مسئلہ پولیس کا حل کرنے کی ضرورت

مسئلہ پولیس کا حل کرنے کی ضرورت
مسئلہ پولیس کا حل کرنے کی ضرورت

  

سیاست دان اپنی مرضی کے افسروں کو مختلف جگہوں پر لگاتے ہیں جو تب تک وہاں رہتے ہیں جب تک ان کی مرضی کا کام کرتے رہیں -پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس، لاہورکے پولیس چیف کا تبادلہ اور وہ بھی صرف چند مہینوں کے بعد جس کی وجوہات نااہلی کے علاوہ کچھ اور تھی، یقینی طور پر باعث تعجب ہے-ان قبل از وقت تبادلوں کا جو برا اثر پنجاب میں مشتبہ دہشت گردوں اور عام مجرموں کے خلاف جاری کارروائیوں پر پڑتا ہے وہ صوبائی حکومت کیلئے کسی پریشانی کا باعث نہیں دکھائی دیتا ہے- لیکن، بہرحال، اس کی وجہ سے ہمیں یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ ان مختصر تعیناتیوں کا پولیس کی کارکردگی پر کیا اثر پڑتا ہے-موجودہ سسٹم پاکستان کا موجودہ پولیس سسٹم ایک چوں چوں کا مربہ ہے- دو صوبوں (پنجاب اور خیبرپختونخواہ) نے پولیس آرڈر 2002ء  میں ترمیم کرکے پولیس کے بنیادی قانون کا حصہ بنایا ہے اور دوسرے دو صوبے سندھ اور بلوچستان، پولیس ایکٹ 1861ء کا دقیانوسی قانون استعمال کررہے ہیں -اگرچہ کہ پولیس ایکٹ 1861ء میں پولیس افسروں کی تعیناتی کی مدت کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں ہیں، لیکن پولیس آرڈر 2002ء میں خصوصاً صوبائی پولیس افسروں (PPO) اور کیپیٹل سٹی پولیس افسروں (CCPO) کیلئے معینہ مدت کی اہمیت کو محسوس کرکے، تین سال کی مدت کا تعین کیا گیا ہے-

لیکن دراصل پنجاب میں جو رائج طریقہ ہے، اس میں، صوبائی پولیس چیف کی اوسط مدت صرف پانچ مہینہ بنتی ہے، اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی تعیناتی کی مدت حوصلہ افزا نہیں ہے اور صوبائی دارالحکومتوں کے پولیس سربراہوں کی (جہاں لا قانونیت کے مسائل بہت زیادہ گمبھیر ہیں) صرف چھ مہینہ ہے، جبکہ پچھلے تین سال کے عرصے میں لاہورمیں اوسطاً ہرچھ مہینے میں پولیس چیف کا تبادلہ ہوجاتا ہے جیسے جیسے آپ کو پولیس کے تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں علم ہوتا جاتا ہے عہدے کی مدت میں کمی اور بھی بدتر ہوتی جاتی ہے.پولیس اسٹیشن جو پولیس کی انتظامیہ کا سب سے اہم پرزہ ہے اس کی سربراہی کرنے والا ایس ایچ او لاہور میں اوسطاً صرف تین مہینے کیلئے تعینات ہوتا ہے اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں تین مہینے سے بھی کم-اس کے بعد جو سوال اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہم ان پولیس افسروں سے عہدے کی اس محدود مدت کی تعیناتی میں کسی بھی قسم کی موثر کارروائی کی امید کرنے میں حق بجانب ہیں؟اگرچہ کہ پولیس افسروں کے ان فوری تبادلوں کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جس کی وجہ سے تعیناتی کی مدت میں کمی ہوتی ہے، سب سے زیادہ عام وجہ موجود پولیس افسروں کے مطابق، سیاسی مداخلت ہے-سیاست دان اپنی مرضی کے پولیس افسروں کی تعیناتی مختلف جگہوں پر کرواتے ہیں اور وہ اس وقت تک وہاں رہتے ہیں جب تک وہ ان کی مرضی کے مطابق کام کرتے رہیں -

جہاں کسی نے ان کے غیر قانونی مطالبوں کو پورا کرنے سے انکار کیا، وہیں ان کا تبادلہ کردیا جاتا ہے- ہاں یقیناً، کچھ ایسے پولیس افسر بھی ہوتے ہیں جو سیاست دانوں کے ہر طرح کے مطالبات پورا کرنے کے وعدوں کے ساتھ ان کے پیچھے اچھی جگہوں کی پوسٹنگ کیلئے بھاگتے پھرتے ہیں -اور ان کم مدت کی غیر یقینی تعیناتیوں کا اثر پولیس کی کارکردگی پر کیسا پڑیگا یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے-پہلی بات، عوامی دلچسپی کے قوانین کے نفاذ کے بجائے پولیس چیف کو رکھنے اور ہٹانے کا من مانا طریقہ اپنے سیاسی ماسٹروں کی خدمت کی غلط روایت ہے- سیاسی لیڈرشپ کے غیرقانونی احکامات/ مطالبات پورا کرنے سے انکار کرنا ان افسروں کیلئے مشکل ہوتا ہے اور یہ اوپر سے لیکر نیچے تک ہر سطح کو متاثر کرتی ہے- اور سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو ہوتا ہے- دوسری بات، اس کی وجہ سے پولیس افسران جز وقتی اقدامات اٹھاتے ہیں بجائے اس کے کہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے طویل المدتی منصوبوں پر عمل کریں -

پولیس کی قیادت کا کام پالیسی سازی اور ان کا نفاذ ہے لیکن ان چند غیریقینی مہینوں کے عہدوں کی مدت میں وہ یہ سب تو نہیں کرسکتے ہیں - پولیس کے اعلیٰ افسران اس کمزور کارکردگی کی وجوہات بالکل جائز طور پر اس مختصر مدت کی تعیناتی کو بتاتے ہیں -بالکل اسی طرح صوبائی سطح پر عہدوں کی مختصر مدت کا نتیجہ پوری صوبائی پولیس فورس پر ایک برا تاثر چھوڑتا ہے- احتساب اور نگرانی کے نظام پر اس کے برے اثر کا تو ذکر ہی کیا کرنا- محکمہ پولیس میں بہتری، تھانہ کلچر بدلنے اور عام آدمی کو انصاف دینے کے لیے اگر وزیر اعظم پاکستان اوروزیر اعلی پنجاب واقعی ہی خیر خواہ ہیں تو موجودہ آئی جی پولیس پنجاب’راؤ سردار علی خان اور لاہور پولیس چیف فیاض احمد دیو‘  بہترین کمانڈر اچھی شہرت کے حامل اور ایماندار آفیسرز ہیں ان کی تعیناتی سے جہاں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے وہاں پولیس کا مورال بھی بلند ہوا ہے انھیں پولیس آرڈر 2002کے مطابق تعیناتی کی مدت کا پورا وقت دیا جانا چاہیے، 

مزید :

رائے -کالم -