پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ سے کئی امیدیں وابستہ!

 پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ سے کئی امیدیں وابستہ!

  

حکومت اور اپوزیشن کے کئی رہنماﺅں میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کے صوابدیدی اختیارات کے تحت ممتاز صحافی محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے جنہوں نے گورنر ہاﺅس میں اپنے عہدے کا حلف بھی لے لیا۔ ان کا نام مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اتحادی حزب اختلاف نے بھی پیش کیا تھا لیکن تحریک انصاف اور ق لیگ کے حکومتی اتحاد کی طرف سے تینوں میں سے ایک نام پر بھی اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث معاملہ الیکشن کمیشن میں چلا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا نگران وزیر اعلیٰ کے ایشو پر بازی لے گیا اور حکومت اپوزیشن پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر سابق بیورو کریٹ اعظم خان کا نام با اتفاق رائے قبول کر لیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پنجاب میں بھی اس قسم کی روایت جنم لیتی لیکن محض کفِ افسوس ملنے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے تاہم اتنا ضرور ہونا چاہئے کہ آئندہ آنے والے سیاسی معاملات مشاورت سے حل کر لئے جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا وگرنہ ہر سطح پر یہ اعتراض اٹھ رہا ہے کہ سیاستدان اہم ایشوز پر فہم و فراست کا ثبوت نہیں دیتے اور محض الزامات کی سیاست کی بناءپر معاملہ بگڑ جاتا ہے۔اب نگران وزرائے اعلیٰ کا ایک اور امتحان کابینہ کے لئے وزراءکا انتخاب ہے جن کی مشاورت اور معاونت سے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جانا ہے۔ نگران حکومت کا مینڈیٹ تو یہی ہے کہ وہ ایسے الیکشن کروائے جن پر کوئی بھی فریق انگلی نہ اٹھا سکے۔ ویسے تو پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی پر تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے کئی اعتراضات اٹھائے ہیں اور عدالت سے رجوع کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے، تاہم نگران سی ایم کے دفاع میں بھی کئی اہم شخصیات رطب اللسان ہیں اور ان کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک سربراہ سابق صدر مملکت آصف زرداری سمیت کئی سیاسی قائدین اور دانشور حلقوں نے ان کی تعیناتی کا خیر مقدم کیا ہے، اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئین اور قانون کے مطابق نگران وزیر اعلی کے تقرر کا فیصلہ کیا،امید ہے محسن نقوی آئینی تقاضوں کے مطابق ذمہ داری میں سرخرو ہونگے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے تمام تقاضے پورے ہوں گے۔میری دعا ہے کہ وہ اس آئینی و عوامی فرض میں بطریق احسن کامیاب ہوں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے محسن نقوی کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کیے جانے کے فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کردیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہم تقرری کے خلاف عدالت جارہے ہیں، لاہور میں احتجاج کا سلسلہ شروع بھی کر دیا گیا جبکہ آج راولپنڈی میں احتجاج ہوگا، اس کے بعد فیصل آباد اور ملتان میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ہم محسن نقوی کو نگراں وزیراعلیٰ بالکل تسلیم نہیں کرتے ،ایک آدمی جس نے ہماری حکومت سب سے زیادہ گرانے کی کوشش کی، اس کا نام محسن نقوی تھا، وہ ہمارا بدترین دشمن ہماری حکومت گرانے میں بھاگا پھرتا تھا، انٹیلی جنس بیورو نے اس کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ دی تھی۔ جس کو زرداری نے بیٹا بنایا ہوا ہے اس کی ساکھ کیا ہوگی؟۔

دوصوبوں کی نگران حکومتیں قائم ہونے کے بعد جہاں نئے نگران وزراءکی تلاش اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہاں اعلیٰ پولیس و سول افسروں کی تعیناتیاں اور تبادلے بھی زور و شور سے جاری ہیں۔پنجاب میں تو چیف سیکرٹری ،آئی جی پولیس ،سی سی پی او لاہور،پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ سمیت متعدد افسروں کو تبدیل کردیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ فہرستوں کی تیاری جاری ہے اور ایک دو روز میں تبادلوں کا ریلا آنے کا قوی امکان ہے۔تبادلوں کے اس جھکڑ پر بھی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے تحریری شکایات بھی کی جائیں گی۔دیکھتے ہیں الیکشن کمیشن اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتا ہے تاہم یہ گزارش ضروری ہے کہ جہاں ناگزیر ہو وہاں تبادلے و تعیناتیاں ضرور کی جائیں لیکن محض اکھاڑ پچھاڑ کا کوئی فائدہ نہیں۔ نگران وزیراعلیٰ کے پی اعظم خان تو پرانے بیورو کریٹ ہیں اور ماتحتوں سے کام لینے کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں تو شاید انہیں اس حوالے سے زیادہ مشقت نہیں کرناپڑے گی۔ پنجاب میں معاملات زیادہ دانشمندی اور باریک بینی کے متقاضی ہیں امید کی جانی چاہیے کہ محسن نقوی اپنے صحافتی تجربے اور خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے مناسب اقدامات کر پائیں گے۔

حکومت کی مسلسل بھاگ دوڑ اور بے شمار دعوﺅں کے باوجود شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا تھا کہ بجلی کے بدترین بریک ڈاﺅن نے آ لیا ۔افواہیں گردش کرنے لگیں تو کہیں چہ میگوئیوں نے سر اٹھا لیا ۔سماجی رابطوں کے سب سے بڑے سہارے انٹرنیٹ کی بندش نے بھی کراچی سے خیبر تک شہریوں کو پریشان کرکے رکھ دیا۔ وزیراعظم میاں شہبازشریف کی طرف سے نوٹس لیے جانے کے بعد متعلقہ وزیرخرم دستگیر سرگرم ضرور ہوئے اور رات گئے بجلی بحال بھی ہوئی لیکن بیشتر علاقے تادم تحریر تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔جہاں دوست ممالک کی طرف سے بے پناہ تعاون کی نوید سنائی دے رہی ہے وہاں یہ خبر بھی ملی ہے کہ معاشی بے یقینی اور بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر شرح سود 25سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ کر 17فیصد ہو گئی،سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس سال 8ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے ہیں۔روپے کی قدر میں سٹے بازی کا رجحان ، بیرونی فنانسنگ کی ضروریات ہیں، قرضوں کی ادائیگی کی ضرورت کی وجہ سے مارکیٹ میں ریٹ ہائی ، آئی ایم ایف ریویو پورا ہونے سے روپے کی قدر مستحکم ہوگی، لارج سکیل مینو فیکچرنگ بھی دباوٓ کا شکار ، جولائی دسمبر جاری کھاتے کا خسارہ 3.7 ارب ڈالر رہا، جاری کھاتے کا خسارہ 9 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت بالخصوص وزیرخزانہ اسحاق ڈار معاشی معاملات کی درستگی کی کوئی فوری سبیل نکالیں،اس سے قبل کے مہنگائی کے مارے شہری سڑکوں پر نکل آئیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -