بیوٹی کلینکس اور پیسے کا کھیل

بیوٹی کلینکس اور پیسے کا کھیل
بیوٹی کلینکس اور پیسے کا کھیل

  

تحریر: ثناء آغا خان

 وقت کی ضرورت اور  ویلے ہونے کی مستیوں میں بڑا فرق ہے۔ ہم اکثر ضروری چیزوں سے ہٹ کر کچھ نئے تجربات کر کے فطرتی خوبصورتی سے بھی چھیڑ چھاڑ کر لیتے ہیں۔ آج کل  دنیائے کاسمیٹک میں ہر  فیچر کی ڈینٹنگ پینٹنگ  کے ہر موڑ پر  نئے ناموں کے ساتھ کارخانے لگ گئے ہیں۔ پہلے عورتیں گھروں سے نکل کر پلکنگ اور فیشل کروانے جایا کرتی تھی مگر آج کل  گھر سے جانے والی عورت واپس نہیں آتی  کیوں کہ اس کا نقشہ بدل چکا ہوتا ہے۔  دور جدید Dermatologist vs cosmetologist  کا دور ہے۔

 حسن کا معیار تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آج اگر آپ کو اپنی ناک نا پسند ہے تو آدھے گھنٹے کے آپریشن سے آپ کی مرضی کی ناک  آپ کے منہ پر فٹ کر دی جائے گی۔  بال بڑھ نہیں رہے تو کوئی بات نہیں  ہیئر ایکسٹینشنز اور ٹرانسپلانٹ  کا رواج عام ہے  ہونٹ ضرورت سے زیادہ پتلے ہیں یا عمر کی وجہ سے  مسکراہٹ خراب ہو چکی ہے تو بوٹوکس ہو جائے گا ۔ کل جو کالے سیاہ تھے آج  وہ چٹے سفید چمک رہے ہیں۔  ناخن' آئی بروز  'پلکیں  یہاں تک کہ پرماننٹ میک اپ بھی۔  اب ضرورت ہی نہیں روز روز میک اپ لگانے کی۔ 

مائکرون نیڈلیگ سے چھ مہینے 'سال کے لئے  پرماننٹ خوبصورتی  چند پیسوں میں۔ یہ سب دور جدید کی بہت ہی خوبصورت  پیش رفت ہے جو عورتوں کے حسن کو مزید چار چاند لگانے کے لیے اب پاکستان میں پورے عروج ہے۔  ہر عورت کو سجنے سنورنے کا شوق ہوتا ہے۔ اس دوڑ میں میں بھی شامل ہوں۔  اسی اثنا میں کچھ  aesthetic clinics کے اشتہارات میرے سامنے آئے  بندی لوگوں کے چہروں میں زمین آسمان کا فرق دیکھ کر  رہ نہ پائی  اور چند treatments کا نام سن کر گوگل پر انہیں سرچ کرنے کے بعد ارادہ پختہ کر لیا کہ اب  مجھے بھی کسی aesthetic clinic کا رخ کرنا چاہیے۔

  گلوٹا تھائیون ' وائٹمنز اور منرلز جو کہaesthetic clinics  میں  جلد کی حالت دیکھ کر استعمال  کیے جاتے ہیں ویسے ہی بہت فائدہ مند ہیں ان کی افادیت کے بارے میں اتنی ریسرچ کرنے کے بعد مجھے ایک مستند ادارہ چاہیے تھا جو میری مدد کر سکے ۔ گوگل نے میرے سامنے لاہور کے  بے شمار نامور ادارے کھول دیے جن میں سے تین کلینکس ہر طرح سے میری رینج میں تھے۔ ان میں سے ایک  نے ٹائم دے دیا ۔ میرا تجربہ کوئی خاص اچھا نہیں رہا  کیونکہ میں نے  glutathione whitening drip  کی غرض سے وہاں پر قدم رکھا تھا مگر وہاں جاکر ان کی ایکسپرٹ نے مجھے بتایا کہ ہمارا  chemical peel بہت شاندار ہوتا ہے ۔ جس سے آپ کے منہ کی تمام ڈیڈ سکن ریموو ہو جائے گی۔ ویسے تو ہم پٹھان ہوتے ہیں مگر  پھر بھی  صاف ستھری جلد  ہر کسی کا خواب ہوتا ہے۔  بات مناسب تھی مجھے اچھی لگی میں نے کہا اوکے ٹھیک ہے آپ مجھے ڈرپ کے ساتھ کیمیکل پیلنگ ٹریٹمنٹ بھی دے دیں ۔ تھوڑی دیر میں میرے سامنے  payment voucher رکھ دیا گیا جس کے حساب سے میں نے سترہ ہزار روپے جمع کروانے تھے  اور یہ چارجز بھی  ڈسکاؤنٹ کے بعد تھے۔  اس میں 11 ہزار  glutathione drip اور چھ ہزار  chemical peel کا تھا۔ خیر مجھے ایک کمرے میں لے جا کر لٹا دیا گیا جس کے بعد ایک پٹی کے اوپر کیمیکل ڈال کر میرے پورے فیس پر لگا دیا گیا ۔ اس کیمیکل کو لگانے کے چند سیکنڈ کے بعد مجھے کہہ دیا گیا کہ اب آپ جائیں۔ میں انتظار کر رہی تھی کہ شاید ابھی کوئی ٹریٹمنٹ شروع ہوگا کیونکہ اس  پروسیجر سے پہلے انہوں نے  میری ایک تصویر لی تھی جو شاید بعد کے رزلٹ کو وضع کرنے کے لئے تھی۔ مگر رزلٹ کا تو انتظار بھی نہیں کیا گیا پوچھنے پر پتہ چلا کہ ایک دو دن میں ہو سکتا ہے کہ آپ کی ڈیڈ سکن  اترے تو پریشان مت ہوئیے گا۔  اس کے کچھ دیر بعد ایک نرس نیچے سے ڈرپ بنا کر لائی اور اس نے مجھے لگا دی  جبکہ میں نے اکثر ویڈیوز میں دیکھا تھا کہ پہلے BP  چیک کیا جاتا ہے۔  اور پھر ٹیسٹ ڈوز لگائی جاتی ہے۔ خیر جب ڈرپ ختم ہوگئی تو  نرس میری ڈرپ اتار کر بولی کچھ دنوں میں آپ کو فرق محسوس ہو جائے گا  ۔  chemical peel کے بعد مجھے کچھ گائیڈ نہیں کیا کہ کیا استعمال کریں،  کیا احتیاط کریں۔  ایسا لگ رہا تھا کہ سب جان چھڑوا رہے ہیں،  کام ہونے کے بعد جیسے کسی کا کسی سے کوئی تعلق نہیں خیر ڈرپ کے بارے میں تو مجھے پہلے سے ہی بہت انفارمیشن تھی مگر حیرت وہاں کی سٹاف کو دیکھ کر ہوئی کیونکہ اتنا بڑا انسٹیٹیوٹ بنا کر کسٹمر ڈیلنگ زیرو تھی ۔   دکھاوے اور کام میں  کھلا تضاد نظر آیا ، خیر میں نے سکن پیل آف کروانے کے بعد اگلے دن  کچھ مسئلہ کے متعلق بات کرنے کے لیے ان کے کانٹیکٹ نمبر پر دو تین دفعہ رابطہ کیا  مگر کسی قسم کا کوئی رسپانس نہیں ملا ۔

 جدید ریسرچ  وائٹمینز اور منرلز  جدید طور سے استعمال کرکے  جسم میں وقت کے ساتھ پیدا ہونے والی کمی کو  پورا کرنا اور ان چیزوں کے بارے میں  عام علم ہونا انہی aesthetics and beauty clinics کی  بدولت ہے یہ سب کچھ بہت انٹرسٹنگ ہے مگر اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ ایسے کلینکس کے اچھے اور برے کاموں کو عوام کے سامنے آنا چاہیے تاکہ یہ لوگ پابند ہوں  اپنے کلائنٹ  کی  satisfaction کے جواب تک ۔ آج کل   glowing drips کی سہولت تو گھر پر بھی  بہت سہولت کے ساتھ مل رہی ہے  مگر میرا خیال ہے کہ  جو لوگ اتنے خوبصورت کلینکس بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں انہیں لوگوں سے رابطے استوار رکھنے کے لئے اپنے سٹاف  اور ان کے رویے کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -