ملک میں ظلم کا نظام ہے ، کائنات کا نظام عدل و انصاف پر کھڑا ہے ، پروفیسر محمد ابراہیم 

ملک میں ظلم کا نظام ہے ، کائنات کا نظام عدل و انصاف پر کھڑا ہے ، پروفیسر محمد ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ ملک میں ظلم کا نظام ہے، کائنات کا نظام عدل و انصاف پر کھڑا ہے۔ صوبے کے عوام کے جائز حقوق غصب ہورہے ہیں، یہاں لوگ آٹے کو ترس رہے ہیں اور وہاں وزیراعظم کروڑوں مالیت کی نئی گاڑیاں منگوا رہے ہیں، قبائل انضمام کے بعد آبادی میں اضافہ کے لحاظ سے صوبے کو حقوق ملنے چاہییں۔ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل بجلی، تیل اور گیس کے ذخائر سے مالامال ہے۔ صوبہ میں رہائش پذیر لوگ بےروزگارہیں، دوسرے صوبوں کو گیس دینے والے صوبے میں 28 لاکھ سی این جی گاڑیاں بند کھڑی ہیں، وسائل کے باوجود ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں، ہماری گیس دوسرے صوبے تک پہنچ گئی ہے لیکن مقامی لوگ اس سے محروم ہیں، صوبے میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام تنگ ہیں۔ خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کریں گے۔ صوبائی حقوق کے لیے اگلے مہینے پشاور میں بڑا احتجاج ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں جماعت اسلامی ضلع پشاور کے زیر اہتمام پختونخوا حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری جنرل عبدالواسع، نائب امیر عنایت اللہ خان، ضلعی امیر بحر اللہ خان ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل حاجی ہدایت اللہ، کسان اتحاد کے ارباب جمیل، تاجر برادری کے رہنما ملک مہر الٰہی، سی این جی سیکٹر سے فضل مقیم، مراد، کاشف اعظم چشتی، حافظ حشمت خان اور دیگر رہنما¶ں نے خطاب کیا۔ اس موقع پر نائب امیر ضلع کاشف اعظم چشتی نے کہا کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی کاخاتمہ کیاجائے، گیس ذخائر پر صوبے کے عوم کا حق ہےصوبہ بھر کے سی این جی اسٹیشن کھول دئیے جائیں۔ وفاق بجلی کا خالص منافع صوبے کو ادا کرے، ورسک رائلٹی تقسیم فارمولے کے تحت کی جائے، ٹرانسپورٹ و زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ سابق صوبائی وزیر و نائب امیر عنایت اللہ خان نے کہا کہ صوبائی حقوق کے لئے روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ مستحکم پاکستان کے لئے فیڈریشن کی اکائیوں کو بنیادی حقوق دینے ہونگے، پنجاب حکومت خیبر پختونخوا جانے والے آٹا ٹرکوں کو روک دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ارٹیکل 158 کے تحت ضرورت پورے ہونے تک کسی دوسرے صوبے کو گیس فراہم نہیں کیا جاسکتا، کانفرنس سے صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر خزانہ سراج الحق کی دور میں سب سے زیادہ بجلی کا خالص منافع آیا تھا، خیبر پختونخوا کی آبادی 14 فیصد سے 18 فیصد پر پہنچ گءہے، خیبر پختونخوا کو اے جی این قاضی فارمولے کے تحت صوبے کو پیسے نہیں ملتے۔آئین کے تحت تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبے میں ایکسائیز ڈیوٹی صوبے کو ملے گی، انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ہر پارٹی کو موقع دیا اس بار جماعت اسلامی کو مسائل کےحل کے لئے موقع دیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -