جعلی پاسپورٹ سکینڈل

جعلی پاسپورٹ سکینڈل

  

برطانوی اخبار ”دی سن“ کی جانب سے پاکستان میں جعلی پاسپورٹ جاری کرنے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی) کے ”حکام“ نے کارروائی کرتے ہوئے کم از کم آٹھ افسران کو معطل کر دیا۔ پیر کے روز برطانوی ’ٹیبلائڈ دی سن‘ نے لاہور میں جعلی پاسپورٹ اور ویزے جاری کرنے والے ایک گروہ کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔ اخبار کے مطابق ان کے نمائندے نے مقامی لوگوں کی مدد سے پاکستانی ایجنٹس کے ایک گروہ سے رابطہ کیا جس کے ارکان پاسپورٹ آفس، شناختی کارڈ آفس اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے حکام کے ساتھ روابط رکھنے کے دعویدار تھے۔ ان لوگوں نے ’دی سن‘ کے نمائندے کو فرضی نام پر اصل پاکستانی پاسپورٹ جاری کرایا۔اخبار نے عابد چودھری نامی شخص سے ملاقاتوں کی خفیہ کیمرے سے بنائی گئی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔’دی سن‘ کے مطابق عابد چودھری اس سارے سلسلے کا ماسٹر مائینڈ ہے ۔ اخبار کی جانب سے اسے لاہور کا نمایاں سیاستدان بتایا گیا ہے جبکہ وہ دھرمپورہ میں ایک سیاسی جماعت کا معمولی کارکن ہے۔ ویڈیو میں عابد چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ قریباً سات ہزار پاﺅنڈ کے عوض وہ نہ صرف لندن کا دو ماہ کا ویزہ دلوا سکتا ہے بلکہ اولمپکس 2012ءمیں پاکستانی سکواڈ کا حصہ بنا کر کسی بھی شخص کو لندن سمگل بھی کر سکتا ہے۔ ٹریول ایجنٹ کے اس دعوے نے اس حساس معاملے کو مزید تشویشناک بنا دیا۔ ’دی سن‘ نے اس معاملے میں یہ کہہ کر مزید سنسنی پیدا کر دی کہ اس ذریعے سے دہشت گرد بھی اولمپک ولیج میں باآسانی داخل ہو سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق اس نے برطانوی ایجنسی ایم آئی 6، برطانوی وزارت داخلہ اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کو ان تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے اور برطانوی ادارے اس حوالے سے مصروف تفتیش ہیں۔ دوسری جانب عابد چودھری (جو کہ ڈریم لینڈ نامی ٹریول ایجنسی کے لئے کام کرتا ہے) نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کسی حوالے سے اس سے ملا تھا اور اس نے دریافت کیا تھا کہ برطانوی ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بقول عابد چودھری اس نے اس سلسلے میں معاونت سے انکار کر دیاتھا۔ ایجنسی کے مالک ملک شیر نے عابد چودھری نامی شخص سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کیا اور اپنے متعلق اس کا کہنا تھا کہ وہ خرابی صحت کے باعث گزشتہ آٹھ سال سے دفتر نہیں گیا۔ ملک بشیر پر اس سے قبل 2003ءمیں انسانی سمگلنگ کا الزام لگایا جا چکا ہے۔ سرکاری سطح پر ’دی سن‘ کی جانب سے برطانوی ویزا کے حصول سے متعلق لگائے جانے والے الزامات کی مکمل تردید کی گئی ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈی جی عامر حمزہ گیلانی کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی کوئی بھی تنظیم صرف سفارشی خط جاری کرتی ہے۔ این او سی وزارتِ داخلہ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے چھان بین کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق جعلی کاغذات پر پاکستانی ٹیم کے ہمراہ کسی شخص کا لندن اولمپکس میں جانا ناممکن ہے۔ پاکستان کی اولمپک ٹیم کے کل 39 ارکان ہیں جن میں سے بیشتر پہلے ہی لندن پہنچ چکے ہیں اور ٹیم کے تمام ارکان کے پاس لندن آرگنائزنگ کمیٹی کی تصدیقی سندیں موجود ہیں۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لئے نادرا، ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی اور اسے تین روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ایک برطانوی اخبار کی جانب سے پاکستان میں کرپشن کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے پاکستانی کرکٹرز کو سپاٹ فکسنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ اس واقعہ کو چند لوگ یوں بھی دیکھتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے گرد باقاعدہ جال بنا گیا اسے پاکستانی کھلاڑیوں کی محض معصومیت‘ قرار دے کر انہیں بری الذمہ قرار نہیں دیاجا سکتا۔ یہ سکینڈل دنیا بھر میں پاکستانی قوم کے لئے ہزیمت کا باعث بنا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر نہایت حساس معاملے میں چند افراد کی کرپشن کے باعث پوری قوم کو شرمندگی اٹھانی پڑ رہی ہے۔

پاسپورٹ اسکینڈل ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب لندن میں اولمپکس کے آغاز میں محض تین روز رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر دہشت گردی کے خطرے کے باعث سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور برطانوی حکام کا دعویٰ ہے کہ اولمپک ویلج میں ان کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکے گی۔ اس پس منظر میں برطانوی اخبار کی جانب سے یہ دعویٰ کہ پاکستان میں محض چند لاکھ روپوں کے عوض کوئی بھی اولمپک ٹیم کا حصہ بن سکتا ہے یقیناً پوری دنیا کے لئے تشویشناک ہے۔ تاہم کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل ضروری ہے کہ ”دی سن “کے دعووں کا جائزہ لیا جائے۔ برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ اس کے نمائندے کو سات ہزار پاﺅنڈ (قریباً دس لاکھ) روپے کے عوض پاکستانی اولمپک ٹیم کا حصہ بنا کر لندن بھیجنے کی پیشکش کی گئی۔ یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نظر نہیں آتا۔ اس حوالے سے اولمپک ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کا بیان حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ اگر کسی طرح جعلی پاسپورٹ بنوا بھی لیا جائے تو یہ ممکن نہیں کہ ٹریول ایجنٹ برطانوی ویزا بھی دلوا دے اور لندن اولمپک کمیٹی سے تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی جاری کروا دے۔ ممکن ہے عابدچودھری نامی ٹریول ایجنٹ نے ”دی سن“ کے نمائندے سے اس قسم کی گفتگو اس سے رقم اینٹھنے کی غرض سے کی ہو یا اس کے ذریعے وہ اپنے کلائنٹ پراپنے تعلقات کا رعب جھاڑنا چا ہتا ہو۔ اگر ”دی سن“ کانمائندہ برطانوی ویزا حاصل کرلیتا یا اولمپک ٹیم کا حصہ بن جاتا تولندن اولمپکس کے حوالے سے سکیورٹی خدشات ظاہر کیے جا سکتے تھے۔ برطانوی اخبار کے دعووں کی بنیاد پر ایسا کرنا مناسب نہیں کیونکہ ویزا کے اجراءکیلئے برطانوی ادارے بھی درخواست گزار کے بارے میں اپنی پوری تسلی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ برطانوی اخبار نے اپنی کہانی میں سنسنی پیدا کرنے کیلئے پاسپورٹ سکینڈل کو لندن اولمپکس سے جوڑنے کی کوشش کی۔

ان تفصیلات کے باوجود یہ دعویٰ بظاہر درست معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی اخبار کے نمائندے کو فرضی نام پر پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ یہ صورتحال ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ نادرا ایک ایسا ادارہ ہے جسے ملک کے دوسرے اداروں کی نسبت اپنی کارکردگی اور نظام کے اعتبار سے بہت بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ادارے میں بھی کرپشن رچ بس چکی ہے۔ یہ واقعہ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ ان کی ناک کے نیچے یہ سارا کاروبار جاری ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اس واقعہ کو معمولی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی پوری طرح تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کی نشاندہی کرکے انہیں عبرتناک سزا دی جا ئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کمزور قوانین کے باعث اس قسم کے سکینڈلز میں ملوث افراد قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں تاہم یہ سب پر واضح ہے کہ چند افراد کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کس طرح دنیا بھر میں ملک وقوم کیلئے شرمندگی کا سامان بن سکتا ہے۔ اس کیس کی تفتیش محض اس ایک واقعہ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد وگروہوں کو پکڑ کر کٹہرے کے پیچھے کھڑا کیا جانا چاہیے۔ ا مید ہے اس معاملے میں حکومت وتفتیشی اداروں کی جانب سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔

مزید :

اداریہ -