رمضان گفٹ پیکس کی تقسیم میں بدنظمی

رمضان گفٹ پیکس کی تقسیم میں بدنظمی

  

گوجرانوالہ میں حکومت پنجاب کی جانب سے مستحقین میں رمضان گفٹ کی تقسیم کے دوران شدید ہنگامہ آرائی کے باعث پولیس نے غریب روزہ داروں پر لاٹھی چارج کیا جس سے سولہ مردوخواتین شدید زخمی ہوگئے۔ کمشنر گوجرانوالہ عبدالجبار شاہین اور ڈی سی او گوجرانوالہ محمد امین چودھری نے حکومت پنجاب کی طرف سے 500 مستحقین میں رمضان گفٹ تقسیم کیے۔ اس دوران دو ہزار کے لگ بھگ مردوخواتین آگئے جن میں گفٹ تقسیم نہ ہوسکے۔ اس دوران شدید ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ لوگ گفٹ پیکس پر جھپٹ پڑے۔ انتظامیہ کے افسران بے بس دکھائی دیئے۔

جہاں500 گفٹ پیکس تقسیم کیلئے دستیاب تھے اور دو ہزار لوگ امیدوار تھے وہاں بدنظمی اور چھینا جھپٹی تو ہونی تھی‘ اس طرح کی تقریبات میں اکثر وبیشتر ایسے ہی ہوتا ہے۔ اول تو انتظامیہ کو پہلے سے اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی جہاں بھی اس طرح کے گفٹ تقسیم ہونے کا موقعہ ہوتا ہے عموماً ایسی یہ بدنظمی دیکھنے میں آتی ہے، لیکن یہ بے بس اور مجبور لوگ اگر گفٹ حاصل نہیں کر سکتے تھے تو پولیس کی لاٹھیوں کے بھی تو مستحق نہ تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گفٹ پیکس کی تعداد کے مطابق ہی لوگ جمع کیے جاتے اور زائد افراد کو سلیفے سے سمجھا دیا جاتا‘ لیکن ایسے لگتا ہے کہ مجبور لوگ بھی بے صبری سے کام لیتے ہیں اور یوں بدنظمی کی ایک صورت بن جاتی ہے۔ رمضان میں ممکن ہے اور مقامات پر بھی ایسی ہی بدنظمی پیدا ہو‘ اس لئے بہتر یہ ہے کہ جو حضرات اس کام کو کرنا چاہتے ہوں وہ پہلے سے بہتر انتظامات کے ساتھ ایسا کریں تاکہ جن غریبوں کو گفٹ نہ ملیں وہ پولیس کی لاٹھیوں سے تو محفوظ رہیں کیونکہ اس طرح ”نیکی برباد گناہ لازم“ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو انتظامیہ کیلئے اچھا سرٹیفکیٹ نہیں۔ 

مزید :

اداریہ -