انتظامیہ کا باطن اور آلووں کی سیاہی

انتظامیہ کا باطن اور آلووں کی سیاہی

  

تحریک آزادی کے نامور رہنما مولانا عبیداللہ سندھیؒ دہلی کی جامع مسجد کے عین سامنے رہائش رکھتے تھے۔ اذان کی صدا سنتے ہی کام کاج سے ہاتھ اٹھا کر مسجد کا رُخ کرتے، کبھی کبھی جلدی میں سر پر ٹوپی رکھنا بھول جاتے۔ ایک دن ایک صاحب نے کہا: مولانا آپ کی ٹوپی کدھر گئی؟ مولانا نے سرد آہ بھری اور جواب دیا، بھئی میری ٹوپی کا کیا پوچھتے ہو، میری ٹوپی تو سر سے اسی روز اتر گئی تھی، جب لال قلعہ ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تھا....۔

مولانا سندھیؒ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں ان اعمال کی فکر کرنی چاہیے، جن کے نتیجے میں ہمیں دنیا میں عزت و اقبال دوبارہ حاصل ہو۔ نماز کے دوران محض سر ڈھانک لینے اور ٹخنوں سے پائجامہ اونچا رکھنے سے ہم قعر غلامی سے نہیں نکل سکتے۔ جزوی مسائل تو اصل مسائل ہونے سے خودبخود حل ہو جاتے ہیں۔

کچھ یہی حال ہماری انتظامیہ کا ہے، خواہ اس کا تعلق شہر سے ہے یا قصبے سے یا پورے ملک سے، وہ مفاد عامہ کے اصل مسائل سے آنکھیں چراتی اور فروعی معاملات کی انجام دہی میں بڑی پھرتی دکھاتی ہے۔ ساتھ ہی میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ عوام کا اس سے زیادہ کوئی ہمدرد ہو ہی نہیں سکتا۔ اس حوالے سے اتوار اور رمضان بازاروں کا قیام اور ان کے کروفر ہم سب کے سامنے ہیں۔ پاکستان کا باشعور شہری آخر کس طرح تسلیم کر لے کہ ہماری انتظامیہ کو خبر نہ ہو کہ اتوار بازار لگوانے کی نوبت کیوں آتی ہے؟ یہ تو کھلی حقیقت ہے کہ ہماری انتظامیہ کو سفارش اور رشوت نے اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے پاس بڑے تاجروں کی ہوس زر کو لگام دینے کے لئے طاقت مفقود ہے۔ ورنہ اتوار بازاروں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یہ تو ہر سال کا تجربہ ہے کہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی تاجر برادری عوام کی جیبیں کاٹنے کے لئے چھریاں، قینچیاں تیز کر لیتی ہے، ہر شئے کی قیمت غریب شہری کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہے۔ خبریں بھی چھپتی ہیں، کالم، اداریے اور فیچر بھی لکھے جاتے ہیں۔ تاجروں کی منافع خوری کو ہدف ملامت بنایا جاتا ہے، لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

  انتظامیہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے، لیکن وہ کسی ذخیرہ اندوز اور کسی بڑے گراں فروش پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ البتہ عوام کی اشک شوئی کے لئے اتوار بازاروں کا اہتمام کرنے میں غیر معمولی مستعدی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ بڑے بڑے میدانوں اور بازاروں پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے۔ کاروں اور سائیکلوں کے سٹینڈ بنواتی ہے۔ بلدیہ کا عملہ صفائی پر مامور ہوتا ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیاءکے سٹال لگوائے، بلکہ سجائے جاتے ہیں۔ سارا دن افسر طبقہ لاو¿ڈ سپیکر سے دکانداروں کو خبردار کرتا رہتا ہے کہ ریٹ لسٹیں نمایاں جگہ پر آویزاں رکھیں، کم نہ تولیں، اگر کسی کا ترازو گڑبڑ پایا گیا تو اسے بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔ اتوار بازار کے اندر اور گردو پیش میں پولیس کے بھی چند چہرے نظر آتے ہیں، جس سے شاید یہ تاثر دینا مقصود ہوتا ہے کہ قانون پر عمل درآمد کروانے کے لئے ساری اسٹیٹ مشینری برسر عمل ہے۔

سٹالوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ دکاندار پرائس کارڈ آویزاں ضرور رکھتا ہے اور تول بھی قدرے بہتر ہی رکھتا ہے، لیکن جو شئے فروخت کرتا ہے، وہ اعلیٰ اور گھٹیا دونوں قسموں کا مرکب ہوتی ہے۔ گزشتہ اتوار مَیں نے سارے سٹالوں کو وزٹ کرنے کے بعد بالآخر ایک جگہ سے خریداری کرنا مناسب سمجھا۔ آلوو¿ں کے ڈھیر میں کچھ ٹوٹے پھوٹے اور گلے سڑے آلو بھی پڑے ہوئے تھے۔ دکاندار جب تولنے لگا تو مجھے دو تین پیس بدلنے کو بھی کہنا پڑا۔ تولتے تولتے اچانک اس نے نظر اپنے دائیں جانب مرکوز کرلی، اس کے ساتھ ہی اس نے فوراً آلوو¿ں کے ڈھیر پر پڑے چند ناقص پیس اٹھا کر سٹال کے نیچے پھینک دیئے۔ مَیں نے چونک کر اس سمت میں دیکھا جدھر اس کی نظر مرکوز تھی تو اس کا آلو غائب کرنے کا راز کھل گیا۔ دراصل میڈیا والے کیمرے اور مائیک اٹھائے ادھر ہی چلے آرہے تھے۔

 مَیں سبزی لے کر ایک قدم ہی چلا ہوں گا کہ مائیک میرے روبرو آگیا۔ سوال ہوا کہ آپ نے اتوار بازار دیکھا، سبزی وغیرہ خریدی، آپ کا تاثر کیا ہے۔ اس بارے میں مَیں جو چند ثانئے ہی پہلے دکاندار کی پھرتی دیکھ چکا تھا، بے اختیار بول پڑا۔ اگر انتظامیہ ان چھوٹے چھوٹے دکانداروں پر قانون کا رعب جمانے کی بجائے بڑے تاجروں کو کنٹرول کر لیتی تو مجھے سارے کام چھوڑ چھاڑ کر اتوار بازار آنے کی زحمت نہ کرنا پڑتی۔مَیں نے ابھی جو آلو خریدے ہیں، مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے چند ضرور ناقص نکلیں گے۔ مَیں تو انتظامیہ کی کارکردگی تب تسلیم کروں گا، جب مَیں گھر سے نکلوں تو گلی کی نکڑ والی دکان سے سبزی خرید کر لوٹ جاو¿ں، نہ اتوار بازار کی خواری ہو، نہ میرا وقت ضائع ہو، لیکن اس طرح تو شہریوں کو کچھ پتا ہی نہیں چلے گا کہ انتظامیہ عوام کی کتنی ہمدرد اور دوست ہے۔ اسے عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کی کتنی فکر لاحق رہتی ہے۔

قارئین! یقین مانیں، جب اہل خانہ نے سبزی بنائی تو آدھے آلو سیاہ باطن نکلے! ساتھ ہی خریدار کی سبزی شناسی کی جو مدح و توصیف ہوئی وہ نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے!  ٭

مزید :

کالم -