لاہور ہائیکورٹ نے راوی اربن پراجیکٹ کالعدم قرار دیدیا

لاہور ہائیکورٹ نے راوی اربن پراجیکٹ کالعدم قرار دیدیا
لاہور ہائیکورٹ نے راوی اربن پراجیکٹ کالعدم قرار دیدیا

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ نے راوی اربن پراجیکٹ کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے روڈا ترمیمی آرڈیننس کی دفعہ چار کو غیر قانونی اور آئین سے متصادم قرار دیتےہوئے راوی اربن پراجیکٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کےجسٹس شاہد کریم پر مشتمل سنگل بینچ نے اس منصوبے کے خلاف دائر ہونے والی مختلف درخواستوں پر فیصلہ سُناتےہوئے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ، فیصلے میں روڈا کے ترمیمی آرڈیننس کی دفعہ چار کو آئین کے آرٹیکل 144 اے سے متصادم قرار دیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کا ماسٹر پلان بنیادی دستاویز ہے ، قانون کے تحت تمام سکیمیں ماسٹر پلان کے ماتحت ہوتی ہیں ،  ماسٹر پلان کےبغیر بنائی گئی کوئی بھی سکیم غیر قانونی ہوتی ہے،راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا ماسٹر پلان ہی بنیادی دستاویز ہے اور تمام سکیمز ماسٹر پلان کے ہی طابع ہوتی ہیں،زرعی اراضی کو ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار یعنی لیگل فریم کے تحت ایکوائر کیا جا سکتا ہے،اراضی حاصل کرنے کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی حیثیت بھی غیرقانونی ہے کیونکہ لاہور اور شیخوپورہ میں زمین ایکوائر کرنے کے لیے قانون پر عمل نہیں کیا گیا۔

عدالتی فیصلےمیں کہاگیا کہ راوی اربن پراجیکٹ کیلئےقرضےبھی غیرقانونی طریقےسےحاصل کئے گئے،روڈا اتھارٹی پنجاب حکومت سے حاصل کردہ قرضہ دو ماہ میں واپس کرے۔

یاد رہےکہ راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے منصوبے کا سنگ بنیاد سات اگست 2020ء کو رکھا گیا تھا اور اس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ سال ستمبر میں کیا تھا، اس منصوبے کا کل رقبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکٹر پر محیط تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -