تیسری عالمی جنگ اور ہماری تیاری ! 

تیسری عالمی جنگ اور ہماری تیاری ! 
تیسری عالمی جنگ اور ہماری تیاری ! 

  

 آج کرہ¿ ارض جن مشکلات اور دہشت گردی کا شکار ہے،اُن پر ہر انسان اور حکمران کو سوچنے کی ضرورت ہے، بلاشبہ یہ خطرے کی گھڑی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے آغاز کو تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے آغاز میں روسی دفاعی تجزیہ کار دعوے کرتے سنے گئے تھے کہ یہ جنگ چند دنوں میں روس جیت لے گا لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔میں اس جنگ کی وجوہات کی طرف نہیں جانا چاہتا ،صرف جنگ کی تباہ کاریوں کا حوالہ دے کراِسے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا۔روس نے جس طرح ابتدائی حملے کر کے یوکرین کے پاور پلانٹس کو نقصان پہنچایا،اِس شدید حملے کی وجہ سے ملکی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بجلی کی سہولت سے محروم ہو گیا۔لوگ سردی کے موسم میں گھروں کو گرم رکھنے اور پینے کے پانی کو گرم کرنے سے بھی محروم رہے جبکہ ہنگامی صورت حال میں عام لوگوںکو بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

روس اور یوکرین کی جنگ ختم ہونے کا نام لے رہی ہے اور نہ ہی کسی نے اِسے ختم کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے بلکہ نیٹو، امریکہ، برطانیہ ،فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک نے یوکرین کو اسلحہ دے کر روس کے مقابلے میں کھڑا کر دیا ہے،اُس کے مقابلے میں روس نے ایران سے ڈرون طیارے خرید کر یوکرین کی شہری آبادی اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس کا چرچا اسرائیل، امریکہ ،برطانیہ اور یورپی ممالک میں کچھ زیادہ ہی شدت سے سنا گیا چونکہ ایران کا دفاعی نظام مضبوط ہوتے دیکھ کرعلما ءکی قیادت میں قائم اسلامی حکومت کو ختم یا کمزور کرنے کی شدیدخواہش کرنے والی قوتیں ششدر رہ گئی ہیں۔اب بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ شروع نہیں ہوئی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس میں نیٹو اور یورپی ممالک نے جدید اسلحہ، ٹینک، لاتعداد جنگی گاڑیاں اورمیزائل دینے شروع کر دیئے ہیں۔ جدید اسلحے کی اِس کھیپ سے یوکرینی صدر اور حکومت کو حوصلہ اور تقویت ملی ہے جس کے بعد وہ پُرعزم ہیں کہ روس کو اپنے علاقے سے نکال باہر پھینکیں گے۔ جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے کچھ پتہ نہیںلیکن روس کو دبانے کے لئے امریکی بلاک متحرک ہو چکا ہے اور مکمل طور پر یوکرین کی پشت پناہی کر رہا ہے۔گزشتہ دنوں یوکرین کے صد ر زیلنسکی کو بڑے پروٹوکول کے ساتھ امریکہ بلاکر ا ُس کے ساتھ دو ارب ڈالرز سے زائد مالی امداد دینے کا معاہدہ کیا گیاجس میں امریکہ کا جدید ترین اسلحہ ، دفاعی نظام اور زمین سے فضاءمیں ہدف کو نشانہ بنانے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم دینے کی ابتداءکی ہے۔یہ دفاعی نظام کسی بھی قسم کے میزائل کو فضاءمیں تباہ کر سکتا ہے پھر اِسی طرح جدید ٹینک بھی یوکرین بھیجے جا رہے ہیں۔

 یہ بات بھی اہم ہے کہ جتنا بھی اسلحہ اتحادی ممالک سے یوکرین کو ملتا ہے وہ ٹرین میںپولینڈ کے راستے دونوں ممالک کے درمیان واحد مشترکہ انٹری پوائنٹ کے ذریعے پہنچتا ہے۔چند دن پہلے روس نے اِس پوائنٹ کو قبضے میں لینے کے لئے بھرپور حملے کئے تاکہ یورپی یونین،برطانیہ اور امریکہ کے اسلحے کو یوکرین پہنچنے سے روکا جا سکے۔اُس وقت سے روس نے یوکرین کے بارڈر پرواقع ملک بیلا روس سے مذاکرات کر کے اپنا جدید اسلحہ اور فورسز کو اُس کے حوالے کردیا ہے۔ اِس وقت کرہ¿ ارض کی بدقسمتی یہ بن گئی ہے کہ جنگ کی آگ شدت اختیار کر گئی ہے۔کچھ عالمی قوتیں روس کو ختم کرنے کی کوشش میں یوکرین کو مالی اور دفاعی حوالے سے ہتھیار بھی دے رہی ہیں، اِس طرح اس اسلحے سے کئی بارر وس کے اندر تک حملے کئے گئے ہیں جبکہ روس کی طرف سے جوابی حملوں میں بھی مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔روس یوکرین کے دارالخلافہ پر بھی شدید حملے کر رہا ہے تاکہ حکومتی نظام اُس کے سامنے گھٹنے ٹیک دے لیکن زمینی حقائق سے ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا لہٰذا روس نے نیٹو ممالک، یورپی یونین، انگلینڈ اور امریکہ کے کچھ شہروں کو نشانہ بنانے کے لئے اپنے ایٹمی میزائل بھی میدان جنگ میں کھڑے کر دیئے ہیں اور اپنے بحری بیڑے اور آبدوزوں کو ایٹمی اسلحے سے لیس کرکے ایک آرڈر کا انتظار کرنے پر آمادہ کردیا ہے۔

 یہ بدامنی اور عالمی برادری کو چومکھی لڑائی میں دھکیلنے والے حالات کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟اہل ِ دانش اور امور خارجہ و دفاع کے ماہرین کو اِس پر سوچنا چا ہئے۔ ہمیں اقتدار کی لڑائی سے باہر آکر عالمی اور اقتصادی حالات کا جائزہ لینا چا ہیے۔ انڈیا ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے، افغانستان سے ٹی ٹی پی حملہ آور ہوکر ہمارے فوجی نوجوانوں اور افسروں کو شہید کر رہی ہے۔دہشت گردانہ کارروائیاںکر کے ٹی ٹی پی کے جنگجو پھر افغانستان واپس چلے جاتے ہیں، اِس لئے مالی مشکلات اور دیوالیہ پن کے خطرات سے نبردآزما پاکستان اور حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ہمیں من حیث القوم اِس کی گہرائی کا احساس کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی سیاسی ضد، انا پرستی اور خود پسندی کے بت کو پاش پاش کر کے کم سے کم ملکی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے قومی ایجنڈے پراتفاق کرنا چاہیے جس کی آج اشدضرورت ہے۔ ریاستی ادارے ،فوج، عدلیہ ،حکومت،پارلیمان کے اندر اور باہر تمام سیاسی قوتوں،خاص طور پر اپوزیشن لیڈر عمران خان اوراُن کی تحریک انصاف کو اکٹھے ہو کر آنے والے خطرات کی حدت اور شدت کو محسوس کرنا چاہیے تاکہ اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کر کے 22 کروڑ عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لیے سر جوڑ کر فیصلہ کریں۔

 ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہماراپڑوسی ملک اسلامی جمہوریہ ایران اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرتے ہوئے اپنی فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کر چکا ہے جس سے اسرائیل اور یورپی ممالک کو ایران پر پابندیوں کے علاوہ یہاں کی اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے سازشوں کا جال بچھایا گیا ہے۔اِردگرد کے حالات کو دیکھ کر ہمیں اپنے حکمران ٹولے،جو برسراقتدار ہے یا حکومت میں آنے کی کوشش کر رہا ہے، اُن پر افسوس ہوتا ہے کہ ملکی اور عالمی حالات کو دیکھنے کے باوجود پاکستان کی معیشت ،توانائی اورغذائی بحران کے لئے آپس میں مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن ہم سب کی بھلائی اِسی میں ہے کہ خود پسندی کو ختم کرکے عوام کی فلاح و بہبود کا لائحہ عمل تیار کر کے اُس پر عمل کریں۔

مزید :

رائے -کالم -