شیخ یونس قبرستان میں کھدائیاں روکی جائیں: جمال زحالقہ

شیخ یونس قبرستان میں کھدائیاں روکی جائیں: جمال زحالقہ

  

 یافا(ثناءنیوز )اسرائیلی کنیسٹ کے عرب رکن جمال زحالقہ نے مقبوضہ فلسطین کے شہر یافا کے تاریخی قبرستان شیخ مونس میں تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی کھدائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبروں کو اکھاڑے جانے سے مقدس مقام کی بے حرمتی اور مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔سنہ 1948 سے اسرائیلی زیر تسلط فلسطین کے شہر یافا کے اس معروف قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کیخلاف یہ بیان اسرائیلی پارلیمان کے عرب رکن جمال زحالقہ نے تل ابیب یونیورسٹی کے چیئرمین کے نام اپنے خط میں دیا۔اسرائیل کی تعمیراتی کمپنی شیکون وبینوی نے تل ابیب یونیورٹی کے لیے بڑے پیمانے پر اس قبرستان میں کھدائیاں شروع کردی ہیں، ان کھدائیوں میں قبرستان کی متعدد قبریں اکھاڑ پھینکی گئی ہیں، تل ابیب یونیورسٹی کے مطابق یہاں پر طلبہ کے لیے ہوسٹل اور نئے تجارتی مراکز تعمیر کیے جائیں گے۔اسرائیلی رکن پارلیمان نے اپنے خط میں کہا کہ یہ کھدائیاں قبرستان اور اس کی تقدیس کی شدید بے حرمتی ہیں۔ الاقصی فاو¿نڈیشن کی رپورٹ کے مطابق ان کھدائیوں کے سبب قبروں کے نشانات بھی مٹ گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مردوں کی ہڈیاں بکھری پڑی ہیں۔ فوت شدگان کے سینے کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں سب کو نظر آرہی ہیں۔جمال زحالقہ نے اپنے خط میں اسرائیلی وزیر تعلیم سے بھی مسلمانوں کی قبریں اکھاڑے جانے پر اپنا موقف دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر یہی سب کچھ دنیا میں کسی بھی جگہ کسی یہودی قبرستان کے ساتھ کیا جاتا تو ان کا کیا موقف ہوتا۔انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ اتھارٹیز سے مطالبہ کیا کہ قبرستان کے اطراف سکیورٹی باڑ اور دیوار تعمیر کی جائے تاکہ اس قبرستان کو مزید بے حرمتی سے بچایا جا سکے۔

مزید :

عالمی منظر -