عدل کی حکومت

عدل کی حکومت

  

عدل کی حکومت اور حکومتی عدل میں فرق ہوتا ہے!

 یہ پاکستان ہے ، یہاں عدالت حکومت میں ہے اور حکومت عدالت میں!

  عدل عدالت سے باہر بھی مل سکتا ہے اور حکومت بغیر حکم کے بھی قائم رہ سکتی ہے ، جیسا کہ آج کے پاکستان میں ہورہا ہے!

  عدل حکم سے بالا ہوتا ہے اور حکم عدل کے تابع ہوتا ہے ، عدل ہو تو حکم کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے لیکن عدل نہ ہو تو حکم لاٹھی بن جا تا ہے! عدل کی کسی سے عداوت نہیں ہوتی، عدل عداوت کا متضاد ہوتا ہے بلکہ عدل ہو تو عداوت ختم ہو جاتی ہے اور عداوت کا عنصر غالب ہو تو عدل متاثر ہوتا ہے ، یہ وہ نکتہ ہے جس کو حکومت وقت ثابت کرنے پر مصر ہے کہ پاکستان میں عدل کی ہو نہ ہو، عدالت کی حکومت ضرور ہے ، شاید اس لئے کہ ملک میں حکومت کی عدالت کوئی نہیں ہے اور حکومت تنہا ہو چکی ہے، اسے معلوم ہے کہ بعض معاملات میں اس کے حواری بھی ایک طے شدہ حد سے آگے اس کے ساتھ نہیں ہیں، جیسا کہ این آراو کے معاملے میں نظر آیا ، اور اب بھی پیپلز پارٹی وہ کچھ نہیں کرسکتی جو کچھ وہ چاہتی ہے خواہ صورت حال یہ ہو کہ نئے سیٹ اپ میں پیپلز پارٹی کے 22اور مسلم لیگ ق کے 23وزراءشامل ہیں!

ایک آمرعدل کی ناک مروڑ سکتا ہے لیکن ایک عام آدمی کبھی نہیں، حکومت بھی اسی تگ و دو میں رہتی ہے کہ عدل کے ناگ کو اپنی پٹاری میں بند کرلے کیونکہ انتظامی مشینری حکومت کے پاس ہوتی ہے ، لیکن اگر اس کے باوجود حکومت کو عدالت کاحکم بجا لانا پڑے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری سے بھی بڑی طاقت عدالت کے پیچھے ہے...عوام کی طاقت!

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ججوں کو بحال کرنے کا کریڈٹ بڑے طمطراق سے لیا کرتے تھے لیکن انہوں نے ججوں کے فعال ہونے کا کریڈٹ کبھی نہیں لیااور بحال جج جب فعال ہوئے تو جناب گیلانی صاحب کو ہی گھر جانا پڑ گیا ، ثابت ہوا کہ بحال عدلیہ اور فعال عدلیہ میں فرق ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے اس ملک میں عام آدمی کو انصاف ملے نہ ملے لیکن عام آدمی کو اس ملک کے خاص آدمی کے خلاف انصاف ہوتا نظر آ رہا ہے، اس کے اطمینان کے لئے یہی کافی ہے، وگرنہ توعدلیہ کے مطابق پاکستان میں غریب ہونا 302سے بڑا جرم ہے ، شاید اس لئے کہ پاکستان میں امیر ہونا اب کوئی جرم نہیں ہے تاآنکہ کوئی امیر آدمی توہین عدالت نہ کرے!

حکومت نے توہین عدالت کا قانون تو بنا لیا، کاش اب تعمیلِ عدالت کا قانون بھی بنائے، لیکن اگر نہیں بھی بناتی تو کوئی اسے روک نہیں سکتا، البتہ ٹوک ضرور سکتا ہے اور یہ ٹوکا ٹاکی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ بالغ رائے ، غالب رائے کے تابع ہوتی ہے اور میڈیا غالب رائے کا پرچارک ہوتا ہے!

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس بار حکومت کو عدالت سے تصادم مہنگا پڑے گا لیکن جو لوگ اس طرح سوچ رہے ہیں ، شاید ٹھیک نہیں سوچ رہے کیونکہ صدر زرداری کی سیاسی کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ وہ صورت حال کو کبھی ناقابل واپسی نقطے (Point of No Return)تک نہیں جانے دیتے، ججوں کی بحالی کا معاملہ ہو، این آر او کی پارلیمنٹ سے عدم منظوری ہو، ایم کیو ایم سے اتحاد ہو ، آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے تحت لانے کی کوشش ہو، میمو گیٹ ہو، وزیر اعظم گیلانی کی قربانی ہو یا پھر کوئی اور معاملہ، صدر زرداری نے ہمیشہ صورت حال کو انتہائی مقام پر جانے سے پہلے اس کے برعکس آپشن کو اٹھا یا ہے، شطرنج کے کھیل میں جب بادشاہ اپنے بچاﺅ کی تگ و دو کر رہا ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایک ایک کرکے بساط مہروں سے خالی ہوتی جاتی ہے، بادشاہ تب تک بچا رہتا ہے جب تک وہ محفوظ گھر میں رہتا ہے!

یہ بھی عجب مذاق ہے کہ عدلیہ کا ڈر صرف پیپلز پارٹی کو ہے ، اس کے اتحادیوں کو نہیں، حالانکہ وہ بھی حکومت کا حصہ ہیںاور ہر عمل میں برابر کے شریک ہیں، حزب اختلاف بھی عدلیہ سے اس طرح خوف زدہ نہیں ہے جس طرح پیپلز پارٹی ہے، بلکہ حزب اختلاف تو ایک لحاظ سے عدلیہ کی ڈھال بنے کھڑی ہے، تو کیا عدلیہ بھی حزب اختلاف کی ڈھال بنے گی!

کرپشن پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک ہے، باقی ہر مسئلہ دونمبر ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ اس ملک میں کسی کی کرپشن ثابت کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا آسان کسی کو کرپٹ کہنا ہے، اسی لئے کرپشن انتخابی نعرہ بن چکا ہے ، انتخابات ہو بھی گئے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی بس کچھ اور مسائل کرپشن کے مسئلے کی جگہ لے لیں گے، یوں سمجھئے کہ کرپشن کا مسئلہ دوسرے یا تیسرے نمبر کا مسئلہ رہ جائے گی ، عمران کا آ جانا ہی کرپشن کے بھاگ جانے کے لئے کافی ہوگا، جس طرح کبھی مشرف کا آنا کرپشن کا جانا تصور کیا جا تا تھا، مشرف چلا گیا ، کرپشن نہ گئی ، کیا عمران کے آنے سے کچھ فرق پڑے گا...... عدل کی حکومت اور حکومتی عدل میں فرق ہوتا ہے!

مزید :

کالم -