نئی تجارتی پالیسی میں پیداواری لاگت کو کم کرنے پر توجہ دی جائے

نئی تجارتی پالیسی میں پیداواری لاگت کو کم کرنے پر توجہ دی جائے

  

اسلام آباد (پ ر) نئی تجارتی پالیسی میں برآمد کرنے والی صنعتوںکی پیداواری لاگت کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے تا کہ صنعتی پیداوار بہتر ہو اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدریاسر سخی بٹ نے حکومت کو نئی تجارتی پالیسی کیلئے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران، بجلی، گیس اور تیل کی مہنگی قیمتیں، نئی سرمایہ کاری کیلئے مہنگے قرضے ، ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے میں حکومت کا عدم تعاون ، ناکافی انفراس ٹریکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی اور امن و امان کی غیر تسلی بخش صورت حال وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے صنعتی ترقی کو مشکلات کا سامنا ہے۔صدر آئی سی سی آئی یاسرسخی بٹ نے کہا کہ حکومت نئی تجارتی پالیسی میں ان تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے تا کہ تیز رفتار صنعتی ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں صنعتی ترقی کے بغیرپاکستان کے لئے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے جو 1960کی دہائی میں ترقی پذیر ممالک میں شمار ہوتا تھا لیکن صنعتی ترقی پر توجہ دے کر کوریا آج دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور سالانہ 334ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت صنعتکاروں کو ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے میں کوئی خاص مدد فراہم نہیں کر رہی اور صنعتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی و مشینری کی تنصیب کیلئے خود اپنی کوششوں اور اپنے خرچے پرباہر سے ماہرین منگوانے پڑتے ہیں جس وجہ سے ان کیلئے کاروبار کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے کہا کہ باصلاحیت اور وافر افرادی قوت کی دستیابی کے باوجود پاکستان میں صنعتوں کو ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہے۔ لہذا انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں چیمبروں کے اشتراک سے ہنر کی ترقی اور تربیت کے پروگراموں کا اجراءکیا جائے تا کہ صنعتوں کو تربیت یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت آسانی سے مہیا ہو سکے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت پورے ملک میں صنعتوں کی تکنیکی اور دوسری ضروریات معلوم کرنے چیمبروں کے تعاون سے ضروری سروے منعقد کرائے تا کہ ان ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مطلوبہ اصلاحی اقدامات اٹھا کر صنعتی ترقی کے عمل کو مزید آسان بنایاجا سکے۔انہوں نے کہا کہ برآمد کرنے والی صنعتوں کیلئے ضر وری خام مال کی درآمد پرڈیوٹی کو بھی کم کیا جائے جس سے برآمدات سستی ہونے سے بہتر ترقی کریں گی۔  انہوں نے کہا کہ غیر ممالک میں واقع پاکستانی کمرشل سیکشنزوہاں کی مارکیٹوں میں پاکستان کیلئے تجارت اور برآمدات کو بڑھانے کے مواقعوں کے بارے میں تجزیاتی روپورٹس تیار کریں اور ان رپورٹس کو چیمبروں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ تاجر برادری ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی کوششیں تیز کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس کی تیاری میں پاکستان کے بیرون ملک تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں ۔

مزید :

کامرس -