پرویز الٰہی کے کارنامے 

پرویز الٰہی کے کارنامے 
پرویز الٰہی کے کارنامے 

  

 چوہدری پرویز الٰہی اسمبلی کی تحلیل اور مدت پوری کرنے کے بعد اب سابق وزیراعلیٰ پنجاب بن چکے ہیں۔پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کے ابتدائی پونے چار سال وہ سپیکر پنجاب اسمبلی جیسے آئینی عہدے پر فائض رہے جس میں اُنہوں نے پنجاب اسمبلی کو نہ صرف احسن انداز میں چلایا بلکہ کچھ ایسے کام بھی کئے جو اُن کا نام پنجاب اور پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رکھیں گے اور پھر جب پنجاب میں حکومت بدلی تو اِس دوران وہ دوبارہ مختصر مدت کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور اِس مختصر مدت میں بھی پنجاب بھر میں ترقیاتی کاموں کا وہ جال بچھایا کہ جو کوئی برسوں میں بھی نہ کر سکے۔ تقریباً چار سال وہ اِس پنجاب اسمبلی میں موجود رہے اور دین کی خدمت کو بھی اُنہوں نے اپنا شعار بنائے رکھا جس پر اُنہیں دینی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔چوہدری پرویز الٰہی نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی کچھ ایسے قانون بھی پنجاب اسمبلی سے پاس کرائے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے سینے میں ایک سچے مسلمان کا دِل دھڑکتا ہے جو چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کو بھی پتہ چلے کہ اسلام ہمارا دین ہے اور اسی دین پر کاربند رہتے ہوئے ہم نے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے۔ پنجاب اسمبلی سے ہی چوہدری پرویزالٰہی نے بطور سپیکر یہ قرار داد پاس کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ نجی و سرکاری سکولوں کو اِس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اسمبلی کے دوران قرآن پاک کی تلاوت کو لازمی کریں گے کیونکہ یہ بات مشاہدے میں لائی گئی تھی کہ کچھ نجی سکولوں میں اسمبلی کے دوران قرآن پاک کی تلاوت کو نظر انداز کیا جا رہا تھا جس کے احیاءکے لئے پنجاب اسمبلی میں بطور سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے یہ قرار داد پاس کروائی تا کہ سرکاری کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو بھی قرآن پاک کی تعلیمات سے روشناس کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اس کی تلاوت سے بھی مستفید کرایا جا سکے جو اُن کی دنیا و آخرت میں کامیابی کاذریعہ بنے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت مکمل کرائی اور اِس عمارت کی پیشانی پر ”لا نبی بعدی“ لکھوایا تا کہ منکرین ختم نبوت کو ایک سبق یاد دلایا جائے جو وہ بھول چکے ہیں اور مسلمانوں کو بھی بتایا جائے کہ نبی کو آخری نبی ماننا ہی ہمارا دین ہے جس کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے تا کہ پاکستان میں فتنہ قادیانیت کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکے۔ اُن کا یہ اقدام اور یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ چوہدری پرویزالٰہی اللہ اور اُس کے رسول کے سچے محب ہیں جنہوں نے ایک بڑے عہدے پر فائض ہونے کے باوجود بہترین کارنامہ سر انجام دیا پھر اِس کے بعد اُنہوں نے پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں جا بجا قرآنی آیات کندہ کرائیں تا کہ ممبران اسمبلی کو اِس بات کا احساس ہو کہ وہ یہاں عوام کے مفاد کے ساتھ ساتھ دین کی آبیاری اور دین اسلام کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دینے بھی آئے ہیں جس کو کسی بھی حال میں پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔اِس کے علاوہ چوہدری پرویز الٰہی نے اسمبلی سے توہین صحابہؓ کے متعلق قانون سازی کرتے ہوئے تحفظ بنیاد اسلام بل پاس کرایا تا کہ صحابہ کو دشنام طرازی کا نشانہ بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انہیں سزا دے کر معاشرے میں مثال قائم کی جائے اور یہ قبیح حرکت کرنے والوں کی زبانوں پر لگام ڈالی جائے۔یہ تو تھا اُن کی دینی خدمت کا عکس جو اُنہوں نے بطور سپیکر انجام دیئے۔ اب عوامی خدمت کے منصوبوں کی بات تو اِس میں بھی چوہدری پرویز الٰہی نے ایسے نقش چھوڑے ہیں جن پر چلنا ہر سیاسی رہنما کی خواہش ہو سکتی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی جب ماضی میں وزیراعلیٰ رہے تھے تو اُنہوں نے پنجاب میں جو عوامی مفاد کے منصوبے شروع کئے وہ آج تک جاری و ساری ہیں۔ اُس کی سب سے بڑی مثال ایمر جنسی سروس 1122 کی بنیاد رکھنا ہے جو لوگوں کی خدمت کے لئے ایک ایسا ادارہ بنایا گیا ہے کہ اِس سے قبل پنجاب کی عوام حادثے کی صورت میں یا کسی ایمر جنسی کی صورت میں بروقت مدد سے محروم تھی لیکن یہ چوہدری پرویز الٰہی کا کارنامہ ہے کہ ُان کا بنایا یاقائم کیا گیا ادارہ اب ایک تناور درخت بن چکا ہے اور پنجاب کی عوام اُس سے مستفید ہو رہی ہے بلکہ اب اُسے پاکستان بھر میں پھیلایا جا رہا ہے اور دوسرے صوبوں میں بھی ایمرجنسی سروس کے لئے اِس ماڈل کو اپنایا جا رہا ہے۔ اِس کے علاوہ وزیرآباد کی عوام کے لئے دِل کا ہسپتال بنانا بھی چوہدری پرویز الٰہی کا ہی کام تھا جس کو گزشتہ ادوار میں نظر انداز کیا گیا لیکن اُنہوں نے سپیکر بننے کے بعد اِس پر تیزی سے کام کرایا اور مکمل کرایا تا کہ لوگوں کو اُن کی دہلیز پر صحت کی سہولت مہیا ہوں۔اُنہوں نے پنجاب بھر میں ترقیاتی کام شروع کئے تا کہ عوام کو روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا خاتمہ ہو سکے۔اُن کا کام کرنے کا یہ انداز ہر سیاسی رہنما کو اپنانا چاہئے تا کہ سیاست کو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت اور رب کی رضا کا ذریعہ بنایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -