تمام جذبات اجنبی ہو چکے تھے، اسے کچھ بھی محسوس کیے مدت گزر چکی تھی، اسے اپنی روح کی پرانی آوازیں سنائی دینے لگیں

تمام جذبات اجنبی ہو چکے تھے، اسے کچھ بھی محسوس کیے مدت گزر چکی تھی، اسے اپنی ...
تمام جذبات اجنبی ہو چکے تھے، اسے کچھ بھی محسوس کیے مدت گزر چکی تھی، اسے اپنی روح کی پرانی آوازیں سنائی دینے لگیں

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:145

تلاشی مکمل ہونے کے بعد دروازے کھولے گئے اور سب لوگ باہر نکل آئے۔3 گشتی گاڑیاں فٹ پاتھ کے ساتھ کھڑی تھیں۔سارا علاقہ تماشا دیکھنے کے لیے باہر جمع تھا۔ گرفتار عورتیں ڈھٹائی سے جملے کس رہی تھیں اور آدمی گردنیں جھکا کر یا ہیٹ چہروں پر کھینچ کر مونھ چھپا رہے تھے۔ انھیں گشتی گاڑیوں میں بٹھایا گیا اور لوگوں کے قہقہوں میں گاڑیاں روانہ ہو گئیں۔ چوکی میں یورگس نے اپنے اصل نام کی جگہ ایک پولش نام بتایا اور اسے دوسرے قیدیوں کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں بند کردیا گیا۔ باقی لوگ سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگے تو یورگس ایک کونے میں لیٹ کر خیالوں میں کھو گیا۔

اس نے اس سماجی گڑھے کی انتہائی گہرائیوں کا مشاہدہ کیا تھا اور وہ ان مناظر کا عادی ہو گیا تھا۔ وہ جب سارے معاشرے کو قابلِ نفرت اور کریہ صورت قرار دیتا تھا تو اپنے خاندان کو اس سے الگ کر لیا کرتا تھا کیونکہ وہ ان سے محبت کرتا تھا۔ اور اب اچانک اس پر انکشاف ہوا تھا کہ۔۔۔ ماریا جسم بیچنے کا دھندا کرتی ہے، اور الزبیٹا اور بچے اس گندی کمائی پر پل رہے ہیں ! وہ خود سے جتنی بھی بحث کرلیتا کہ اس نے اس سے بھی بدتر کام کیے ہیں اور ان باتوں کی پروا کرنا محض بے وقوفی ہے لیکن پھر بھی یہ صدمہ کم تکلیف دہ نہیں تھا۔ اس کی روح اندر سے بری طرح مجروح ہوگئی تھی۔ اس کے ذہن میں وہ پرانی یادیں پھر جاگ اٹھیں جنھیں وہ اپنی دانست میں کب کا مردہ سمجھ کر بھول چکا تھا۔ اس کی پرانی امیدیں اور پرانی خواہشیں ! اسے اونا کا چہرہ نظر آیا، اس کی نرم آواز سنائی دی۔ ننھا آنٹاناس یاد آیا جسے وہ جوان مرد بنتا دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے اپنا بوڑھا باپ یاد آیا جو اُن سے کتنی محبت کرتا تھا! اسے وہ خوفناک دن یاد آیا جب اسے اونا کی قابلِ شرم حرکت کا پتا چلا تھا۔۔۔ اوہ خدایا ! اسے کتنی تکلیف پہنچی تھی۔ کتنا پاگل تھا وہ ! اب وہ سب کچھ کتنا ڈراؤنا لگ رہا تھا۔ آج جب ماریا نے اسے کہا کہ وہ بے وقوف ہے تو اسے یہ بات کچھ زیادہ غلط نہیں لگی۔ اسے اپنی بیوی کی عزت بیچ کر زندگی بچا لینی چاہیے تھی!۔۔۔ اور وہ بد نصیب سٹینس !اس کی مختصر سی کہانی ماریا نے کس قدر اطمینان اور بے پروائی سے سنائی تھی! وہ چھوٹا بچہ جس کی انگلیاں سرما زدگی کا شکار ہوگئی تھیں اور وہ برف سے کتنا ڈرتا تھا ! اس کے رونے کی آواز یورگس کے کانوں میں گونجنے لگی۔ اس کے ماتھے پر پسینا آگیا۔ وہ جب سوچتا کہ کس طرح سٹینس ایک ویران عمارت میں بند تھا اور زندگی بچانے کے لیے چوہوں سے لڑ رہاتھا تو خوف کے مارے اسے رہ رہ کر جھرجھری آجاتی تھی۔ 

یہ تمام جذبات اس کی روح کے لیے اجنبی ہو چکے تھے۔ اسے کچھ بھی محسوس کیے اتنی مدت گزر چکی تھی کہ وہ سمجھنے لگاتھا کہ اس کے جذبات ختم ہوچکے ہیں۔ اس کی زندگی کے حالات نے جذبات کو ہمیشہ کے لیے کچل دیا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اب وہ کبھی اسے تنگ نہیں کریں گے لیکن اب وہ اچانک بنا بتائے جاگ گئے تھے۔ اسے اپنی روح کی پرانی آوازیں سنائی دینے لگیں اور پرانے بھوت اسے اپنی طرف بلانے لگے، لیکن اس کے اور ان کے درمیان ایک خلاءتھا، تاریک اور لا متناہی خلاءجو ماضی کے دھندلکوں میں گم ہورہاتھا۔ یہ آوازیں مر جائیں گی اور پھر وہ کبھی انھیں نہیں سن سکے گا۔۔۔ اور اس کے اندر جو مردانگی کی ہلکی سی چنگاری باقی تھی، وہ بھی بجھ جائے گی۔

صبح ناشتے کے بعدیورگس کو عدالت لے جایا گیا۔ عدالت کا کمرا کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کچھ تو قیدی تھے باقی لوگ محض تجسس کی وجہ سے آئے تھے یا اس لیے کہ کسی واقف کا چہرہ نظر آجائے تو بعد میں اسے بلیک میل کیا جا سکے۔ آدمیوں کو گروہوں کی شکل میں پہلے بلایا گیا۔ ڈانٹ ڈپٹ کی گئی اور فارغ کر دیا گیا۔لیکن یورگس کو مشکوک ہونے کی بناءپر تنہا بلایا گیا۔ یہ وہی عدالت تھی جہاں اس پر مقدمہ چلا تھا، اس کی سزا معطل کی گئی تھی۔ جج بھی وہی تھااور اس کا کلرک بھی وہی تھا۔ کلرک یورگس کو غور سے دیکھ رہا تھا جیسے پہچاننے کی کوشش کررہا ہو۔لیکن جج نے اسے نہیں پہچانا۔ اس کا دھیان اس وقت یورگس کے بجائے اس ٹیلی فون کے پیغام کا انتظار کر رہا تھا جس میں ڈسٹرک پولیس کپتان نے اسے یہ بتانا تھا کہ ”پولی سمپسن، جو قحبہ خانے کی ”میڈم“ کے طور پر جانی جاتی تھی، کیس کا کیا فیصلہ کرنا ہے۔ اسی خیال میں گم وہ یورگس کی کہانی سنتا رہا کہ وہ کس طرح اپنی بہن کی تلاش میں وہاں گیا تھا۔ جج نے یورگس کو خشک لہجے میں بہن کو کسی بہتر جگہ رکھنے کو کہا اور فارغ کر دیا۔ پھر اس نے ہر لڑکی کو5 ڈالر جرمانہ کیا۔ میڈم پولی نے اپنی جراب میں سے نوٹوں کی گڈی نکال کر یہ جرمانہ موقع پر ہی اکٹھا ادا کر دیا۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -