نت نئے صدمات 

نت نئے صدمات 
نت نئے صدمات 

  

 دنیا اِس وقت آسمان پر کمندیں ڈال رہی ہے اور ہم پاکستان میں ڈاکوو¿ں کو تاوان کی رقم ادا کرنے کے لئے ہاتھ پاو¿ں ماررہے ہیں کہ کیسے ڈاکوو¿ں کی مطلوبہ رقم ادا کی جائے۔ گھوٹکی سندھ کا ضلع ہے جہاں کچے کے علاقے میں ڈاکوو¿ں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کررکھا ہے،یہاں ہمارے اعلیٰ پولیس افسران سمیت کئی پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں گھوٹکی کے ایس پی نے اپنی کم مائیگی کا اظہار کیا ہے کہ ہمارے پاس جو ہتھیار ہیں اُن کی رینج صرف 500میٹر تک ہے جبکہ ڈاکوو¿ں کے پاس جدید ہتھیار ہیں جو تین کلو میٹر تک اپنے ہدف کو بآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔پولیس افسر کے اس اعتراف کے بعد اپنے ناخنوں سے اپنا سینہ نوچنے کو جی چاہتا ہے کہ دیکھئے ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں عوام ہیں ہی نہیں وگرنہ آج 75 سال بعد بھی ہم اتنے محروم اور بے بس ہیں کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے مکمل انتظامات نہیں رکھتے ۔

 یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لئے شہری پولیس کو ترجیح نہیں دیتے، اُن کے پاس بہترین آپشن یہی ہوتا ہے کہ جیسے تیسے وہ ڈاکوﺅں کو تاوان ادا کر کے اپنے پیاروں کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔ کراچی میں تو یوں بھی سال بھر ڈاکو راج رہتا ہے جہاں دن کے اُجالوں میں سرعام سڑکوں پر معصوم شہریوں کو جان سے جانا پڑتا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کا دعویٰ بھی ہے اور عوام جان مال سے جابھی رہے ہیں۔

کراچی میں کرائم ریٹ سال بھر اپنی اپنی طولانی پہ رہتا ہے، پہلے تو ہم ایم کیو ایم کو کراچی کے امن کو تہہ و بالا کرنے کا ذمہ دار گردانتے رہے اور اب وہاں خرابی حالات کا ذمہ دار کون ہے یہ سب جانتے ہیں، اب کراچی سے سیدھا لاہور آئیے ۔

لاہور میں ڈیفنس فیز 4 کے نجی سکول میں طالبہ پر ساتھی لڑکیوں کی جانب سے تشدد کیا گیا جس کی فوٹیج بھی سامنے آچکی ہے۔اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین لڑکیاں کس طرح طالبہ پر بہیمانہ تشدد کر رہی ہیں،طالبہ کے والد کی مدعیت میں 19 جنوری کو مقدمہ درج کیا گیا تو دوسری جانب عبوری ضمانت کے لئے بھی متحرک ہوا گیا، تشدد کا نشانہ بننے والی طالبہ کے والد کے مطابق میری بیٹی پر تشدد کی ویڈیو کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کی گئی، ملزمہ جنت ملک میری بیٹی کو نشے میں ملوث کرنا چاہتی تھی اور منع پر تشدد کیا۔جنت نے اپنی بہن کائنات، عمائمہ اور نور رحمان کو ساتھ ملا کر قاتلانہ حملہ کیا جبکہ بیٹی کی سونے کی چین بھی چرا لی اور تشدد کرتی رہیں۔

قارئین کرام!یہ صورتحال ہمارے پیارے پاکستان کی ہے جہاں تعلیمی اداروں میںبہت سے جرائم ہورہے ہیں لیکن صرف منظر پر نہ آنے کی وجہ سے وہ آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں یعنی اب لوگ تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو بھیجنے سے گریز کریں گے؟یہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی سیاست کے عفریت نے آلیا ہے جب ہمارے سیاستدان خود منشیات فروشی اغواءبرائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث رہیں گے تو ملک کے اداروں کی صورتحال تو ایسی ہوگی لیکن کیا کیجئے یہ روگ ہمیشہ سے ہیں اور نہ جانے کب تک رہیں گے؟جناب عمران خان نے جب پاکستان کے عوام کو ایک اُمید دی کچھ خواب دکھائے تو لوگوں نے سوچا شاید اب نیا سویرا ہوگا لیکن حالات تو پہلے سے بھی ابتر ہوئے، عمران خان صاحب سے اقتدار میں آنے سے پہلے پوچھا گیا کہ اگر حکومت بنانے کے لئے انہیں دوسری جماعتوں سے نمائندے لینے پڑے تووہ کیا کریں گے؟عمران خان صاحب نے فرمایا تھا ہرگز نہیں اگر میں نے ایسا کرنا ہے تو میری اتنی سالہ جدوجہد کا فائدہ ہی کیا ہے لیکن پھر سب نے دیکھا کہ عمران خان صاحب کو حکومت بنانے کے لئے اُنہی کے آگے سرنگوں ہونا پڑا جن کی وہ نفی کرتے رہے بلکہ آج بھی خان صاحب اِنہیں سیاست دانوں کے مرہون منت ہیں۔ ایک طرف تو عمران خان کی عوامی مقبولیت کے بام عروج پر پہنچنے کا بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کسی کھمبے کو بھی نامزد کردیں گے تو وہ کامیاب ہوجائے گا تو پھر عمران خان پاکستان بھر سے پڑھے لکھے اچھی شہرت کے حامل نوجوانوں کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ کیوں نہیں دیتے؟ عمران خان کا ذکر اِس لئے کرتے ہیں کہ دیگر سیاستدانوں سے تو حالات سنبھالے نہیں گئے اور بقول عمران خان کہ وہ تو لٹیرے اور نہ جانے کیا کیا ہیں لیکن شاید عمران خان کو بھی عوام کی فلاح مقصود نہیں،وہ بھی اپنے تکلیفوں کو رورہے ہیں وگرنہ کیا امر مانع تھا کہ اُنہیں اقتدار ملا اور وہ ملک وقوم کے لئے کچھ کر نہیں پائے ۔

یہاں سب کو شاید اپنے ہی مفادات سے غرض ہے، پاکستان کے حالات جانے کب بدلیں گے، دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی اور ہم 75 سالوں کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -