جنوبی پنجاب میں انڈسٹریل زو ن قائم کرنیکی ضرورت، مرزا ظفر 

جنوبی پنجاب میں انڈسٹریل زو ن قائم کرنیکی ضرورت، مرزا ظفر 

  

 ڈیرہ غازیخان(سٹی رپورٹر)اسلام آباد میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام سالانہ انٹر نیشنل چیمبر ز سمٹ آئی سی ایس (ICS) 2023سمٹ منعقد ہوا جس کی صدارت ثاقب رفیق صدر راولپنڈی چیمبر نے کی جس میں ملک بھر کے تمام چیمبرز کے صدور و اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی اور سمٹ میں بزنس کیمونٹی اور انڈسٹریزاور امپورٹ ایکسپورٹ سے متعلقہ درپیش مسائل کی نشان دہی کی اور ان کے حل کے بارے میں حکومت پاکستان کو تجاویز پیش کی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مرزا محمد ظفر اقبال سینئر نائب صدر ڈیرہ غازیخان چیمبر(بقیہ نمبر20صفحہ6پر )

 آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ پنجاب اور خاص طور جنوبی پنجاب میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ اور انڈسٹریل زون قائم کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طورپر ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جائے جس میں ٹیکس ہالیڈے سمیت تمام ضروری سہولیات فری مہیا کی جائیں۔ ڈیرہ غازیخان محل وقوع کے مطابق پاکستان کا مرکزی مقام ہے چاروں صوبو ں کے عین وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بڑی آسانی ہوتی ہے کیونکہ چاروں صوبوں کے درمیان ہونے وجہ سے یہاں کاروبار کے مواقع بہت زیادہ ہیں بلوچستان سے مال منڈیوں لانے کیلئے ڈیرہ غازیخان کا روٹ استعمال کیا جاتا ہے اور پورے ملک کیلئے یہاں ٹرانسپو رٹ بہت سستی مہیا ہوجاتی ہے ڈیرہ غازیخان اور جنوبی پنجاب ایک زرعی علاقہ ہے زمین زرخیز ہونے وجہ سے یہاں ہرموسم میں ہر قسم کی اجناس اگائی جاسکتی ہیں اور یہاں لائیو سٹاک بڑی وافر مقدار موجود ہیں ان کا گوشت اور دودھ کو ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے اگر حکو مت اس علاقے کو اگر سہولیات مہیا کرے اور ریلیف پیکچ دے تو ملک کیلئے زرمبادلہ کمانے کے یہاں لامحدود زرائع موجود ہیں جن استفادہ کیا جاسکتا ہے۔چونکہ ہماراایک زرعی خطہ سے تعلق ہے زراعت کی پیداوار کوبڑھانے زرعی مشینری کو امپورٹ کیا جائے کیونکہ ہمارے علاقے میں جو لوکل مشینری استعمال ہوتی اس کی ایک خامی ہے کہ ہماری پیداوار کی ویسٹیج زیادہ ہوجاتی امپورٹڈمشینری میں غیر ممالک میں ایسا نہیں ہوتااور اس مشینری کے استعمال سے ہماری کراپس کی پروڈکشن اورکلٹی ویشن بہتر ہوجائیگی اور کراپس کی ویسٹیج کم ہو جائے گی ایسی مشینری امپورٹ کرنے سے یہ فائدہ ہو گا اس کی کاپی کرکے اور مقامی طورپر مینو فیکچرنگ شروع ہو جائے گی اور اس سے پیداوار میں بہتری ہوگی اور ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا۔ اس وقت ملک میں جو ڈالر کی جو پوزیشن وہ خاصی تشویشناک ہے اس پر میری ڈیرہ غازیخان چیمبر کی جانب سے ایک تجویز ہے ڈالر پر ایمنسٹی سکیم دی جائے جس سے لوگوں میں جو خوف پایا جاتا ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جن سرمایہ دار لوگوں نے ڈالر کو ذخیرہ کیا ہوا ہے وہ سامنے لائیں تاکہ ملک کی معیشت بہتر ہوجائے ڈالر کی وجہ سے جو ملک میں معاشی بحران ہے وہ ختم ہو جائیگا۔حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ ہے حکومت اپنے اخراجات کم کرے ناکہ جو لوگ پہلے ٹیکس دہندہ ہیں ان پر نئے اور اضافی ٹیکس لگا دے۔ای کامرس پر حکومت کو زیادہ فوکوس کرنا چاہیئے آٹھ کروڑ ستر لاکھ بندہ اس وقت انٹر نیٹ استعمال کر رہا ہو جو کل آبادی کا چھتیس فی صد بنتا ہے جبکہ اس متبادل رزمبادلہ کے ذخائر بالکل نا ہونے کے برابر ہیں اس کی بنیادی وجہ ای کامرس سے لا علمی ہے لوگوں میں ای کامرس کے متعلق آگاہی اور متعارف کرایا جائے اور ای کامرس کی ترقی کے لئے تمام اداروں کو اس کا پابند بنائے۔ٹیکس کے حوالے سے ٹیکس کا نظام بہت پیچیدہ اور مشکل ہے ٹیکس نظام میں بہتری لانے کیلئے قوانیں کو سادہ بنایا جائے اور ان میں آسانی لائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں اور کسی پریشانی کا شکار نہ ہوں حکومت کو ٹیکس نظام کو بہتر بنانے زیادہ سے زیادہ سہولیات دینی چاہیں۔حکومت کار مینو فیکچرر کمپنی کو اس معیار پر لانے میں مدد کرے پاکستانی مینو فیکچرکار باہر ایکسپورٹ کی جائے پچھلے سال انڈیا نے چار لاکھ سترہ ہزار کار ایکسپورٹ کی اس سال پانچ لاکھ چھتیس کارایکسپورٹ کی ہے جو کہ چھتیس فی صد اضافہ ہے اس کے مد مقابل پاکستان میں کوئی ایسی کمپنی نہیں جو کار ایکسپورٹ کرر ہی ہو صرف ایک لوکل برانڈ ہے جو چائینز شان ایکس سیون ہے وہ بھی لوکل کے طورپر استعمال ہوتی ہے پاکستان کے پاس کوئی کار کمپنی نہیں ہے جو ایکسپورٹ کر رہی ہو۔ مزید یہ ہے اس وقت ملک میں جوبھی نئی انڈسٹری لگ رہی ہے اس کو سولر پر منتقل کیا جائے اورجب تک سولر پر اندسٹری منتقل نہ ہو اس وقت تک ان کو این اوسی اور لائسنس بھی جاری نہ کیا اور نہ انڈسٹری چلانے کیلئے واپڈا کا کنکشن دیا جائے۔اس وقت جو ملک میں معاشی بحران ہے اس پر حکومت اور اپوزیشن میں چارٹر آف اکانومی پر معاہدہ کراکے ان کی صلح کرائی جائے تاکہ ملک میں جاری اس معاشی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ملک میں جو کاروباری اور معاشی طور پر جو بے یقینی کی کیفیت ہے وہ ختم ہو اور ملک سے مہنگائی کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے جب تک حکومت اور اپوزیشن میں چارٹر آف اکانومی نہ طے پاجائے اور ان کے درمیان معاہدہ دستخط نہ ہو اس وقت تک پورے ملک میں چیمبر ز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سالانہ الیکش کا بھی بائیکا ٹ کیا جائے اورملک کے تمام چیمبرز اس معاہدے کی پاسداری کرینگے۔ پروگرام کے آخر میں راولپنڈی چیمبر کے صدر ثاقب رفیق نے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکا کو یقین دہانی کرائی جن چیمبرز کی طرف سے جو ان کو درپیش مسائل پیش ہیں اور ان کے جو بھی مطالبات ہیں ان کو پورا کرنے اور حل کرنے ہرممکن کوشش کی جائے گی اور آج ہی عارف علوی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ میٹنگ میں تمام امور، مسائل اور مطالبات حل کرانے کیلئے ان کے نوٹس لایا جائے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -