پرانی گاڑیوں کی درآمد سے حکومت کو کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 14ارب روپے کا نقصان

پرانی گاڑیوں کی درآمد سے حکومت کو کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 14ارب روپے کا نقصان

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) گزشتہ سال بڑے پیمانے پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے حکومت کو چودہ ارب روپے نقصان ہوا۔ آٹو سیکٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12ماہ کے دوران ملک میں 59ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں، جس سے حکومت کو کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 14ارب روپے نقصان کا سامنا رہا۔ جبکہ گاڑیوں کے پرزہ جات بنانے والی وینڈنگ انڈسٹری کو سیلز کی مد میں 20ارب روپے خسارہ ہوا۔ وینڈرز کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار میں فی گاڑی 3سے 4لاکھ روپے مالیت کے پرزہ جات کی خریداری کی جاتی ہے، جو استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں سے شدید متاثر ہوئی۔ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ حکومت بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے والی مقامی آٹو انڈسٹری کو بند کرکے ملک کو استعمال شدہ گاڑیوں کا کباڑ خانہ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ جون میں 8ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں، جولائی میں اس کا حجم 9ہزار تک پہنچگیا جو کہ مجموعی گاڑیوں کی طلب کا 30فیصد ہے۔

مزید :

کامرس -