شیمپو کی بجائے سرکے سے بال دھونے والی خاتون، کیمیکلز سے بنی اشیا سے بچنے کا طریقہ بھی بتادیا

شیمپو کی بجائے سرکے سے بال دھونے والی خاتون، کیمیکلز سے بنی اشیا سے بچنے کا ...
شیمپو کی بجائے سرکے سے بال دھونے والی خاتون، کیمیکلز سے بنی اشیا سے بچنے کا طریقہ بھی بتادیا

  

 لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) شیمپو، صابن، پلاسٹک کی مصنوعات اور دیگر ایسی چیزوں میں بعض  خطرناک کیمیکلز پائے جاتے ہیں، جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ہمارے ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں ایک بھارتی نژاد لڑکی نے اپنی زندگی میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی ہیں اور ان اشیاء کے متبادل کے طور پر ایسی چیزیں استعمال کر رہی ہے کہ سن کرآپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی۔ ڈیلی سٹار کے مطابق 31سالہ جگروپ ساہی نامی یہ ماں اپنے اور اپنے بچوں کے بال دھونے کے لیے سرکے کا استعمال کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سرکے کے استعمال سے ان کے بالوں سے بدبو بالکل بھی نہیں آتی۔

جگروپ کا کہنا ہے کہ جب اس کے ہاں ساڑھے چار سال قبل پہلی بیٹی پیدا ہونے والی تھی، تب اس نے زندگی میں ان تبدیلیوں کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی دنیا میں آنے والی بیٹی کو ایک صحت مند ماحول دے سکے۔ چنانچہ اس نے بچی کی پیدائش سے پہلے ہی صابن اور شیمپو وغیرہ کا استعمال ترک کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ناریل سمیت دیگر کئی اشیاء کے تیل اور سیب کے سرکے کو بطور شیمپو استعمال کرتی ہے۔سرکے اور تیل کو متناسب مقدار میں ملا کر استعمال کیا جائے تو سرکے کی مچھلی اور چپس جیسی ’بُو‘ ختم ہو جاتی ہے۔

جگروپ نے بتایا کہ وہ اوراس کی فیملی کے دیگر تمام افراد موئسچرائزر کے طور پر ناریل کا تیل استعمال کرتے ہیں۔ اس نے بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کے لیے کبھی پلاسٹک کے کھلونے نہیں خریدے، نہ ہی پلاسٹک کی دیگر کوئی غیرضروری چیز خریدی۔ وہ بچوں کے لیے کپڑے کے نیپی استعمال کرتی ہے، جنہیں بار بار دھو کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جگروپ کا کہنا تھا کہ ”اس فیصلے سے نہ صرف ہمیں پیسے کی بچت ہو رہی ہے بلکہ طبی فوائد کے ساتھ ساتھ ہم دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنے میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -تعلیم و صحت -