پشاور،تنظیم موسیقار ہنری ٹولنہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

پشاور،تنظیم موسیقار ہنری ٹولنہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)موسیقی سے وابستہ گلوکاروں اور موسیقاروں کی سب سے بڑی تنظیم موسیقار (ہنری ٹولنہ) کے زیر اہتمام گلوکاروں اور موسیقاروں نے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیر اہتمام دوبئی ایکسپو میں ہونیوالی کرپشن او ر بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر انکے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو خیبر پختونخوا کے فنکاروں کی طرف سے پشاور میں غیر معینہ مدت تک احتجاجی دھرنا دیا جائیگا اس حوالے سے گلوکاروں و موسیقاروں کی طرف سے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس کی قیادت مرکزی صدر معروف گلوکار راشد احمد خان ¾ فضل وہاب درد ¾ شہزاد خیال ¾استاد صنم گل اور دیگر کر رہے تھے مطالبات کے حق میں ڈھولوں کی تھاپ پرنعرہ بازی کی گئی مظاہرین نے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے مقررین نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیر اہتمام ملکی اور غیر ملکی میلوں ¾تقریبات میں اقربا پروری اپنی انتہا ءپر ہے اور چند مخصوص چہروں نے ان میلوں اور تقریبات میں ہونیوالی محفل موسیقی اور دیگر تقریبات پر ملی بھگت سے قبضہ جما رکھا ہے ان تقریبات ¾میلوں اور نمائشوں میں ہونیوالی موسیقی کی محفلوں میں پرفارمنگ کیلئے سازندوں اور گلوکاروں کی سلیکشن کا کوئی معیار نہیں بس جس نے کسی جان پہچان والے کو بلا لیا لاکھوں روپے دیئے کوئی پوچھنے والا نہیں اور اقرباءپروری کی انتہا ہے پچھلے 20 سال سے زائد عرصے سے ایک مافیا اس پر قابض ہے اور چند گلوکاروں کے علاوہ ایسا لگتا ہے کہ پختونخوا میں کوئی دوسرا گلوکار ¾موسیقار اور ہنرمند نہیں ہے اور یہی چند لوگ ہر جگہ آپ کو نظر آئینگے اتھارٹی کے کچھ عناصر اور ٹھیکیدار ملکر اپنے چند ریڈی میڈ گلوکار کو ایونٹ میں لے جاکر اپنے جیب گرم کرتے ہیں ان ٹھیکیداروں کی وجہ سے موسیقی کے شعبے کو تباہ کیا جارہا ہے اور گلوکاروں و موسیقاروں کا استحصال کیا جارہا ہے اس طریقہ کار کو فوری ختم کیا جائے اور آوٹ سورس سے ایک کمیٹی بنائی جائے جو سینئرتجربہ کار گلوکاروں اور موسیقاروں پر مشتمل ہو یہ ایک آزاد کمیٹی ہوگی جو ہر قسم کی ملکی اور غیر ملکی پروگراموں کے لیے سلیکشن کرے گی اس کمیٹی کے اپروول کے بغیر کوئی بھی سرکاری ایونٹ میں موسیقی کا پروگرام ہو اُسے غیر قانونی مانا جائے گا اور یہ کمیٹی ہر قسم کے سرکاری میلوں وتقریبات میں گلوکاروں وموسیقاروں کے سلیکشن میں باختیارہو مقررین نے مطالبہ کیا کہ ٹورازم اینڈ کلچر اتھارٹی کے زیر اہتمام دبئی ایکسپو میں کروڑوں روپے کے غبن کی فوری تحقیقات کی جائے گلوکاروں اور موسیقاروں کے ناموں پر لئے گئے پیسے فوری طورپر ان گلوکاروں اور موسیقاروں کو واپس کئے جائیں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آئے روزگلوکاروں و موسیقاروں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ے ڈبگری بازار سے موسیقاروں کو بے دخل کرنے کے بعد اس شعبے سے وابستہ فنکار در در کی ٹھوکرے کھا رہے ہیں اس لئے فن موسیقی سے وابستہ ہنرمندوں کو تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ موسیقاروں کو اپنے فن موسیقی کے لیے سرکاری طور پر الگ جگہ(میوزک سٹریٹ) قائم کیا جائے جبکہ اضلاع کی سطح پر بھی ثقافتی ہالز بنائےجائیں جہاں وہ بلاروک ٹوک موسیقی کے فروغ کیلئے اپنا بھرپور کردار دا کرسکیں انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات جلد ازجلد تسلیم نہیں کئے گئے اورکسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی تو خیبر پختونخوا کے تمام گلوکار وموسیقار غیر معینہ مدت تک دھرنا دینگے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -