار لوگ شفا پانے یا شفا کی امید ہونے پر دیتے تھے۔ سقراط لوگوں کو بتا رہا تھا کہ وہ یہ بھینٹ اس لئے دے رہا ہے کہ وہ شفا پا رہا ہے۔ گویا زندگی کے عارضے کی شفا موت ہے۔

سقراط دنیا کا وہ واحد شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ یا قلم سے کچھ بھی نہیں لکھا، لیکن اسے افلاطون اور دوسرے ایسے شاگرد ملے جنہوں نے اس کی شخصیت اور اس کے افکار کو دنیا میں اس طرح روشناس کرایا کہ سقراط آج دنیائے ادب کی ایک نامور شخصیت ہے اور فلسفے کی تاریخ کا ایک مرکزی کردار۔سقراط نے زندگی کا ایک بڑا حصہ یہ معلوم کرنے میں گزار دیاکہ زندگی گزارنے کی وہ کون سی روش ہے جسے انسانوں کے لئے سب سے مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے۔اس نے اپنے فلسفے میں انسانی روح کو سب سے بلند مقام دیا ہے۔اس کے بقول انسان کی اہمیت کا تعین اس کی دولت، شہرت یا اقتدار سے ممکن نہیں۔ صرف روح کی پاکیزگی ہی انسانی شرف کی ضامن ہے۔انسان کے پاس روح سے قیمتی کوئی چیز نہیں اس لئے روح کی نگہداشت انسان کا سب سے بڑا فرض ہے۔سقراط کا دور اخلاقی ابتری کا دور تھا۔ لوگ ہر بات کا مطلب اپنی مرضی سے بنا لیا کرتے تھے۔ لوگ انصاف، نیکی، شجاعت اور عقل مندی کی تعریف اپنے اپنے انداز میں کرتے تھے۔سقراط نے اسے ذہنی اور اخلاقی افراتفری قرار دیا۔ سقراط کہتا تھا کہ ملکہ اور مہارت ہی اصل علم ہے۔ جو کام کرنا ہو انسان کو اس کی اونچ نیچ کا پہلے سے پتا ہونا چائیے۔ یہ نقطہ اگر لوگوں کو سمجھ آ جائے تو وہ خود بخود صحیح راستہ چن لیں گے۔سقراط کے بقول، خیر کو سمجھنا خیر کو اپنا لینے کے مترادف ہے۔ علم تقویٰ ہے اور بے علمی شر۔ہر انسان فطری طور پر اپنی بھلائی کا خواہاں ہوتا ہے۔ غلط کام تو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی طرح ہے اور ایسا کام انسان صرف بے علمی کی وجہ سے کرتا ہے۔

ایتھنز کی اس وقت کی روایت کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی جرم ثابت ہو جائے تو وہ موت اور جلاوطنی میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتا ہے مگر سقراط نے جلاوطنی کی نسبت ایتھنز میں رہ کر موت قبول کرنا پسند کیا۔ عدالت کے روبرو جب اس پر نوجوانوں کے اخلاق کو بگاڑنے کا الزام عائد کیا گیا تو دوستوں کے کہنے کے باوجود اس نے اپنی صفائی میں کوئی گواہی پیش نہیں کی۔بلکہ اس نے کہا،”اے ایتھنز کے لوگو!میں تمہارا احترام اور تم سے محبت کرتا ہوں لیکن فرمانبرداری میں خدا ہی کی کروں گا، تمہاری نہیں“۔وہ جیل میں تھا تو اس وقت اس کے لئے وہاں سے فرار ہونا بھی آسان اور ممکن تھا۔اس کے ایک دوست نے رشوت دے کر زندان کے دروغہ کو ساتھ ملا لیا۔ اس کام میں مشکل اس لئے بھی پیش نہ آئی کہ ایتھنز کے تمام با اثر لوگ دل سے سقراط کی موت کے خواہاں نہ تھے۔وہ چاہتے تھے کہ سقراط کسی طرح خود کو بچا لے لیکن سقراط نے یہ کہہ کر فرار ہونے سے انکار کر دیا کہ، ”کیا میں ان قوانین کی اطاعت نہ کروں جو آج تک مجھے تحفظ دیتے رہے ہیں“۔ چنانچہ دنیا کے اس عظیم فلسفی نے ہنستے ہوئے خوش دلی سے موت کو قبول کیا اور آج پچیس سو سے زیادہ سال گزرنے کے باوجود نہ صرف تاریخ میں زندہ ہے بلکہ فلسفیوں کے دربار میں ایک شہنشاہ کی طرح براجمان ہے۔  

مزید :

رائے -کالم -