لوپس 55 سال کی عمر میں مرا تو اپنی ہر چیز مارکس کے نام کر گیا،اب مارکس کے مالی حالات نے ایک دم پلٹا کھایا 

لوپس 55 سال کی عمر میں مرا تو اپنی ہر چیز مارکس کے نام کر گیا،اب مارکس کے مالی ...
لوپس 55 سال کی عمر میں مرا تو اپنی ہر چیز مارکس کے نام کر گیا،اب مارکس کے مالی حالات نے ایک دم پلٹا کھایا 

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:102

30نومبر 1863ءکو مارکس کو ٹرائر سے ایک ٹیلی گرام موصول ہوا، جس میں اس کی ماں کی موت کی اطلاع تھی۔ مارکس کی ماں اس کے لیے خاصی جائیداد جھوڑ کر مری تھی اور مارکس کو دونوں بہنوں ایمیلی اور صوفی سے زیادہ حصہ دیا تھا۔ پھر مئی 1864ءمیں اس کا دوست لوپس 55 سال کی عمر میں مرا تو اپنی ہر چیز مارکس کے نام کر گیا۔اب مارکس کے مالی حالات نے ایک دم پلٹا کھایا اور وہ اپنا پرانا بے ہودہ مکان چھوڑ کر ایک رہائشی مکان میں اٹھ آیا۔ اس گھر کی 3 منزلیں تھی۔ سامنے اور عقبی جانب پارک تھے۔ ہر کمرے میں آتش دان تھے، تازہ دم ہوا کی آمدورفت اور خوب روشنیاں۔ مارکس نے اپنی سٹڈی بھی ایک بڑے فلور پر بنا لی۔ اس گھر میں مارکس 11 سال تک مقیم رہا، پھر وہ اسی علاقے میں ایک اور اچھے مکان میں اٹھ آیا، جہاں وہ اپنی موت تک قیام پذیر رہا۔ اب مارکس کا گھرانہ آسودہ حال تھا۔ لین شین نے اچھے کھانے پکانے شروع کر دئیے تھے اور جینی باغبانی میں مصروف ہو گئی تھی۔ 1864ءہی میں اینگلز بھی اپنے بات کی وفات کے بعد مانچسٹر چھوڑ کر لندن آ گیا اور اس نے مارکس کو ہر سال 200 پونڈ دینے کا وعدہ کیا اوریہ رقم ، جو اس وقت خاصی بڑی رقم تھی، مارکس کے خاندان کو اینگلز کی موت تک ملتی رہی۔ اب مارکس اور اینگلز کی روزانہ بلا ناغہ ملاقاتیں ہوتی تھیں اور اس کا سلسلہ مارکس کی موت تک قائم رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اینگلز نے دوستی کی مثال قائم کر دی، دوستی کا حق ادا کر دیا۔

خیر، پہلے تو مارکس اپنی پہلی کتاب کی ناقدری پر سٹپٹایا مگر جلد ہی وہ اسی موضوع پر نئے سرے سے ایک دوسری کتاب کی تدوین میں مصروف ہو گیا۔ اس کتاب کانام ”داس کیپٹل(Das Capital)ہے۔ یہ کتاب ایک نہیں3 والیومز میں شائع ہوئی اور پھر ہر والیوم کے کئی کئی ایڈیشن۔ اگرچہ اس کی زندگی میں اس کا صرف ایک والیوم شائع ہوا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ سچ تویہ ہے کہ اس کتاب نے مارکس کو زندہ جاوید بنا دیا۔ اس کتاب کی تکمیل میں مارکس کو 6 سال لگے۔ 1867ءکے مارچ میں اس کتاب کے آخری ابواب کی تکمیل ہوئی پھر مارکس نے کتاب کا مسودہ لیکر جرمنی کا سفر کیا۔ گنجے سر اور گھنی داڑھی والے پبلشر کے ساتھ مل کر اس نے فیصلہ کیا کہ کتاب کو 3والیومز میں شائع کیا جائے اور یہ کہ پہلے والیوم کا نام ”سرمایہ کا پیداواری عمل“ ہو گا۔ یہ سب باتیں طے کرنے کے بعد مصنف اور پبلشر نے ایک ہوٹل میں جا کر جشن منایا اور خوب شراب نوشی کی۔ لندن واپسی سے قبل وہ ہنوور (Honnover)میں اپنے معروف سرمایہ دار دوست لڈوگ کیوگلمن کے ہاں ٹھہرا۔ کیوگلمن ایک کٹر کیمونسٹ تھا۔ یہیں پر اس کی ملاقات کیوگلمن کی دوست مادام ٹینگے (Tanguay)سے ہوئی جو ایک34 سالہ پروقار، شائستہ اور نہایت خوبصورت خاتون تھی۔ مارکس یہاں پر اس کا دیوانہ ہو گیا۔ گھر واپس آتے ہوئے لندن اسٹیشن پر اس کی ملاقات بسمارک کی بھتیجی، ایک نوجوان اور حسین خاتون الزبتھ پٹکامر سے ہو گئی۔ اس کے ساتھ بھی مارکس نے شاندار رفاقت کے چند گھنٹے گزارے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -